ہماری جمہوریت کمزور کیوں ہے
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 25 / نومبر / 2025
ہماری سیاست اور ہمارے ملکی نظام پر ایک جمود طاری ہے۔ لگ بھگ تمام سیاسی جماعتوں کے طریقے ایک جیسے ہیں اور کسی بھی جماعت کے پاس کوئی الگ یا منفرد منشور نہیں ہے۔
جماعت اسلامی(جو سیاسی سے زیادہ مذہبی جماعت ہے) کے علاوہ سب جماعتوں پر موروثی خاندانی قیادت رہتی ہے۔ کسی بھی جماعت کی باقاعدہ رکنیت سازی ہوتی۔ نہ جماعت کے اندر حقیقی انتخابات کروائے جاتے ہیں۔ کسی بھی جماعت میں کوئی کارکن جتنا بھی قابل اور باصلاحیت کیوں نہ ہو وہ کبھی بھی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا، نہ وہ ملک کا چیف ایگزیکٹو بن سکتا ہے۔ سوائے اس کے کہ کبھی کسی زردار کو کسی راجہ یا گیلانی کی وقتی ضرورت پڑ جائے۔
اس خاکسار نے 2007 میں میاں نواز شریف صاحب کے لندن فلیٹ میں میاں صاحب سے گزارش کی تھی کہ آپ بطور منتخب وزیراعظم مضبوط رہنا چاہتے ہیں تو اپنی وزارت عظمی کی بنیاد کو مضبوط کریں۔ اور اس بنیاد میں جماعتی کارکنوں اور بلدیاتی نمائندوں کا کردار ہوتا ہے۔ اگر سیاسی جماعت حقیقی رکنیت سازی کرے، جماعت کے اندر باقاعدگی سے انتخابات کروائے جائیں، اہل اور باصلاحیت لوگوں کو کام کرنے کے مواقع دئیے جائیں تو بلاشبہ جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔ اس طرح ملک کا وزیراعظم طاقتور ہوتا ہے کیونکہ جو عمارت مضبوط بنیادوں اور ستونوں پر قائم ہوتی ہے اسے گرانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے سیاستدانوں نے کبھی بھی حقیقی جمہوریت کے لیے کام نہیں کیا، نہ اپنی جماعتوں میں کبھی حقیقی انتخابات کروائے ہیں۔
کسی سیاسی جماعت کے پاس عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق کوئی منشور ہے نہ کبھی کسی نے اپنے منشور پر عمل کیا ہے۔ جبکہ عام لوگوں کو شاید علم بھی نہ ہو کہ منشور کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔ سارا زور شخصیات پر اور شخصی مقبولیت پر ہے۔ کسی ایک شخصیت کے نام پر جماعت بنتی ہے اور اس کے بعد ملک کے کونے کونے سے جیتنے والے امیدوار ڈھونڈ کر جماعت میں شامل کیے جاتے ہیں۔ اس طرح اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچنے کی کوشش ہوتی ہے۔ پھر وہی جیتنے والے لوگ کسی دوسری جماعت میں شامل ہو کر اس کے ساتھ اقتدار میں شریک بن جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سارے ایسے ہوتے ہیں جن کے رابطے طاقتور حلقوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اور انہی کے اشاروں پر وہ اپنی اگلی جماعت کا انتخاب کرتے ہیں۔
اس طرح تو ملک میں کبھی بھی جمہوریت نہیں آ سکے گی بلکہ جمہوریت کے نام پر جمہوریت کا مذاق اڑایا جاتا رہے گا۔ کچھ عرصہ سے پاکستان کو ہائبرڈ نظام میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ مطلب پیٹرول کسی اور ٹینکی میں ہوتا ہے جہاں سے کسی سیاسی جماعت کی بیٹری کو تھوڑا چارج کر کے چلا دیا جاتا ہے۔ دراصل اس خطے برصغیر پر ہزاروں سال کی غلامی نے لوگوں کے رویے ایسے بنا دئیے تھے جو بادشاہت اور رعایا کے درمیان ہوتے ہیں۔ مگر اسی خطے سے آزاد ہونے والے بھارت نے جمہوریت کا سفر جاری رکھا ہوا ہے۔ اور اب بنگلا دیش بھی اس راہ پر کافی حد تک کامیابی سے چل پڑا ہے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ پاکستان اس راستے میں چند قدم چل کر تھک جاتا ہے۔ سیاسی قیادت بھی بارہا مار کھا کر بھی نہیں سیکھ پائی ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو صاحب ایک بڑے ویژن والے لیڈر تھے جن کی قیادت میں مسلمان ممالک بھی مل بیٹھے تھے اور آپس میں تعاون بڑھا دیا تھا۔ بھٹو صاحب نے پاکستان کے نظام کو عوامی شکل میں بدل دیا اور ایک بہترین متفقہ آئین بھی دے دیا مگر پھر کیوں کر اقتدار اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے؟ وجہ ایک ہی تھی کہ اپنی جماعت کو جمہوری جماعت بنانے کی بجائے اپنی شخصیت کے سحر میں مبتلا رکھا۔ جب مشکل میں آئے تو پیچھے سے جماعت تتر بتر ہو گئی۔ اس ملک کے عوام میں بھٹو کے دیوانوں کی کمی نہ تھی۔ کوڑے کھانے اور خود کو آگ تک لگانے والے جیالے موجود تھے۔ مگر قیادت کوئی نہیں تھی۔ اگر محترمہ نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو سامنے نہ آتیں تو پیپلزپارٹی وہی ختم ہو سکتی تھی۔
پھر جب ایک وقت میں میاں نواز شریف بھاری اکثریت سے جیت کر وزیراعظم بنے تو اس وقت ان کا بھی خوب طوطی بولتا تھا مگر جب وہ جیل گئے اور جیل سے منت سماجت کر کے اپنے عربی دوستوں کی سفارش سے سعودی عرب گئے تو پیچھے سے جماعت کا شیرازہ بکھر گیا۔ 2002 کے انتخابات میں ان کی جماعت دو درجن سیٹوں تک محدود ہو گئی تھی۔ اسی طرح بینظیر صاحبہ کی غیر موجودگی میں پیپلزپارٹی بھی کچھ نہ کر سکی تھی اور اب عمران خان کے بغیر پی ٹی آئی کا بھی کوئی نام لیوا نظر نہیں آتا۔ ابھی کل تک جو جماعت بغیر انتخابی نشان کے بہترین نتائج دے رہی تھی، آج ضمنی انتخابات میں کسی سیٹ پر اس کا نام بھی نظر نہیں آیا ہے، کیوں؟
کیونکہ لوگوں کو پی ٹی آئی کے منشور کا علم ہے نہ جماعت کا کوئی ڈھانچہ ہے۔ یہ سب عمران خان کا سحر تھا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو اور عمران خان دو ایسی شخصیات سیاست میں آئیں، اگر یہ چاہتے تو جمہوریت کو مضبوط کر سکتے تھے۔ اس کا طریقہ یہی تھا کہ اپنی جماعتوں کو مکمل جمہوری بناتے، رکنیت سازی کرتے، باقاعدگی سے جماعتی انتخابات کرواتے اور نیچے سے نئی قیادت کو اوپر لاتے۔ اس طرح ان کی جماعتوں میں طاقت آنا تھی اور وہ طاقت ان کے مشکل وقت میں کام آنا تھی۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا۔ شاید ہماری سیاسی قیادت اپنے کارکنوں اور عوام پر اعتبار نہیں کرتی یا پھر قیادت کے اوپر آمریت کا آسیب ہوتا ہے، جو انہیں حقیقی جمہوریت کی طرف قدم نہیں اٹھانے دیتا ہے۔
اب عوام کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ کب تک شخصیات کے سحر میں مدہوش رہیں گے۔ عوام کو سیاسی اور جمہوری سوچ اپنانی چاہیے۔ وہ جس جماعت میں رہیں وہاں سوال اٹھائیں، اپنی قیادت کو رکنیت سازی، جماعتی انتخابات اور اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ تاکہ پاکستان جمہوری طور پر مضبوط ہو اور عوام بااختیار ہوں۔