آسٹریلوی سینیٹ میں ’برقعہ‘

آسٹریلیا کی سینیٹ میں برقعہ پہن کر برقعے پر پابندی  کا مطالبہ کرنے والی ایک خاتون سینیٹر کی رکنیت ایک ہفتے کے لیے معطل کردی گئی ہے۔ مسلمان سینیٹرز نے اسے نسل پرستی کا مظاہرہ اور شرمناک قرار دیاجبکہ سینیٹ نے  کثرت رائے سے پالین ہنسن کے اقدام لوگوں  کے مذہب پر تنقید  اور مذاق اڑانے کے مترادف کہا۔   قرار داد کے مطابق یہ مسلم آسٹریلیوی شہریوں کے لیے عدم احترام کا رویہ   تھا۔

یہ ایک ایسے اعتدال پسند معاشرے کا  رد عمل ہے جو اپنے ملک میں آباد ہونے والے تمام عقائد  کو ان کے رنگ و نسل سے قطع نظر احترام فراہم کرتا ہے اور اس بنیادی اصول کی خلاف ورزی کو کسی بھی سطح پر قبول نہیں کیا جاتا۔ آسٹریلیا میں  ابھی تک برقعہ پہننے  پر پابندی نہیں ہے لیکن متعدد یورپی ملکوں میں یا تو یہ پابندی لگائی چکی ہے یا  اس پر غور کیا جارہا ہے۔ اگرچہ  پابندی لگانے والے ممالک فرانس و سوٹزرلینڈ میں بھی اس سوال پر گرما گرم بحث ہوتی رہی ہے لیکن کثرت رائے سے فیصلہ ہونے کے بعد اسے قبول  کرلیا گیا  ہے۔ ان ملکوں میں آباد مسلمان گروہوں نے اگرچہ  تہ دل سے ایسے کسی فیصلے کو قبول نہیں کیا اور وہ اسے اب بھی  لباس چننے یا عقیدے کی انفرادی آزادی کے خلاف  سمجھتے ہیں۔

اس پس منظر میں آسٹریلیا میں  گزشتہ روز پیش آنے والے واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ  جدید کثیر الثقافتی معاشروں کو کن مسائل کا سامنا ہے۔ اور کیا  پابندیاں لگانے سے ان مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے؟ اس سوال کا کوئی آسان جواب نہیں ہے۔ ہمیں مغربی جمہوریت ہی نے سکھایا ہے کہ ہر شخص کو  اپنی رائے رکھنے، اپنی مرضی کے عقیدے پر عمل کرنے  اور اپنی مرضی کا لباس پہننے کی آزادی حاصل ہے۔   مغربی ممالک میں آباد ہونے والا کوئی بھی مسلمان طبقہ بدقسمتی سے یہ سنہری اصول اپنے اصل معاشروں سے  سیکھ کر ان ممالک میں وارد نہیں ہؤا۔ اس پس منظر میں یہ سوال اور بھی دلچسپ ہوجاتا ہے کہ اگر کسی مسلمان معاشرے میں بنیادی یا انفرادی آزادیوں کا کوئی تصور ہی موجود نہیں ہے تو وہ  ترک وطن کرکے مغرب میں آباد ہونے کے بعد ان آزادیوں سے بہرور ہونے پر مقامی معاشرے کا شکریہ  ادا کریں یا انفرادی  آزادی کے نام پر ایسی روایات و طریقے مغرب میں مروج کرنے  بلکہ مسلط کرنے کا طرز عمل اختیار کریں جنہیں درحقیقت  سب جگہ سے ختم  ہونا چاہئے ۔ کیوں کہ ان میں سے بعض طریقے انسانوں کے درمیان مساوی تعلق و رشتے کی بنیاد کو چیلنج کرتے ہیں۔

آسٹریلین سینیٹ میں پیش آنے والے واقعہ کو ایک دوسرے زاویے سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔   یہ حرکت ایک انتہاپسند سفید فام سینیٹر سے سرزد ہوئی اور   اسے اسی ایوان کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔  پہلے تو   پالین ہنسن  کی طرف سے  برقعے پر پابندی کا بل پیش کرنے کی اجازت ہی نہیں دی گئی کیوں کہ دیگر سینیٹرز نے اسے مسترد کردیا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ  ہے کہ آسٹریلوی معاشرہ ابھی تک یہ مانتا ہے کہ لباس کے معاملے میں ہر  شخص کو فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔   ہنسن  بل پیش کرنے میں ناکام ہونے کے بعد ایوان سے اٹھ کر چلی گئیں اور تھوڑی دیر میں برقعہ پہن کر واپس آئیں۔ جب اس پر تند و تیز تنقید کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ   ’ اگر آپ مجھے برقعہ پہننے سے روکنا چاہتے ہیں تو اس لباس پر پابندی لگانے کا قانون منظور کیا جائے‘۔ اصولی طور سے ان کی دلیل قابل غور ہونی چاہئے کیوں  کہ اگر کوئی آسٹریلوی قانون برقعہ پہننے کو  غلط نہیں سمجھتا تو یہ بھی کہیں نہیں لکھا کہ اگر یہ حق صرف مسلمان خواتین کے لیے ہوگا۔، کوئی سفید فام غیرمسلم عورت اگر برقعہ پہنے گی تو وہ ’شرمناک‘ اور ناقابل قبول عمل ہوگا۔ آسٹریلیا کی سینیٹ نے البتہ اس وقوعہ کو اس زاویے سے نہیں دیکھا۔

تاہم اگر یہ تصور کرلیا جائے کہ سینیٹ میں برقعہ پہن کر آنے والی کوئی خاتون مسلمان ہوتی تو کیا اس کے خلاف بھی  ایسا ہی سخت طرز عمل دیکھنے میں آتا۔ اور کیا مسلمان سینیٹر مہِرین فاروقی ،   کسی مسلمان  سینیٹر کو بھی برقعہ پہننے پر نسل پرست سینیٹر  قرار دے کر اس  عمل کو نسل پرستی کا مظاہرہ  قرار دیتیں؟ یا دوسری مسلمان سینیٹر   فاطمہ پیمن کسی  مسلمان برقعہ پوش سینیٹر کو بھی ویسے ہی  ’شرمناک رویہ‘ کا حامل قرار دیتیں جیسا کہ انہوں نے سوموار کے اجلاس میں ہنسن کے بارے میں کہا۔ تاہم اس  صورت میں یہ دیکھنا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوتا کہ کیا آسٹریلوی سینیٹر   کسی مسلمان سینیٹر کی طرف سے ایک قدامت پسندانہ سماجی علامت کے استعمال کو اسی سختی سے مسترد کرتے جیسے  ہنسن کے طریقہ کو مسترد کیا گیا؟ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ان سب لوگوں کا رویہ کسی مسلمان سینیٹر کے برقعہ پہننے کی صورت میں قطعی طور سے مختلف ہوتا۔ یہی جواب درحقیقت اس معاملہ کی نزاکت اور پیچیدگی کو سامنے لاتا ہے۔

بظاہر یہ معاملہ  غیر مسلم معاشروں کی قوت برداشت یا انفرادی آزادی کے بارے  میں ہے  لیکن یہ درحقیقت ان ملکوں میں دو دراز ممالک سے آکر آباد ہونے والے مسلمانوں کے لیے بنیادی چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔  اس چیلنج کی  نوعیت پیچیدہ اور متنوع ہے۔ اس میں لڑکیوں کے ختنے کرنے جیسی مکروہ رسم سے لے کر برقعہ پہننے تک کا سماجی استحصالی رویہ شامل ہے۔ مسلمان گروہ عام طور سے ان معاملات میں کوئی واضح اور متوازن  رائے قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔  اس کے برعکس آج بھی متعدد  مذہبی رہنما مغربی ممالک میں مقیم  ہونے کے باوجود ایسی گفتگو سے پرہیز نہیں کرتے جومقامی روایات، اصولوں اور سماجی و سیاسی حساسیات کے خلاف  ہوتی ہیں۔

 اسی ماہ کے شرو ع میں   تیس سال تک اٹلی میں رہنے والے امام  ذوالفقار خان کو وزیر اعظم گیورگیا میلونی کے حکم پر ملک بدر کردیا گیا ۔ انہوں نے جمعہ کے خطبہ میں کہا تھا کہ’ کافروں سے مقابلہ کرنا مسلمانوں پر فرض ہے ورنہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا‘۔  ایسے علمائے دین کو نہ یہ خبر ہے کہ وہ کون سا پیغام کسے پہنچانا چاہتے ہیں اور  نہ یہ اندازہ ہے کہ اس  کے مقامی معاشروں میں پیدا ہونے والی مسلمانوں کی نسلوں پر کیسے منفی  اثرات مرتب ہوں گے۔   اٹلی سے پاکستان جانے والے یہ نام نہاد امام  اب زیادہ سینہ زوری سے ’کافروں‘ کو جہنم رسید کرنے کا پیغام عام کریں گے لیکن وہاں حکومت کو ایسے بیانات  کی سنگینی کا کوئی احساس نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی انتہاپسندی کے مقابلے میں پاکستانی ریاست بیشتر اوقات بے بس اور مجبور دکھائی دیتی ہے۔ اور سماج میں شدت پسند عناصر قانون روندنے پر آمادہ رہتے ہیں۔

اسلام قبول کرنے والے ایک فرانسیسی  ماہر نے ایک بار پردے کی تعریف کرتے ہوئے دلچسپ مشاہدہ بیان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا  کہ ’اگر کوئی خاتون برقعہ پہن کر پیرس کی شاہراہ شانزے لیزے پر چہل قدمی کرے تو یہ ایسی ہی ’فحاشی‘ سمجھی جانی چاہئے جیسا کہ کوئی خاتون بکنی پہن کر لاہور کی مال روڈ پر خراماں خراماں  جارہی ہو‘۔  اس وضاحت سے دیکھا جاسکتا ہے کہ  غلط لباس کا چناؤ بھی بعض اوقات  مسائل پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے خواہ اس لباس میں کوئی قباحت نہ بھی موجود ہو۔ اس  حوالے سے یورپ یا دیگر مغربی ممالک میں برقعہ پہننے کو ’انفرادی حق‘ قرار دے کر اس کے لیے دلائل  لانے والے مسلمان لیڈروں کو ضرور سوچنا چاہئے کہ وہ کیسے استحصال کی بدترین صورت کو عقیدے کا لبادہ پہنا کر مسلمان خواتین کے بنیادی حقوق سے انکار کا سبب بن رہے ہیں۔ خاص طور پر  مغرب میں آباد بعض مسلمان خاندان پانچ چھے سال کی معصوم بچیوں کو  حجاب پہنانے پر اصرار کریں اور خواتین کو مجبور کیا جائے کہ  برقعہ پہننے میں ہی اسلام کی سربلندی ہے تو  یہ تضادات  سماجی   تعصبات  کو جنم دیں گے۔

ترک وطن کرکے مغربی ممالک میں آباد ہونے والے بیشتر لوگ اپنی مرضی و خواہش سے ان ممالک میں آکر  آباد ہوئے ہیں۔ میزبان  معاشروں کا یہ تقاضا جائز ہے کہ نئے سماج کی روایات کا احترام کیا جائے ۔ مسلمان  نفرت، تقسیم اور گروہ بندی کی بجائے محبت  ویگانت کی بات کریں۔ عورتوں کو بھی مردوں کے مساوی سمجھا جائے اور بعض گروہوں کو محض عقیدہ کی بنیاد پر قابل نفرت نہ  قرار دیا جائے۔

اسی طرح یہ تقاضا کرنا بھی  قابل فہم ہے کہ مقامی معاشروں میں کام کرتے ہوئے  اپنے فرائض سے کوتاہی نہ کی جائے۔  دنیا کا کوئی عقیدہ کسی شخص کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ کسی معاشرے کے قوانین  اور مسلمہ اصولوں کو ماننے  سے انکار کرے اور خود کو اس معاشرے کا باعزت شہری بھی منوانا چاہے۔ ناروے میں کچھ عرصہ پہلے ایک کمپنی کا اہم عہدیدار کسی دوسرے شہر سے اوسلو  اسٹیشن پہنچا اور وہاں سے ٹیکسی لے کر ائیرپورٹ روانہ ہؤا جہاں سے اسے جہاز پکڑ کر  کسی دوسرے ملک  ایک ہم میٹنگ  کے لیے جانا تھا۔ اتفاق سے ٹیکسی ڈرائیور مسلمان  تھا۔ اس نے مسافر اٹھایا مگر نصف راستے میں  گاڑی روک کر  کہا کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے۔ وہ نماز ادا کرکے ہی آگے جائے گا۔ مسافر نے اسے اپنی مجبوری بتائی لیکن ٹیکسی ڈرائیور کا دعویٰ تھا کہ ’کوئی مجبوری اللہ کے حکم سے بڑھ کر نہیں ہے‘۔

ایسا طرز عمل نہ صرف  مسلمانوں اور اسلام کی منفی تصویر عام کرتا ہے بلکہ اسلام کی یہی مسخ شدہ تفہیم   سماجی تناؤ میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ آسٹریلیا کی سینیٹ میں برقعہ پوش سینیٹر کے خلاف منظور ہونے والی قرار داد اگر انفرادی آزادی کے حوالے سے اہم ہے تو  اس سے مسلمانوں کو یہ سبق بھی سیکھنا چاہئے کہ  کوئی حق فرائض کی ادائیگی کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ اچھے شہری کے طور پر انہیں قانون کی پابندی کرنےاور انسان دوست بننے  کی ضرورت ہے۔