قومی تاریخ اور ورثہ کی بحالی
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- بدھ 26 / نومبر / 2025
کسی بھی قوم کی فکر، تشخص اور تہذیبی روایات ہی اس قوم کی شناخت بناتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنے اسلاف کی اقدار روایات اور تہذیب و ثقافت سے کنارہ کشی کر لیتی ہے تو اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہے۔ اور صورت حال تم ثابت و سیارہ والی آ بنتی ہے۔
یہ بات انتہائی خوش آ ئیند ہے کہ ہماری ان اقدار کی بحالی اور تہذیب و ثقافت کو پروان چڑھانے کےلئے قومی تاریخ و ورثہ اور ثقافت کی باقاعدہ وزارت موجود ہے، جس کے زیر انتصرام بہت سے ادارے اسی کام کے لئے مخصوص ہیں۔ اس وزارت کے روح رواں وفاقی وزیر اورنگ زیب خان کھچی ہیں جن کا تعلق جنوبی پنجاب کے زرخیز خطے میلسی سے ہے۔ کچھی خاندان ہمیشہ سے سیاست و حکومت میں اہم حیثیت کا حامل رہا ہے۔ قومی تاریخ اور ورثہ و ثقافت کی وزارت میں اکادمی ادبیات پاکستان، نیشنل بک فاؤنڈیشن، پنجاب کونسل آ ف آرٹس، ایوان اقبال اور اقبال اکادمی جیسے ادارے شامل ہیں۔
کچھ عرصہ قبل ان میں سے بیشتر اداروں کو ان کی زبوں حالی کی وجہ سے حکومت کی طرف سے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔ مگر شومئی قسمت مرحوم سینٹر اور ادب دوست عرفان صدیقی اور چند دیگر اراکین کی دلچسپی اور کاوشوں سے حکومت کو یہ فیصلہ تبدیل کرنا پڑا۔ ان اداروں کی بحالی اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی یقین دہانی دلانے میں وفاقی وزیر اورنگ زیب کھچی کا بھی اہم کردار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ خود بھی ان اداروں کی بحالی کے لئے خاصے فعال ہیں۔ اور ان اداروں کو فعال دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسلام آباد میں ہوتے ہیں تو قومی ادبی اداروں کو فعال اور سرگرم رکھتے ہیں۔ لاہور ہوں تو ایوان اقبال، اقبال اکادمی اور قائد اعظم اکادمی کو جگائے رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان اداروں کے اجلاس باقاعدگی سے ہوں۔ مشاہیر کے ایام شاندار طریقوں سے منائے جائیں۔ تعلیمی اداروں میں باوقار تقاریب کا اہتمام ہو۔ علامہ اقبال رح کے فارسی کلام کا اردو ترجمہ کرا کے ان کے پیغام کو عام کیا جائ،ے تو پھر ہی ان اداروں کی افادیت نظر آ سکتی ہے۔
تمام قومی اداروں کے بورڈ آف گورنرز کا کردار اور کارکردگی بھی مزید بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ ایک ملاقات میں انہوں نے انکشاف کیا کہ تمام اداروں کے پاس فنڈز موجود ہوتے ہیں مگر یہ انہیں استعمال کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اگر یہ تمام ادارے فنڈز کا صحیح استعمال کریں تو کبھی بھی مسائل کا شکار نہ ہوں۔ ان کی ذاتی دلچسپی اور ہر ادارے پر گہری نظر کی وجہ سے اب اکادمی ادبیات پاکستان اور نیشنل بک فاؤنڈیشن فعال ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی صدر نشین ڈاکٹر نجیبہ عارف ملک کے اہم شہروں میں ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں سے مکالمہ کررہی ہیں۔
نیشنل بک فاؤنڈیشن کے اہم ڈی ڈاکٹر کامران جہانگیر شہر اقتدار میں کتاب میلہ سجائے ہوئےہیں۔ کراچی، لاہور، اسلام آ باد اور ملتان میں بھی کتاب میلوں کی روایت چل پڑی ہے۔ اور نسل نو کتاب کی ظرف راغب نظر آ رہی ہے۔ نسل نو کو کتاب سے جوڑنے، کتاب شناس بنانےاور موبائل سے دور رکھنا بھی وقت کی ضرورت اور ہمارے قومی ورثہ کے وجود کو زندہ رکھنے کےلئے ضروری ہے۔
اکادمی ادبیات پاکستان مختلف صوبوں کے ادیبوں کے بین الصوبائی دوروں کے منصوبے بھی شروع کررہی ہے تاکہ ہر صوبے کے ادب زبان اور ادیب کی شناخت ممکن ہو۔ اس منصوبے کے تحت اکادمی ادبیات پاکستان نے پچاس سال سے کم اہل قلم کے لئے اسلام آ باد کے رائٹر ہاؤس میں ایک دس روزہ اقامتی منصوبہ کا اعلان بھی کیا ہے جس میں تمام صوبوں کے اہل قلم کو ادبی مرکز کی علمی وادبی شخصیات سے ملنے اور ادبی سرگرمیوں میں شامل ہونے کا موقع ملے گا۔
وفاقی وزیر اورنگ زیب خان کھچی کا کہنا ہے کہ مراکز سے دور شہروں کے دانشوروں، ادیبوں، شاعروں اور اہل قلم کو قومی دھارے میں شریک کرنے سے ہی پسماندگی اور احساس محرومی کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے جنوبی پنجاب کے خطے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ان کی خواہش ہے کہ حکومت جنوبی پنجاب کے لئے خصوصی فنڈ کا بھی اجرا کرے تاکہ اس خطے کے مسائل حل ہو سکیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے مستحق اہل قلم کو دئے جانے والے وظائف کا دوبارہ اجرا بھی وفاقی وزیر اورنگ زیب کچھی اور اکادمی ادبیات پاکستان کی کاوشوں سے ممکن ہو سکا ہے، جس سے کئی گھرانوں کے چراغ روشن ہیں۔ اور مستحق اہل قلم دعاگو ہیں۔
جناب اورنگ زیب کچھی پاکستان میں ایک قومی میوزیم کے قیام کے لئے بھی کوشاں ہیں جہاں قومی ورثے کو محفوظ کیا جا سکے اور جو ملکی اقدار اور ثقافتی روایات کا عکاس ثابت ہو سکے۔ یہ بات دلچسپی کا باعث ہے کہ اورنگ زیب کچھی صاحب کی تینوں نسلوں کا تعلق ایچی سن جیسے روایتی اور تاریخی تعلیمی ادارے سے ہے۔ ان کے والد۔ وہ خود اور ان کے بچے اس اہم تعلیمی ادارے کے
طالب علم رہے ہیں۔
ہر وقت حکومت ہر تکیہ کرنے کی بجائے اپنی مدد آ پ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ بیس سال سے حکومت کی طرف سے بلتستان، خیبر پختونخوا ہ، ڈیرہ اسماعیل خان اور چند دیگر مضافاتی علاقوں کو ملنے والے تعلیمی وظائف بند تھے۔ انہوں نے ایچی سن ایلومینائی کے مخیر اراکین کے تعاون سے پچاس کروڑ کا فنڈ اکٹھا کیا ہے۔ جو ان پسماندہ علاقے کے ہونہار طلبہ میں تقسیم کیا جائے تاکہ ان علاقوں کے اعلی دماغ بھی ملکی وسائل سے بہرہ مند ہو سکیں۔ یہ مثال پاکستان کے بدحال اور زبوں حال قومی اداروں کے احیا اور بحالی میں بھی ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ تاکہ یہ ادارے بھی کماؤ پوت ثابت ہوں اور اپنا مقام آ پ بنائیں۔