نواز شریف کا ایک اور ’نعرہ حق‘
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 27 / نومبر / 2025
مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے کہاہے کہ 2018 میں عمران خان کو اقتدار دلانے والے عناصر، ان سے بھی بڑے مجرم ہیں کیوں کہ وہ ایک ایسی حکومت لانے میں شامل تھے جس نے ان کے بقول ملک کو تباہی کے راستے پر ڈال دیا۔ تاہم نواز شریف نے ان ذمہ داروں کا احتساب کرنے کا مطالبہ نہیں کیا جنہیں وہ عمران سے بھی بڑا مجرم قرار دے رہے ہیں۔
موجودہ انتظام میں مرکز اور پنجاب کا اقتدار لینے کے لیے نواز شریف کی پارٹی نے عوامی حق انتخاب پر جو سمجھوتے کیے ہیں، شاید ان کی وجہ سے عمران خان کو اقتدار میں لانے والے لوگوں کو بڑے مجرم قرار دینے کے باوجود نواز شریف ان کے احتساب کا مطالبہ کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ یوں بھی 1999 میں اپنی حکومت کا تختہ الٹنے اور ملک بدر کرنے کے ذمہ دار پرویز مشرف کو سزا دلوانے کے شوق میں نواز شریف 2017 میں حکومت سے محروم ہوئے تھے۔ شاید یہ یاد بھی ابھی ان کے حافظے میں تازہ ہو۔ ورنہ یہی محسوس ہوتا ہے کہ نواز شریف ماضی کو بھول کر آگے بڑھنے اور موقع ملنے پر اصولوں کو نظرانداز کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔
عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کو 2018 کے انتخابات میں اکثریت حاسل ہوئی تھی۔ پی ٹی آئی کو 270 ارکان پر مشتمل قومی اسمبلی میں 115 سیٹیں ملی تھیں۔ جیسا کہ پاکستانی پارلیمانی سیاسی روایت رہی ہے، سب سے بڑی پارٹی کے طور پر تحریک انصاف کو چند چھوٹی پارٹیوں کی تائید حاصل ہوگئی اور عمران خان وزیر اعظم بن گئے۔ اس عمل میں سازش تلاش کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) اور اس کی ہمنوا پارٹیوں کی اس دلیل کو ماننا پڑے گا کہ 2018 کےانتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی اور مسلم لیگ (ن) کو شکست دلوانے کے لیے عمران خان کی پارٹی کو جعل سازی سے جتوایا گیا اور پھر دیگر پارٹیوں کو مجبور کرکے تحریک انصاف کی حکومت بنوائی گئی۔
اس الزام کو مان لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن پھر تحریک انصاف کے اس دعوے کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ فروری 2024 کے انتخابات میں بھی وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی ۔ 2018 میں انتخابی عمل میں ایکٹرانک سسٹم کے عنوان سے دھاندلی کے الزامات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اب تحریک انصاف اور اس کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ شہباز حکومت فارم 47 کی پیداوار ہے۔ متعدد کالم نگار اور مبصر مسلسل اسے فارم 47 کی حکومت ہی قرار دیتے ہیں جو اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ موجودہ حکمران جماعت کو انتخابات میں اکثریت حاصل نہیں ہوئی تھی لیکن جعل سازی سے تحریک انصاف کی اکثریت کو تبدیل کردیا گیا۔
گزشتہ سال انتخابات میں نواز شریف خود لاہور کے حلقہ سے تحریک انصاف کی مقید لیڈر یاسمین راشد کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے رکن بنے تھے۔ لیکن اس کامیابی کے بارے میں تحریک انصاف کے علاوہ متعدد غیر جانبدار حلقے بھی سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس حلقے میں نواز شریف کو جتوانے کے لیے ذبردست دھاندلی کی گئی تھی۔ تاہم نہ تو نواز شریف نے ذاتی طور پر ان دعوؤں کی تردید کے لیے کوئی ایسا عملی اقدام کرنے کی پیش کش کی جس سے اس حلقے میں ان کی کامیابی کا ٹھوس ثبوت سامنے آتا اور نہ ہی قومی سطح پر شہباز شریف کی وفاقی حکومت نے انتخابی دھاندلی کے شدید الزامات کی تحقیقات کا اہتمام کیا۔ اس پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دھاندلی یا اس کے الزامات ملکی انتخابی سیاست کا اہم عنصر بن چکے ہیں۔ جیتنے والا انتخابی عمل کو شفاف کہتا ہے جبکہ ہارنے والا اسے دھاندلی زدہ قرار دے کر سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کرتا ہے لیکن امور حکومت معمول کے مطابق چلتے رہتے ہیں۔
اب نواز شریف کو اگر2018 اور 2022 کے دوران عمران خان کو انتخابات جتوانے اور انہیں اقتدار میں رکھنے کے عمل میں کوئی سازش دکھائی دیتی ہے تو انہیں اس سازش کی بات بھی کرنی چاہئے جو بعض لوگوں کے خیال میں اپریل 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد سے شروع ہوئی اور آج تک جاری ہے جس کے نتیجے میں شہباز شریف وزیر اعظم اور آصف زرادری ملک کے صدر بنے ہیں۔ یک طرفہ الزامات اور مبہم اشاروں سے اپنے سیاسی حلقے کو متاثر کرنے کے لیے تاریخ مسخ کرنے کی کوششیں عام طور سے کامیاب نہیں ہوتیں۔ نواز شریف جس حمام کی گندگی باہر لانا چاہتے ہیں، درحقیقت اس میں داخل ہونے کے لیے سب ہی سیاست دان اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ اور موقع ملنے پر اس میں ’ننگا‘ ہونے کو اعزاز سمجھتے رہے ہیں۔ اب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ان میں سے چند یا ایک ’ننگے‘ کو رسوا کیا جائے اور باقی کو معتبر اور سنجیدہ سیاست دان سمجھ کر نظرانداز کردیا جائے۔ اس تخصیص سے تطہیر کا کام نہیں ہوسکتا۔ احتساب کے لیے سب سے پہلے خود کو کٹہرے میں پیش کرنا پڑتا ہے۔
نواز شریف کو اول تو ان لوگوں کا نام لینا چاہئے تھا جو ان کے خیال میں عمران خان کو اقتدار میں لانے کے اصل ’مجرم‘ تھے۔ ظاہر ہے یہ لوگ اسی ملک میں ایسے بااختیار مناصب پر فائز تھے جو انتخابی عمل پر بھی اثرانداز ہوسکتے تھے اور پھر حکومت سازی بھی ان کی مرضی و منشا کے مطابق ہوسکتی تھی۔ جب نامعلوم افراد کو مجرم قرار دے کر محض سیاسی بیان بازی کی جائے گی اور کسی فرد کا نام لے کر دستاویزی طور سے اس کے خلاف شواہد سامنے نہیں لئے جائیں گے، تو اس سے نہ تاریخ کی اصلاح ہوسکے گی اور نہ ہی آئیندہ کے لیے کوئی بہتر روایت قائم ہوسکے گی۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ سب سیاسی لیڈر ماضی کی فاش غلطیوں کو بھلا کر اب مستقبل کے لیے باہم مل کر کام کرنے کا عزم کریں۔ ایسا سیاسی لائحہ عمل اختیار کیاجائے جس میں انتخابی دھاندلی کو حقیقی معنوں میں علت قرار دیا جائے اور ملکی حکومتی ، سیاسی، قانونی و آئینی انتظام میں یہ اہتمام کیا جائے کہ دھیرے دھیرے ان ’ذمہ داروں‘ کا سیاست پر اثر و رسوخ کم ہوجائے جن کی مداخلت کی وجہ سے ہر انتخاب کے بعد دھاندلی کی شکایات سامنے آتی ہیں اور شکوک و شبہات اور الزامات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔
نواز شریف اپنے تجربے اور قومی سیاسی حیثیت کی وجہ سے اس پوزیشن میں تھے کہ وہ سیاسی افہام و تفہیم اور وسیع تر جمہوری تبدیلیوں میں کردار ادا کرسکتے۔ اس مقصد کے لیے سب سے اہم تمام سیاسی پارٹیوں کے درمیان مکالمہ کا آغاز ہے۔ تحریک انصاف ایسے کسی سیاسی مکالمہ سے انکار کرتی رہی ہے۔ اس حوالے سے اس کا ایک سادہ مطالبہ ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے۔ نواز شریف چونکہ خود اسی قسم کے مقدموں اور عدالتی کارروائی کا سامنا کرچکے ہیں، جن کا اس وقت عمران خان کو سامنا ہے، اس لیے ان کے لیے ا س مطالبے کے حق میں آواز بلند کرنا آسان ہونا چاہئے تھا۔ اگر عمران خان کی رہائی سے ملک میں سیاسی مکالمہ شروع ہوسکتا ہے اور جمہوری عمل توانا ہونے کا امکان ہے تو کیا وجہ ہے کہ ان کی رہائی کے لیے آواز بلند نہ کی جائے؟
نواز شریف خود اس وقت کسی حکومتی انتظام کا حصہ نہیں ہیں۔ انہیں ملک میں بزرگ سیاست دان کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ اس حیثیت کو احترام کی علامت میں تبدیل کرنے کی پوزیشن میں تھے۔ وہ عمران خان سے اظہار یک جہتی کے لیے جیل میں ملاقات بھی کرسکتے تھے اور پی ٹی آئی کے لیڈروں سے مواصلت کے ذریعے سیاسی ماحول کی تلخی کم کرنے کی کوشش بھی کی جاسکتی تھی۔ بدقسمتی سے اس کی بجائے نواز شریف نے ماضی میں اپنی کامیابیوں اور عمران خان پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے ہی کو سیاسی کامیابی کا راستہ سمجھا ہے۔ یہ راستہ نہ ملک کی ترقی کا راستہ ہے اور نہ ہی اس سے ملکی معیشت استفادہ کرسکے گی۔
ملک میں سیاسی بحران موجود ہے۔ جس ہائبرڈ نظام کا تجربہ 2018 میں کیا گیا تھا ، اب اس تجربے کو ایک نئے مرحلے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ عمران خان کو جیسے بھی اقتدار میں لایا گیا تھا لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف کی مخصوص سیٹوں پر غیر اخلاقی طور سے قابض ہوکر اور پھر تحریک انصاف کی خالی کرائی گئی نشستوں پر کامیابی کے ذریعے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کا اہتمام کیا ہے اور ملکی آئین میں ایسی ترامیم لائی گئی ہیں جس سے عدلیہ کمزور اور عسکری اداروں کی سیاسی قومت میں اضافہ ہؤا ہے۔ 2018 اور 2022 کے درمیان جس سازش کی طرف نواز شریف اشارہ کررہے ہیں، گزشتہ چار برسوں میں اسی سازش کے مقاصد کی تکمیل ہوئی ہے۔ البتہ چہرے تبدیل ہوگئے ہیں۔
ایسے میں نواز شریف کی یہ بات نہیں مانی جاسکتی کہ ’کیا کوئی ملک ایسی صورتحال میں ترقی کر سکتا ہے جب اقتدارایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہو‘۔ اس بات کا فیصلہ صرف ملک کے عوام کرسکتے ہیں کہ کن لوگوں کو اقتدار میں ہونا چاہئے۔ پھر ان کی کارکردگی دیکھ کر انہیں دوباہ منتخب یا مسترد کرنے کا حق بھی انہی کو حاصل ہے۔ سیاست دانوں کا کام صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ عوام کو ان کے حق انتخاب سے محروم نہ کیاجائے۔ نواز شریف ایک زمانے میں ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ بھی لگاتے رہے ہیں۔ پھر انہوں نے اسی عزت کو خود اپنے پاؤں تلے روندنا شروع کیا۔ اس کا آغاز جنوری 2020 میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے کی مدت میں اضافے کا قانون منظور کرانے سے ہؤا تھا جس میں مسلم لیگ (ن) پیش پیش تھی۔ پھر عوامی راستے کی بجائے ’پچھلی‘ گلی سے اقتدار حاصل کرکے اس پر مہر تصدیق ثبت کردی گئی۔
عمران خان ہوسکتا ہے 2018 میں ذبردستی وزیر اعظم بنائے گئے ہوں لیکن 2024 میں ان کی پارٹی کو ذبردستی ہرایا ضرور گیا تھا۔ اس عمل میں مسلم لیگ (ن) کا کردار گھناؤنا اور جمہوریت دشمن تھا۔ اس کردار کا احتساب کیے بغیر ایسے نامعلوم لوگوں پر الزام لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا جنہوں نے 2018 میں نواز شریف کی بجائے عمران خان کو وزیر اعظم بنوا دیا تھا۔