واشنگٹن حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے تیسری دنیا سے امیگریشن بند کرنے کا حکم دے دیا

  • جمعہ 28 / نومبر / 2025

وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز کے 2 اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی حکومت نے فوری طور پر غیر معینہ مدت کے لیے افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستوں پر کارروائی روک دی ہے۔ اس کے علاوہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیسری دنیا سے ہمہ قسم امیگریشن کو فوری طور سئ معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔

نیشنل گارڈز پر حملہ ملزم کو ایک افغان شہری کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ ان میں سے بیس سالہ لڑکی ہلاک ہوگئی ہے جب کہ 24 سالہ فوجی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔

افغان قاتل جو اس وقت زخمی حالت میں پولیس کی حراست میں ہے ماضی میں افغاستان میں سی آئی اے کے لیے کام کرتا رہا ہے۔ اسی اسے صدر جو بائیڈن کے خصوصی پروگرام کے تحت ستمبر 2021 میں کسی پڑتال کے بغیر امریکہ آنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کی بیوی اور پانچ بچے واشنگٹن میں ہی رہتے ہیں۔

اس وقوعہ کے بعد امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز نے تمام اافغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ سیکیورٹی اور جانچ کے طریقہ کار کے دوبارہ جائزے تک مؤخر رہے گا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ سے کہا کہ وہ پچھلی انتظامیہ کے دوران امریکا میں داخل ہونے والے تمام افغان شہریوں کا دوبارہ جائزہ لے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے  تیسری دنیا کے تمام ممالک سے امیگریشن کو فوری طور پر روکنے کے علاوہ 19 ممالک سے امریکہ ہجرت کرنے والے افراد کو جاری کیے گئے گرین کارڈز کی دوبارہ جانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے سربراہ جوزف ایڈلو نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ امریکہ کے لیے تشویش کا باعث بننے والے ممالک سے آنے والے ہر اجنبی کے لیے گرین کارڈ کی مکمل اور سخت جانچ پڑتال کریں۔وائٹ ہاؤس کے اعلامیہ کے مطابق جن ممالک کے شہریوں کی جانچ کی جائے گی ان میں افغانستان، کیوبا، ہیٹی، ایران، صومالیہ اور وینزویلا شامل ہیں۔

ملزم  کی پہچان رحمان اللہ لکنوال کے طور پر ہوئی ہے اور وہ  2021 میں ایک پروگرام کے تحت امریکہ آیا تھا جس میں افغانستان سے امریکہ کے انخلاکے تناظر میں افغانوں کو خصوصی امیگریشن کی پیشکش کی گئی تھی۔ وہ افغانستان میں سی آئی اے کے لیے کام کر چکا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا  ہےکہ فائرنگ سے قومی سلامتی کو لاحق ایک بڑے خطرے کی نشاندہی ہوتی ہے۔سربراہ امیگریشن سروسز ایڈلو نے کہا کہ اس ملک اور امریکی عوام کا تحفظ سب سے اہم ہے۔  امریکی عوام سابقہ انتظامیہ کی دوبارہ آبادکاری کی  غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کی قیمت برداشت نہیں کریں گے۔ایجنسی نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ ’ہمارے وطن اور امریکی عوام کی حفاظت اور سلامتی ہمارا واحد مقصد اور مشن ہے‘۔

فاکس نیوز نے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ لکنوال نے امریکی حکومت کی مختلف ایجنسیوں، بشمول انٹیلی جنس سروس کے ساتھ کام کیا۔ این بی سی نے ایک رشتہ دار کے حوالے سے کہا کہ لکنوال نے امریکی اسپیشل فورسز کے ساتھ مل کر افغان فوج میں 10 سال خدمات انجام دیں۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’یہ دہشت گردی کی تفتیش ہے، تفتیش کار یہ دیکھ رہے ہیں کہ ملزم کے امریکہ یا افغانستان میں ممکنہ معاونین کون ہیں‘۔ یہ ایک وسیع البنیاد بین الاقوامی دہشت گردی کی تفتیش کی شکل ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ دہشت گردی کی ایک جاری تفتیش ہے۔ تفتیش کار امریکا یا افغانستان میں ملزم کے کسی بھی ممکنہ ساتھی کی جانچ کر رہے ہیں۔

فائرنگ کے واقعے نے امیگریشن اور جانچ کے طریقہ کار پر سیاسی ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی سکریٹری کرسٹی نویم نے کہا کہ ملزم ان افراد میں سے ایک تھا جنہیں جانچے بنا ’آپریشن الائیز ویلکم‘ کے تحت امریکا میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔ بائیڈن دور کے اس پروگرام کا مقصد امریکا کے ساتھ تعاون کرنے والے افراد کو دوبارہ آباد کرنا تھا۔