ایک سانحہ کے بعد صدر ٹرمپ کے سخت امیگریشن اقدامات

گزشتہ روز وہائٹ ہاؤس کے قریب ایک حملہ میں شدید زخمی ہونے والے  دو نیشنل گارڈز میں شامل  بیس سالہ خاتون زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی ہے۔ جبکہ چوبیس سالہ نوجوان اب بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ اس سانحہ کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی امیگریشن پالیسیاں بدلنے اور ملک میں آباد لاکھوں تارکین وطن کے لئے سخت  اقدامات کا اعلان کیا ہے جن کے دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

گزشتہ رات کے دوران سوشل  ٹروتھ پر متعدد پوسٹس میں صدر ٹرمپ نے تیسری دنیا سے امیگریشن  میں ’مستقل وقفہ‘ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ   ملکی امیگریشن نظام کی مکمل بحالی تک یہ پابندی برقرار رہے گی۔ ان اعلانات میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ تیسری دنیا کے کون سے ممالک ان پابندیوں سے متاثر ہوں گے تاہم قیاس کیا جارہا ہے کہ جون میں جن 19 ممالک کے شہریوں پر امریکہ سفر کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی، انہیں بہر حال شدید امیگریشین پابندیوں کا سامنا ہوگا۔ اس کے علاوہ ان ممالک کے جو لوگ پہلے ہی امریکہ میں مقیم  ہیں، ان کی از سر نو پڑتال کی جائے گی اور ان میں سے امریکہ کے لیے ’غیر مفید یا خطرہ ‘ سمجھے جانےوالے تارکین وطن کو ملک سے روانہ کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان ممالک میں ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکہ کے متعدد ممالک شامل ہیں۔

 امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز نے فوری طور پر افغانستان سے  امیگریشن کی درخواستوں پر عمل درآمد روک دیا ہے۔  ایسی دو لاکھ درخواستیں اس عمل کے آخری مرحلے میں تھیں جبکہ لاکھوں دیگر افغان شہری بھی امریکہ آنے کے لیے امیگریشن کے منتظر ہیں۔ ان میں سے بہت بڑی تعداد کابل پر طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے  پاکستان میں مقیم ہے۔ پاکستانی حکومت بھی  اپنے ملک سے افغان پناہ گزینوں کو نکالنے کی پالیسی پر عمل کررہی ہے۔ ایسے  افغان شہری بھی اس زد میں آسکتے ہیں جو امریکہ یا دیگر مغربی ممالک کے ساتھ تعلق یا ان کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے اب خود کو افغانستان میں محفوظ نہیں سمجھتے۔ تاہم امریکی امیگریشن اتھاریٹیز کا کہنا ہے کہ ان کے لیے سب سے پہلے امریکی شہریوں کی حفاظت اور بہبود اہم ہے۔

یہ سارے سخت اقدامات گزشتہ روز  واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز  پر ہونے والے ایک حملہ کے بعد کیے جارہے ہیں۔  ایک29 سالہ افغان شہری جس کا نام رحمان اللہ لکنوال بتایا گیا ہے، ا س حملہ میں ملوث بتایا جاتا ہے۔ اس نے گشت  کرنے والے نیشنل گارڈز کے دو نوجوانوں پر اچانک حملہ کرکے انہیں شدید زخمی کردیا تھا۔ان میں سے بیس سالہ  سارا بیک اسٹرام زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوگئی ہے جبکہ اس کے ساتھ گشت کرنے والے چوبیس سالہ نوجوان اینڈریو وولف کی حالت تشویشناک ہے۔ ان دونوں پر کسی اشتعال کے بغیر اچانک حملہ کیا گیا اور حملہ آور بھی زخمی حالت میں پولیس کی حراست میں ہے۔ ایف بی آئی نے اعلان کیا  ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات دہشت گردی کے طور  کی جارہی  ہے اور  حملہ آور کے ملکی اور عالمی سطح پر روبط کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اس سانحہ کے فوری بعد اس حملہ کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے افغان تارکین وطن کے بارے میں سابق حکومت کی پالیسیاں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران  سوشل میڈیا پر متعدد پوسٹس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ    امریکہ آنے والے جو لوگ امریکہ سے محبت نہیں کرسکتے ، انہیں یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان تارکین وطن کی شہریت بھی ختم کر دیں گے جو داخلی امن و سکون کو نقصان پہنچاتے ہیں  ۔کسی بھی ایسے غیرملکی کو ملک بدر کیا جائے گا   جوکسی جرم کا مرتکب ہؤا ہو یا سلامتی کے لیے خطرہ ہو یا مغربی تہذیب کے ساتھ مطابقت نہ رکھتا ہو۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی امیگریشن پالیسیوں نے ملک کو کمزور کیا ہے اور ملک کو ’امیگریشن کے حملے سے مکمل بحالی‘ کے لیے وقت درکار ہے۔

امریکی صدر نے  کہا کہ تارکین وطن کی امریکہ آمد کا سلسلہ روک دینا ہی  کافی نہیں بلکہ ’صرف ریورس مائیگریشن ‘ ہی اس صورتحال کو مکمل طور پر ٹھیک کر سکتی ہے۔ یعنی  وہ افراد جو غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوئے ہیں یا امریکی معاشرے میں خلل کا باعث ہیں، انہیں ان کے آبائی ملک واپس جانے کی ترغیب دی جائے ۔ ٹرمپ کے خیال میں یہ اقدام امریکہ میں قانون، نظم و نسق اور استحکام بحال کرنے کا واحد طریقہ ہو سکتا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے  شدید الفاظ میں امیگریشن مخالف اقدامات  ان کی عمومی امیگریشن پالیسیوں ہی کا تسلسل ہیں جن کا وہ وقتاً فوقتاً اظہار کرتے رہتے ہیں۔  تاہم کسی افسوسناک سانحہ کی صورت میں ٹرمپ فوری ردعمل ظاہر کرکے خاص طور  سے تارکین وطن کو ہدف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سال جون کے دوران امریکی ریاست کولوراڈو میں اسرائیل کے حق میں ایک ریلی پرنامعلوم شخص نے حملہ کیا جس  سے چھ افراد زخمی ہوگئے تھے۔  حکام کے مطابق اس حملے میں ملوث شخص غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوا تھا۔ تب  بھی  ٹرمپ نے 19 ملکوں کے شہریوں پر  امریکہ میں داخلے کی پابندی لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’کولوراڈو میں  دہشت گرد حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ غیر ملکی شہری جو درست طریقے سے ویریفائی نہیں ہوتے، ہمارے ملک کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں‘۔

یہ کسی بھی پاپولسٹ لیڈر کا خاصہ ہوتا ہے کہ وہ کسی ایسے معاملہ  کو اچھال کر فوری عوامی  ہمدردری حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہوں یا ان میں خوف پیدا ہؤا ہو۔  فائرنگ کا کوئی واقعہ یا دہشت گردی کے سانحات خاص طور سے عوام کو پریشان کرتے ہیں ۔  صدر ٹرمپ نے  ہمیشہ ایسے سانحات کو اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے استعمال کیا ہے۔  گزشتہ ایک دن کے دوران سامنے آنے والے اعلانات اسی حکمت عملی کا پرتو ہیں۔ حالانکہ کوئی بھی واقعہ کسی ایک فرد کی کسی ذہنی کیفیت کا رد عمل بھی ہوسکتا ہے۔ یا اگر یہ منظم دہشت گردی کا حصہ بھی ہو تو بھی عام طور سے کسی ملک ترک وطن کرکے جانے والے لوگوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لیکن  ٹرمپ جیسے لیڈر عام شہریوں پر اس کا سارا بوجھ ڈال کر خود مقبولیت حاصل کرنے کے لیے اس کے سماجی  اور لوگوں کی جذباتی و ذہنی کیفیت پر مرتب ہونے والے اثرات سے بے خبر رہتے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ پاپولسٹ سیاست کو عام طور سے جمہوریت کے  لیے خطرہ سمجھا  جاتا ہے۔

واشنگٹن میں  نیشنل گارڈز پر حملہ کا ملزم رحمان اللہ لکنوال صرف 29  سال  کا ہے۔ ابھی امریکی صدر اور حکام اس سانحہ کے سیاسی پہلو سے بات کرتے ہوئے قومی سلامتی اور امریکی مفادات کو لاحق خطرات کا ذکر کررہے ہیں لیکن یہ شخص خود کن حالات سے گزر کر اس مقام تک پہنچا ہے، اس کے بارے میں غور یا بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی۔ سی آئی اے  نے اعتراف کیا ہے کہ  یہ شخص  امریکہ آنے سے پہلے  اس  کے لیے کام کرتا رہا ہے۔ امریکی نیوز میڈیا پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہونے اور امریکی افواج کے انخلا سے پہلے لکنوال 10   سال  تک سی آئی اے اور متعدد دوسرے امریکی اداروں کے لیے کام کرتا رہا تھا۔ ستمبر 2021 میں صدر  جو بائیڈن کے خصوصی پروگرام کے تحت امریکہ  جب وہ امریکہ لایا گیا تو اس کی عمر چوبیس یا پچیس سال  ہوگی۔ گویا سی آئی اے یا امریکی حکومتی اداروں نے اس شخص کو بچپن کی عمر میں ہی سرکاری ایجنسیوں کے لیے کام پر متعین کردیا تھا۔

امریکی حکومت کو تمام برائیوں کا الزام افغان پناہ گزینوں  اور تارکین وطن پر منتقل کرتے ہوئے یہ بھی بتانا چاہئے کہ اس کے سرکاری ادارے دوسرے ملکوں میں خود کون سی غیر قانونی اور غیر انسانی  حرکتوں میں ملوث رہتے ہیں۔ افغانستان پر حملہ اسامہ بن لادن  کو ہلاک کرنے اور القاعدہ کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا تھا لیکن وہاں ’جمہوریت‘ نافذ کرنے اور خواتین کے حقوق کی حفاظت کے نام پر امریکی اور اس کے اتحادیوں کی فوجیں بیس سال تک  افغانستان پر قابض رہیں۔ اس جارحانہ طرز عمل  کی وجہ سے افغان نوجوانوں کی دو نسلیں مسلسل حالت جنگ میں رہیں۔ ان میں سے لنکوال جیسے  نوجوانوں کو کم عمری میں ہی امریکی جنگ کا حصہ بنا لیا گیا۔ اب اس کے جرم کا حساب کرتے ہوئے امریکی حکومت کو  اس سوال کا جواب  دینا چاہئے کہ اس جیسے اور کتنے نوجوان امریکی انتظام میں جنگ کا ایندھن بنائے گئے اور ان کی ذہنی صحت پر اس کا کیا اثر مرتب ہؤا۔ اس سوال کا جواب دیے بغیر ٹرمپ حکومت امیگریشن سختیوں کا  سیاسی  جواز تو ضرور پیش کر سکتی ہے لیکن بنیادی انسانی اصولوں سے روگردانی کرنے والے اقدامات سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔

بدقسمتی سے ایک فرد کی غلط حرکت سے   لاکھوں بے قصور لوگ متاثر ہوتے ہیں ۔ لنکوال کی متشدد  اور مجرمانہ  حرکت  کی سزا اسے تو مل ہی جائے گی لیکن ایسے لاکھوں افغان  تحفظ  سے محروم رہیں گے جنہیں حقیقی معنوں میں پناہ کی  ضرورت ہے۔ امریکہ  یا مغرب کو خوابناک جنت سمجھنے والے ایسے نوجوانوں کو یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ  کسی مغربی ملک کی امیگریشن سے  ہی تمام مسائل حل نہیں ہوجاتے۔ وہاں جاکر باعزت زندگی گزارنا  اور مناسب روزگار تلاش کرنا بجائے خود ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ امریکہ جانے والے افغان نوجوانوں نے  طالبان کے خلاف امریکہ کی جاسوسی تو کرلی لیکن امریکہ   میں روزگار کے لیے ان کے پاس کوئی مناسب صلاحیت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی  حکومتی ادارہ ان کی مدد کو آگے بڑھتا ہے بلکہ انہیں ملکی نظام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

ٹرمپ نے امیگریشن پر پابندیاں لگانے اور لاکھوں لوگوں کو ڈی پورٹ کرنے کا ارادہ ہی ظاہر نہیں کیا بلکہ   امریکہ میں مقیم تمام غیر امریکیوں کی ہر قسم کی سرکاری امداد بند کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس اعلان کے مطابق  صحت، سماجی بہبود اور دیگر امدادی پروگرام بند کردیے جائیں گے۔ ٹرمپ قومی وسائل صرف امریکی شہریوں  پر صرف کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔ اگرا س  اعلان پر عمل درآمد ہوتا ہے تو اس سے امریکہ میں   احتیاج  و غربت کا یاک نیا سماجی طوفان برپا ہوسکتا ہے۔