تضادات کا شکار وفاقی حکومت

وفاقی حکومت نےایک  میڈیا ٹاک شو کے  ذریعے خیبر پختون خوا میں ’گورنر راج‘ نافذ کرنے  کا امکان ظاہرکیا ہے جبکہ  بعض سرکاری ذرائع کے حوالے سےمیڈیا میں کے پی کے گورنر فیصل کریم کنڈی کو تبدیل کرکے نیا گورنر لانے کی خبریں  بھی چلوائی جارہی ہیں۔  بین السطور تحریک انصاف کے علاوہ پیپلز پارٹی کو دھمکیوں سے رام کرنے کی  کوششیں ہورہی ہیں۔

مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی غزہ میں عالمی امن فورس میں پاکستان کی شمولیت پر بات کرنے کے  لیے اسلام آباد آئے ہوئے ہیں لیکن  نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار  یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ پاکستانی  فوجی دستے حماس کو غیر مسلح  کرنے کے  متفقہ مینڈیٹ پر عمل نہیں کریں گے۔ البتہ انہوں نے غزہ فورس میں پاکستانی شمولیت کا اصولی اعلان کرتے ہوئے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر پاکستان ٹرمپ منصوبہ سے  متفق نہیں ہے تو وہ غزہ امن فورس کا حصہ کیوں بننے پر آمادہ ہے۔

اس دوران آرمی چیف  فیلڈ مارشل عاصم منیر کے موجودہ عہدے کی  سہ سالہ مدت پوری ہوچکی ہے لیکن وہ بدستور اس پوزیشن پر کام کررہے  ہیں۔ حکومت نے یہ وضاحت کرنا ضروری نہیں سمجھا کہ کیا  آرمی چیف کے عہدے کی مدت آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد از خود پانچ سال ہوچکی ہے یا اس کا نوٹی فکیشن جاری ہونا ضروری ہے۔ ممکن ہے قانونی طور سے ایسے نوٹی فکیشن کی ضرورت نہ ہو لیکن کیا کسی سرکاری بیان میں بروقت اس کی وضاحت کرکے عوام کو غیر ضروری  پریشانی سے محفوظ رکھنا حکومت کا بنیادی فرض نہیں تھا؟ اس کے علاوہ حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم میں خود ہی آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔  یہ عہدہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی  کی جگہ تخلیق کیا گیا ہے۔ بظاہر اس  طرح  شہباز حکومت  اپنے پسندیدہ فیلڈ مارشل کو تمام اختیارات  فراہم کرنا چاہتی ہے۔ البتہ اس عہدے پر تقرری کے لیے جس سرکاری نوٹی فکیشن کی ضرورت ہے، اسے جاری کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔

میڈیا میں قیاس آرائیوں اور نت نئی افواہوں کے بعد آج وزیر دفاع خواجہ آصف نے ’ایکس ‘ پر ایک پیغام میں فرمایا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اس سلسلہ میں نوٹی فکیشن وقت پر جاری ہوگا۔ اس بارے میں قیاس آرائیاں درست نہیں ہیں۔ تاہم وہ یہ بتانے سے قاصر رہے کی جب چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی   کا عہدہ ختم  ہوچکا ہے اور آئینی ترمیم میں آرمی چیف کو  چیف آف ڈیفنس مقرر کرنے کا اصولی اعلان ہوچکا ہے تو  پھر یہ نوٹی فکیشن جاری ہونے کا  ’مناسب ‘ وقت کون سا  ہوگا؟ بعض قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر نیا نوٹیفکیشن جاری نہ ہو تو مدت ملازمت تکنیکی طور پر ختم سمجھی جا سکتی تھی لیکن 2024 میں پاکستان آرمی ایکٹ میں کی گئی ترمیم کے بعد سروسز چیفس کی مدت ملازمت 5 سال کر دی گئی ہے۔ اس لیے قانونی ماہرین کے مطابق آرمی چیف کی مدت بڑھانے کے لیے کسی نئے نوٹیفکیشن کی ضرورت  نہیں رہی۔ یوں ان کے نزدیک 29 نومبر کوئی قانونی حد نہیں تھی۔ دوسری  طرف  سکیورٹی ذرائع نے  میڈیا کو بتایا ہے کہ حکومت کے لیے  فیلڈ مارشل عاصم منیر کو سی ڈی ایف کا منصب دینے کے لیے ایک نیا اور باضابطہ عوامی نوٹیفکیشن جاری کرنا  ضروری ہوگا ۔ نوٹیفکیشن کے اجرا میں تاخیر کو حکومتی سطح پر جاری اختلافات کی نشانی  کہاجا رہا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس وقت ایک اہم سوال یہ زیر غور ہے کہ آرمی چیف کی 5 سالہ مدت ملازمت کا آغاز کس تاریخ سے شمار کیا جائے۔ نومبر 2022 سے جب فیلڈ مارشل منیر نے عہدہ سنبھالا یا پھر نومبر 2025 سے، جیسا کہ نئی قانون سازی کے بعد عمومی طور پر تاثر پایا جاتا رہا ہے۔

اس دوران اڈیالہ  جیل میں قید عمران خان  سے اہل خانہ اور ان کے ساتھیوں کی ملاقات کا مسئلہ تنازعہ  کا سبب بنا ہؤا ہے۔ جمعہ کی رات خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل  کے باہر احتجاج کرتے ہوئے گزاری۔ وفاقی حکومت کے علاوہ  پنجاب حکومت کے لیے بھی یہ صورت حال تشویش کا سبب ہونی چاہئے تھی کہ ایک  صوبے کا منتخب وزیر اعلیٰ وفاقی دارالحکومت کے قریب اور پنجاب کی حدود میں واقعہ جیل  کے باہر احتجاج کررہا ہے۔ ملک میں امن و امان کی موجود ہ صورت حال میں ان کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہوسکتا  تھا۔ یہ تو مقام شکر ہے کہ انہیں کوئی گزند نہیں پہنچی لیکن ملک بھر میں دندناتے دہشت گرد عناصر   سڑک کے کنارے بیٹھے ایک وزیر اعلیٰ کو نقصان پہنچا سکتے  تھے۔ ایسی صورت  میں کون  جواب دہ ہوتا اور خیبر پختون خوا کے عوام کو کیسے مطمئن کیا جاتا؟

سہیل آفریدی ، عمران خان کی خصوصی ہدایت پر خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔ بدقسمتی سے ان کی توجہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتربنانے ، دہشت گردی میں تعاون کا میکنزم تیار کرنے اور  ضروری انتظامی امور انجام دینے کی بجائے اڈیالہ کے قیدی سے ملاقات کا حق حاصل کرنے پر مبذول  ہے۔ اب انہوں نے منگل کو پھر اسلام آباد ہائی کورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر  احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس مظاہرے میں تحریک انصاف کے تمام اراکین اسمبلی کی شرکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ  پارٹی کے جو اراکین اسمبلی اس احتجاج میں شریک نہیں ہوں گے انہیں شرمسار کیا جائے گا۔

ملک  داخلی  اور عالمی سطح پر شدید بحران کا سامنا کررہا ہے اور حکومت کو فوری ، مؤثر، قابل فہم  و قابل عمل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے لیکن ملک کا وزیر اعظم   نجی مصروفیات کی وجہ  سے اچانک لندن گیا ہؤا ہے۔ کسی سرکاری اعلان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ شہباز شریف کب تک واپس آئیں گے۔ یوں تو  شہباز شریف کا زیادہ وقت بیرون ملک دوروں  میں ہی صرف  ہوتا ہے۔ ان میں سے بیشتر دوروں کی کوئی  اہمیت نہیں اور نہ ہی وزیر اعظم کے منصب کے عہدیدار کو  یہ دورے کرنے چاہئیں۔ مثلاً لندن روانگی سے قبل وزیر اعظم  دو روز کے لیے بحرین کے دورے پر تھے۔ اس  دورے کے بعد اعلامیہ  میں یہ نوید دی گئی تھی کہ پاکستان اور بحرین کے درمیان تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔ یہ ایک ایسا رسمی اعلان ہے کہ اس کے لیے کسی وزیر اعظم کو دوسرے ملک کے سربراہ سے ملنے کی ضرورت نہیں  ہوتی بلکہ کوئی وزیر یا اس سے بھی نچلی سطح کے عہدیدار مل کر بھی ایسے معاملات پر تعاون میں فروغ کی بات چیت کرسکتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ شہباز شریف ملک سے ’فرار‘  ہونے کے لیے کسی معمولی عذر کی تلاش میں رہتے  ہیں۔

وزیر اعظم کی غیر موجودگی میں ہی آئی ایس پی آر کے ڈائیریکٹر جنرل نے افغانستان کے ساتھ سرحدی صورت حال پر تفصیل سے میڈیا بریفنگ دی  ہے جو اس حوالے سے سخت پریشا ن کن ہے کہ  افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوششیں اور ترکیہ و قطر کی طرف سے ثالثی کے باوجود کوئی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔ اس دوران وزیر خارجہ اسحاق  ڈار نے پریس کانفرنس  میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستان  نے قطر کی مداخلت  پر افغانستان میں کارروائی سے گریز کیا تھا بصورت دیگر دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کے لیے افغانستان کے اندر فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا جاچکا تھا۔ ایک ایسی صورت حال میں جب ثالثی و مصالحت کی کوششیں ناکام ہورہی ہیں، وزیر خارجہ کا یہ بیان اس بات کا اشارہ بھی سمجھا  جاسکتا ہے کہ پاکستان اب بھارت کے بعد اپنے دوسرے ہمسایہ ملک کے ساتھ جنگ کی تیاری کررہا ہے جو کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے۔ لیکن وزیر اعظم لندن میں نجی امور طے کرنے میں مصروف ہیں۔

البتہ ان کے وزیر پاکستان میں نت نئی موشگافیاں کررہے ہیں جن سے انتشار، بحران اور  مسائل میں اضافہ کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے عمران خان کی ہمشیرہ  نورین خان کے ایک بھارتی ٹی وی چینل  پر انٹریو    میں’ملک دشمنی‘ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور سوال کیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ نورین خان اور علیمہ خان اپنے بھائی سے ملاقات کی بات بھارتی اور افغان چینلز پر کررہی ہیں۔  انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ بھارتی ٹی وی پر انٹرویو میں نورین خان نے  نریندر مودی اور ان کی ہندو توا پالیسی  پر کیوں تنقید نہیں کی۔ اس قسم کی یک طرفہ بیان بازی  سے سیاسی مخالفین کو دھمکیاں دینے کی بجائے ملک کے وزیر اطلاعات  کو ان تمام امور پر وضاحت کرنی چاہئے تھی جن کے بارے میں مسلسل بے یقینی پائی جارہی ہے۔ عمران خان کی قید تنہائی یا ان سے ملاقاتوں پر پابندی کا سوال ان میں  اہم ترین  ہے۔

اسی طرح وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے  اتوار کی شب نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج  نافذ کرنےپر سنجیدگی سے سوچ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ دو ماہ کے لیے یہ گورنر راج ہو گا جس میں توسیع ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشتگردی، سیفٹی، سکیورٹی اور گورننس کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ حالات گورنر راج کی طرف جا رہے ہیں۔وزیر مملکت نے   کہا کہ یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ خیبر پختونخوا کو بلاک کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ صوبائی حکومت اس وقت وفاقی حکومت سے اہم قومی مفاد کے معاملات پر تعاون نہیں کر رہی ۔ اگرچہ  آج ہی پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا  ہے کہ ’وہ تصادم کا رستہ اختیار نہیں کریں گے‘۔

حزب اختلاف کی ایک جماعت کے زیر انتظام ایک صوبے  میں گورنر راج نافذ کرنا  ایک سنگین اور تشویشناک مسئلہ ہے۔ ایسے معاملات میڈیا میں بیان کرکے رائے بنانے یا اشتعال دلانے کی بجائے، حکومت کو ذمہ داری سے ان امور پر اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں غور کرنا چاہئے۔ وفاقی حکومت کو اگر خیبر پختون خوا کی حکومت سے کوئی شکایت ہے تو وہ وزیر اعلیٰ کو تنہا کرنے اور اشتعال دلانے کی بجائے، انہیں انگیج کرنے اور مختلف امور پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ کسی  طاقت ور منتخب حکومت کو  ایک صدارتی حکم کے ذریعے ختم کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے   بلکہ ان کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ملک کے وزیر اعظم کو دنیا بھر کے لیڈروں کی توصیف میں زور بیان صرف کرنے کی بجائے اپنے ملک واپس آکر ان تمام اہم امور پر سیاسی فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام    کویک طرفہ اور گمراہ کن معلومات  صرف سوشل میڈیا یا قیاس آرائیاں کرنے والے عناصر ہی فراہم نہیں کرتے بلکہ  حکومت کے تضادات اور بے مقصد بیانات،  بھی اس پریشانی میں اضافہ کرتے ہیں۔