عمران خان کو لانے والوں کا احتساب
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- سوموار 01 / دسمبر / 2025
محمد نوازشریف نے نعرہ مستانہ بالآخر بلند کر ہی دیا کہ عمران خان کو لانے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ بات تو درست ہے اصولی طور پر بھی اور منطقی انداز میں سوچنے کا نتیجہ بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ عمران خان ایک سیکیورٹی تھریٹ بن چکے ہیں انہوں نے ایک نسل کو جس راہ پر لگا رکھا ہے وہ کسی طور بھی قابلِ ستائش نہیں ہے۔
گالی گلوچ، مار کٹائی کے کلچر کو فروغ دے کر نوجوان نسل کو جس راہ پر لگایا ہے۔ وہ تباہی و بربادی کی طرف لے جانے والی ہے۔ سیاست میں انہوں نے عدم رواداری کو رواج دے کر ہمارے بچے کھچے اور لٹے پٹے معاشرے کی بچی کھچی روایات کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔ یہ عمران خان کی شعلہ بیانیوں کا نتیجہ تھا کہ ریاست پر حملہ کیا گیا۔9مئی کے افسوسناک واقعات ہوئے ملک کو افتراق و انتشار کی طرف دھکیلا گیا یہ تو فوجی قیادت کی دوراندیشی اور بالغ النظری تھی کہ انہوں نے ری ایکٹ نہیں کیا اور فسادی و انتشاری قیادت کے خون خرابے کے منصوبے خاک میں مل گئے۔
بہرحال عمران خان اور ہمنوا مکافات عمل کا شکار ہو چکے ہیں اور سزا بھگت رہے ہیں۔ فوج جنرل فیض حمید کے ساتھ بھی اپنے قوانین کے مطابق نمٹ رہی ہے۔ جہاں تک نوازشریف کے بیان کا تعلق ہے کہ عمران خان کو لانے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے، اصولی طور پر درست ہے کیونکہ پراجیکٹ عمران خان کسی ایک بندے کا منصوبہ نہیں تھا ہاں کسی ایک کا خیال ہو سکتا ہے لیکن اسے بہت سوں نے مل جل کر مکمل کیا تھا ،اس لئے ”لانے والوں کا احتساب“ سیدھا سادہ کام نہیں ہوگا اس میں بہت سے لوگ مجرم قرار پا سکتے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حالات جاریہ میں ایسا ممکن ہے تو اس کا جواب ہے، نہیں۔ پاکستان اس وقت داخلی و خارجی طورپر مشکلات کا شکار ہے حالتِ جنگ ہے اندرون ملک سیاسی انتشار پایا جاتا ہے۔ انتشاری ٹولہ فکری و عملی انتشار پھیلانے میں مصروف ہے۔ فتنہ الخوارج نے بھی اندرون ملک دہشت گردی پھیلا رکھی ہے ہر روز ہی دہشت گردی کی اطلاعات پہنچتی رہتی ہیں۔
ہماری مسلح افواج ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹ رہی ہیں۔ قربانیوں کی بھی ایک شاندار داستان رقم کی جا رہی ہے لیکن فتنہ الخوارج کے ساتھ نمٹنے کے حوالے سے انتشاری ٹولہ فکری ابہام پیدا کرتا رہتا ہے۔ اندرون ملک فکری ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ معاملات ویسے نہیں ہیں، جیسے ہونا چاہئیں۔ بیرونی سطح پر طالبان، کابلی طالبان پاکستان کے خلاف عملاً سرگرم ہیں انہوں نے باقاعدگی کے ساتھ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ معاملات طے کرلئے ہیں ویسے تو کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے قومی و ملکی مفادات کے حصول کے لئے کسی دوسرے ملک کے ساتھ معاہدے کرے لیکن افغان۔ بھارت معاہدے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے نقطہ نظر سے کئے جا رہے ہیں۔ طالبان حبِ علی میں نہیں بلکہ بغضِ معاویہ میں معاملات کررہے ہیں۔ دہشت گرد گروہوں کو پناہ دی جا رہی ہے کہنے کو تو یہ بھی ان کا حق ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر جس کو چاہیں مہمان بنائیں لیکن اگر مہمان اٹھ کر دوسرے ملک پر حملہ آور ہوتو اسے روکنا بھی میزبان کا فرض ہے جو طالبان حکومت ادا نہیں کررہی۔
پاکستان اندرونی و بیرونی طور پر مشکلات کا شکار ہے۔ فکری و عملی، دونوں سطحوں پر مشکلات پائی جاتی ہیں۔ عسکری سطح پر شاندار کامیابیاں ہمارے حصے میں آئی ہیں۔ ہمارا دشمن بھارت شکست کھا چکا ہے۔ فکری و عملی،دونوں محاذوں پر اسے ذلت کا سامنا ہے۔ رافیل کی ہزیمت کا ڈھنڈورا ابھی جاری تھا کہ تیجس کی بربادی دنیا کے سامنے آ گئی۔ ہمارا دشمن جو ہم پر حملے کی تیاری کررہا تھا ،اسے اپنے آپ سے ہی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ یہ اللہ کی کرم نوازی بھی ہے کہ پاکستان نے دفاعی اعتبار سے دشمن بھارت پر ہی نہیں بلکہ دنیا پر اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔ اس حوالے سے قوم مکمل طور پر یکسو اور مطمئن دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری طرف ہماری سیاسی کمزوری کے اثرات ہماری معیشت پر نظر آ رہے ہیں۔
حکومت کی سفارتی محاذ پر شاندار کامیابیوں کے باوجود معیشت کی بہتری کے اثرات نظر نہیں آ رہے ہیں، فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کی عدم موجودگی نے معاشی پھیلاؤ کی راہیں مسدود کر رکھی ہیں۔ توانائی کی بلند قیمت کے باعث پیداواری مصارف بلند ہیں جس کے باعث درآمد شدہ اشیا کی لوکل مارکیٹ میں بہتات ہے۔ اندرون ملک چھوٹی موٹی صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔ بیروزگاری پھیل رہی ہے۔ حکومت آئی ایم ایف کے طے کردہ ٹیکس وصولی کے اہداف پورے کرنے میں مصروف ہے۔ معاشی پھیلاؤ نہ ہونے کے باعث، ٹیکس وصولیاں نہیں ہو رہی ہیں جس کے باعث حکومت پہلے سے ہی پسے ہوئی عوام پر مزید ٹیکس لگا کر اہداف پورے کرنے میں مصروف ہے۔ ٹریفک چالانوں کی شرح میں اضافہ، ٹول ٹیکس کی شرح میں اضافہ،عوامی سہولیات کی قیمتوں میں اضافہ غرض ہر شے اور ہر خدمت پر بلاتفریق و بلا تمیز ٹیکس لگائے جا رہے ہیں جس سے نہ صرف عوام کی قوت خرید گھٹتی چلی جا رہی ہے بلکہ غربت میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
بحیثیت مجموعی ملک میں مایوسی و ناامیدی کا چلن عام ہو رہا ہے۔ نوجوان اپنے حال سے مایوس اور مستقبل سے ناامیدہیں،جسے بھی موقع مل رہا ہے وہ یہاں سے نکلنے کے لئے پَر تولتا ہے۔ اس سے حادثات بھی ہو رہے ہیں ۔معاملات بحیثیت مجموعی تسلی بخش نہیں بلکہ تشویشناک ہیں۔ ایسے میں ”لانے والوں کا احتساب“ کسی طور بھی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔ ویسے لانے والوں کے احتساب کے حوالے سے بھی ہمارے ہاں یکسوئی یا فکری ہم آہنگی نہیں پائی جاتی ۔ نوازشریف نے اپنے دور میں جنرل پرویز مشرف کا احتساب کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔ اصولی طورپر ان کی بات جزوی طور پر درست ہے کہ عمران خان کو لانے والوں کا احتساب ہوناچاہیے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ پھر انہیں لانے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے ۔دراصل احتساب کا یہ سلسلہ تو میجر جنرل سکندر مرزا تک درازہونا چاہیے جس نے سیاست میں ریاست کی مداخلت کی بنیاد رکھی۔
یہاں ریاست سے مرادفوج ہے۔ اس سے پہلے ملک غلام محمد کو بھی اسی کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے جس نے سیاست میں ریاست کی مداخلت کی بنیاد رکھی۔ یہاں ریاست سے مراد افسر شاہی/ بیورو کریسی ہے۔ جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف، یہ سب اس احتساب کی زد میں آ سکتے ہیں جس کا مطالبہ نوازشریف کررہے ہیں۔یہی جرنیل تھے جنہوں نے سیاسی حکومتوں کا تختہ الٹا اور اقتدار پر قبضہ کیا سیاست میں ریاست داخل کی عوامی خواہشات کے برعکس حکمرانی کی۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان تمام فوجی حکمرانوں کو سیاستدانوں نے بھی سہارا دیا۔ ویلکم کیا۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)