آبادی میں اضافے کے مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرنا ہوگا: عطااللہ تارڑ

  • منگل 02 / دسمبر / 2025

ڈان میڈیا گروپ کے تحت اسلام آباد میں ہونے والی پاپولیشن سمٹ میں وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور متعدد علمائے کرام نے آبادی میں اضافہ کو اہم مسئلہ قرار دیا اور اسے حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان پاپولیشن سمٹ کے دوسرے اور آخری دن کا آغاز اسلام آباد میں ہؤا۔ پاپولیشن کونسل کے ڈائریکٹر کمیونیکیشنز علی مظہر نے دوسرے دن کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ سمٹ کے پہلے دن کا فوکس بڑھتی ہوئی آبادی اور دستیاب وسائل کے درمیان موجود فرق پر تھا۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک ہم آبادی کے نظم و نسق کے لیے بہتر اقدامات نہیں کرتے، ایک محفوظ اور تعلیم یافتہ پاکستان کا قیام ممکن نہیں۔

علی مظہر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ آبادی میں اضافے کے مسئلے سے نمٹنے میں اسلامی اسکالرز کے کردار پر بھی کافی گفتگو ہوئی۔  خاندانی منصوبہ بندی اور ہمارے معاشرتی رویے پر سب سے زیادہ اثر علما ہی کا ہوتا ہے۔

آج کے  مباحثہ کے لیے پینل میں وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی، جامعہ دارالعلوم کے نائب صدر مفتی زبیر اشرف عثمانی، شریعت اپیلٹ بینچ کے رکن ڈاکٹر قبلہ ایاز، رویتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد اور اسکالر و قانونی ماہر حمیرا مسیح الدین شامل تھیں۔

وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے گفتگو کے آغاز میں ڈان میڈیا گروپ کی طرف سے  اس موضوع کو زیربحث لانے پر  تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کے نزدیک سب سے اہم بات مسئلے کو تسلیم کرنا ہے۔ جب تک ہم اسے ایک بڑے چیلنج کے طور پر قبول نہیں کرتے، ہمیں مسائل کا سامنا رہے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سب سے پہلے اسے تسلیم کرنا اور سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

وزیرِ اطلاعات نے یہ بھی نشاندہی کی کہ زچگی کے بعد ڈپریشن ایک حقیقت ہے جسے سمجھنا اور ماننا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ذہنی صحت آبادی سے جڑے مسائل میں صحت کا ایک اہم پہلو ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اس حوالے سے قانون ساز اور پارلیمنٹ کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ وسائل کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق اور ذمہ داریوں کے بارے میں سمجھ بوجھ ہونی چاہیے کہ کس کے حقوق ہیں اور کس کی ذمہ داریاں ہیں۔ عطا اللہ تارڑ نے آبادی کے بحران پر ایک چارٹر بنانے کی بات کی اور پارلیمنٹ میں اس پر بحث کروانے کی سفارش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی طرح کی حکمتِ عملی ہر جگہ کام نہیں کرتی۔ اور اس بات پر زور دیا کہ آبادی کی منصوبہ بندی میں مذہب رکاوٹ نہیں۔ وزیر اطلاعات نے اس مسئلے پر ایک چارٹر مرتب کرنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے کی تجویز دی۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین محمد راغب حسین نعیمی نے یاد دلایا کہ جولائی میں مشترکہ مفافات کونسل نے آبادی میں اضافے کے اسلامی نقطہ نظر پر بحث کے لیے ایک کانفرنس منعقد کی تھی، جہاں ایک قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد کی بنیاد یہ تھی کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں خاندانی نظام کا تحفظ، ماں اور بچے کی صحت کا خیال، پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ قرآن و سنت نے انسانی جان اور نسل کے تحفظ کو شریعت کا بنیادی مقصد قرار دیا ہے۔ اسی لیے جان کا تحفظ، ماں اور بچے کی بہتری، اور خاندانی منصوبہ بندی ایک اسلامی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ شریعت کی روشنی میں بالخصوص بچوں کی صحت کے پیش نظر بچوں کے درمیان وقفہ رکھنا والدین کی ذمہ داری ہے ۔ تمام مکاتبِ فکر کے علما اس بات پر متفق ہیں کہ اگر حمل کے دوران ماں کی صحت کو خطرہ ہو، ناقابلِ برداشت تکلیف کا خدشہ ہو، دودھ پلانے کے مسائل ہوں یا ماں کو متعدد پیچیدگیاں پیش آ سکتی ہوں تو شریعت پیدائش کی منصوبہ بندی اور وقفے کی اجازت دیتی ہے۔

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے آگاہی کے لیے ایک سوشل میڈیا مہم چلانے کی بھی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کا بنیادی اصول اعتدال ہے جو وسائل اور آبادی کے درمیان توازن کی بھی حمایت کرتا ہے۔ مولانا راغب نعیمی نے یقین دہانی کرائی کہ علما عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نہ تو علما اس معاملے میں پیچھے ہیں، نہ ہی وہ سمجھتے ہیں کہ بچوں میں وقفہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر راغب نعیمی نے عوامی نشستوں، کالج و یونیورسٹی سطح پر مباحثوں، اور اس موضوع پر تھنک ٹینکس بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

رویتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین عبدالخبیـر آزاد نے اس بات پر زور دیا کہ آبادی میں اضافے سے نمٹنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے پاپولیشن کونسل کے ساتھ اپنی 15 سالہ وابستگی کا ذکر کیا۔ اپنی کوششوں کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ہم نے یہ آگاہی دی کہ ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے برابر ہے اور پھر جب ہم نے ماں اور بچے کی صحت کی بات کی تو لوگوں نے سمجھا کہ یہ واقعی ایک نیک کام ہے۔

جامعہ دارالعلوم کراچی کے نائب صدر مفتی زبیر اشرف عثمانی نے بھی آبادی میں تیزی سے اضافے کے مسئلے پر شریعت کے موقف کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’بڑھتی ہوئی آبادی مسئلہ نہیں، یہ ایک وسیلہ ہے‘۔ تاہم انہوں نے کہا کہ توازن پیدا کیا جا سکتا ہے کیونکہ بعض حالات میں پیدائش پر قابو کی اجازت ہے، جیسے جب عورت کی صحت کو خطرہ ہو‘۔

مفتی زبیر اشرف عثمانی نے کہا کہ اسلامی قوانین غربت یا بھوک کے خوف کی بنیاد پر خاندانی منصوبہ بندی کی حمایت نہیں کرتے۔ اور نہ ہی اس صورت میں کہ والدین بیٹی کی پیدائش سے بچنا چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ آبادی میں اضافہ ایک مسئلہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ملک نے خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو صحیح طریقے سے استعمال کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ کے رکن ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اس معاملے میں پہل کرنے اور آبادی کے توازن کا تصور پیش کرنے پر اسلامی نظریاتی کونسل کی تعریف کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ’60 کی دہائی میں اسے خاندانی منصوبہ بندی کہا جاتا تھا‘۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے ’رزق‘ کے تصور کو آبادی کے ساتھ جوڑنے کے بجائے آبادی کو صحت کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ علما کا اتفاق ہے کہ آبادی میں اضافے کو رزق کے ساتھ نہ جوڑیں بلکہ صحت کے ساتھ جوڑیں کیونکہ اگر آپ پیدائش میں وقفہ نہیں رکھیں گے تو ماں اور بچہ دونوں متاثر ہوں گے۔

قانونی ماہر حمیرا مسیح الدین نے یاد دلایا کہ جولائی میں اسلامی نظریاتی کونسل نے پاپولیشن کونسل کے ساتھ ’حمل کے مسائل‘ پر مشاورت کی تھی، جس میں 47 مرد اور صرف 3 خواتین موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اسے درست کرنے کی ضرورت ہے، عورتوں کی نمائندگی انتہائی اہم ہے۔ حمیرا مسیح الدین نے اسلام میں عورت کی اہمیت پر بھی زور دیا اور قرآن کی آیت کا حوالہ دیا جس میں مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کا مددگار کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حمل کا ’بڑا بوجھ (جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی)عورت اٹھاتی ہے‘۔