مصنوعی ذہانت کی جوانی کا انتظار کریں

گزشتہ دنوں ڈان اخبار نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے کوئی رپورٹ شائع کر دی۔ غلطی مدیر سے یہ ہوئی کہ آخر میں وہ سطر حذف کرنا بھول گیا جس میں اے آئی کسی چوکس اور تابعدار ملازم کی طرح پوچھتا ہے کہ اور کوئی خدمت میرے لائق!

 پھر کیا تھا، پورے ملک میں گویا میمز کا طوفان برپا ہو گیا۔ ڈان کا ایسا ’توا‘ لگایا کہ اخبار نے نہ صرف معافی مانگی بلکہ یہ بھی کہا کہ ہم تحقیق کریں گے اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ یقیناً اِن تحقیقات کے نتیجے میں کسی غریب صحافی کی نوکری چلی گئی ہوگی۔ میرے خیال میں یہ ناکافی ہے۔ ڈان کو چاہیے کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کرے اور کھوج لگائے کہ اُن کے ادارے میں کون کون سا بندہ کمپیوٹر استعمال کرتا ہے، کیلکولیٹر سے جمع تفریق کرتا ہے اور موبائل فون کی مدد سے دنیا جہان کے کام نمٹاتا ہے۔ اِس سے بھی بات نہ بنے تو ایک جنرل قسم کا حکم نامہ جاری کر دے کہ آج کے بعد اگر ادارے کا کوئی ملازم کسی سائنسی ایجاد سے استفادہ کرتا ہوا پایا گیا تو اُسے سو کوڑے مارے جائیں گے اور بعد ازاں کالا پانی بھیج دیا جائے گا۔ تاہم اِس حکم نامے کو جاری کرنے میں مصیبت یہ ہے کہ اِس کے لیے بھی کمپیوٹر ہی سے کام لیا جائے گا، مائیکروسافٹ آفس پر یہ ٹائپ ہو گا اور پھر تمام لوگوں کو یہ نادر شاہی حکم ای میل کیا جائے گا۔

سوال یہ  پیدا ہوتا ہے کہ ڈان کے رپورٹر سے ایسا کون سا گناہ سرزد ہو گیا جو اِس سے پہلے کسی سے نہیں ہوا، ماسوائے یہ کہ وہ غریب اے آئی کا ’پرامپٹ‘ حذف کرنا بھول گیا۔ کیا ہم سب کمپیوٹر استعمال نہیں کرتے، اٹھتے بیٹھتے گوگل سے مدد نہیں لیتے، موبائل فون کی ایپس سے زندگی کا کاروبار نہیں چلاتے، بلکہ اب تو ہمارا حال یہ ہے کہ اپنے گھر جاتے وقت بھی گاڑی میں نقشہ کھول لیتے ہیں۔ سو سال تک مولوی صاحبان فتویٰ دیتے رہے کہ تصویر حرام اور لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ناجائز ہے۔ اور ہم پڑھے لکھے لوگ مذاق اڑاتے رہے کہ یہ ہمیں پتھر کے دور میں واپس دھکیلنا چاہتے ہیں۔ کیا اب خود وہی کام کرتے ہوئے اے آئی کے خلاف فتویٰ نہیں دے رہے؟

جی ہاں، وہ بات ہم جانتے ہیں کہ جس تخلیق پر ہمارا دعویٰ ہو یا جس تحریر کے نیچے ہمارا نام لکھا ہو، اُس میں مصنوعی ذہانت کی ملاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ مثلاً اگر یہ کالم میرے نام سے شائع ہوتا ہے تو اِسے اے آئی کی مدد سے نہیں لکھنا چاہیے، اسی طرح صادقین خطاطی کرتے ہیں یا شکیرا کوئی گانا بناتی ہے اور اُسے اپنے نام سے جاری کرتی ہے تو ہم یہی سمجھیں گے کہ یہ اصل اور خالص ہے اور اِس میں اے آئی کا کوئی کمال نہیں۔ مگر روز مرہ کی اخباری رپورٹیں، سرکاری دستاویزات میں لکھی جانے والی انگریزی، کاروباری مراسلے اور اِس نوعیت کے دیگر کام جن کے حقوقِ دانش پر نہ کسی کی ملکیت ہے اور نہ اُن کا کوئی والی وارث ہے۔ اُن کی نوک پلک سنوارنے میں اگر مصنوعی ذہانت سے کام لے لیا جائے تو نہ صرف وقت کی بچت ہو گی بلکہ کام چور اور نالائق قسم کے ملازمین سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔

لیکن یہ بات یہاں رکنے والی نہیں۔ آج کل انڈین فلم سیارہ کا بہت چرچا ہے، اُس کا ایک گانا تو بے حد ہی عمدہ ہے کہ سیارہ تو تو بدلا نہیں ہے موسم ذرا سا روٹھا ہوا ہے۔ ایک صبح میں یہ گانا سن رہا تھا کہ یوٹیوب نے میری پسند کو مدنظر رکھ کر اگلا گانا بھی یہی چلا دیا مگر کشور کمار کی آواز میں۔ اور اُس آواز میں ایسا جادو تھا کہ اگلے کئی روز تک میں وہی گنگناتا رہا اور دوستوں کو بتاتا رہا کہ اصل گانا تو پرانی فلم کا ہے جو نئی فلم نے چرایا ہے۔ لیکن باوجود کوشش کے میں وہ پرانی فلم تلاش نہ کر پایا، ذرا تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ کشور کی آواز میں ایسا کوئی گانا نہیں، کسی منچلے نے اے آئی کی مدد سے یہ گانا کشور کی آواز میں ڈھالا ہے۔ اب اگر سچ پوچھیں تو مصنوعی کشور کا گانا اصل سے زیادہ بہتر ہے، ، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اِس کی اجازت ہونی چاہیے؟

یہ سوال ہی غلط ہے، دنیا میں ایسا کوئی طریقہ نہیں جو اب اِس کام کو روک سکے، یہ فیصلہ صرف لوگ کریں گے کہ انہوں نے مصنوعی اور خالص میں سے کس کا انتخاب کرنا ہے۔ جلد ہی اے آئی کی مدد سے فلمیں بنیں گی جن میں پرانے اداکاروں کو، جو اب وفات پا چکے ہیں، نئے اداکاروں کے مدمقابل لایا جائے گا، جو کہ ایک اچھوتا تجربہ ہو گا۔ آج سے کچھ سال پہلے تک فلمیں اصل اور سچ مچ کی جگہوں پر بنائی جاتی تھیں مگر اب یار لوگ تردّد نہیں کرتے بلکہ ٹیکنالوجی کی مدد سے جعلی پہاڑ، ندی، نالے، دریا، ہوائی اڈے، ریلوے اسٹیشن اور قلعے ’تعمیر‘ کر کے ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے حقیقتاً وہ ہیرو کو کے ٹو کی چوٹی پر لے کر گئے ہوں۔ اگلے روز میں نے ٹائی ٹینک فلم کی پسِ پردہ شوٹنگ کی ایک ویڈیو دیکھی، جسے دیکھ کر میرا سارا رومانس ہی کِرکِرا ہو گیا۔ نہ کوئی سمندر نہ کوئی جہاز، سب نظر کا دھوکا اور کیمرے کا کمال۔ ظاہر ہے کہ فلم ایسے ہی بنتی ہے نہ کہ انہوں نے سچ مچ جیک کو ڈبو دینا تھا اور روز کو برف کے تختے پر تمام رات بٹھا کے رکھنا تھا۔ سو، اگر ہم اِن فلموں کو پسند کرتے ہیں تو اے آئی سے بنی فلموں کو پسند کرنے والے بھی کروڑوں لوگ ہوں گے، بات کہاں جا کر رکے گی؟

یہ بات کہیں نہیں رکے گی۔ اے آئی ایپس نے اب گرل فرینڈز بنانی شروع کر دی ہیں جو نہ کوئی نخرہ کرتی ہیں اور نہ بلاوجہ جھگڑا۔ اِن کا موڈ بھی خراب نہیں ہوتا اور تابعدار ایسی کہ جو حکم دیں بجا لاتی ہیں۔ لیکن بہرحال وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ مگر ابھی تو ابتدا ہے، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ جس طرح دودھ کی بوتلوں پر لکھا ہوتا ہے کہ یہ بھینس کا خالص دودھ ہے یا مٹھائی کی دکان کے باہر لکھا ہوتا ہے کہ خالص دیسی گھی سے تیار شدہ، اسی طرح وہ وقت بھی آئے گا جب ڈراموں، فلموں اور گانوں کے بارے میں لکھا ہو گا کہ انہیں اے آئی نے نہیں بلکہ خالص انسان نے تخلیق کیا ہے، دیکھیے اور سر دھُنیے۔

تفنن برطرف، ہم ایک خطرناک دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا دور ہے جس کے لیے دنیا کو نئے قواعد و ضوابط بنانے پڑیں گے۔ پرانے قانون اب کام نہیں دیں گے، اور نئے قوانین پر عمل کروانا مشکل ہو گا۔ ادب، آرٹ، کلچر کا مستقبل کیا ہو گا، کوئی نہیں جانتا۔ آرڈر پر اگر گرل فرینڈ مل سکتی ہے تو اپنی مرضی کا افسانہ، غزل یا نظم کیوں نہیں لکھوائی جا سکے گی اور اِس صورت میں ہمارے ادب کے کلاسیکی سرمائے کا کیا بنے گا؟ شاعر، ادیب اور افسانہ نگار تو پیدا ہوتے رہیں گے اور وہ اوریجنل اور تخلیقی کام بھی کریں گے لیکن میں تو اُس وقت سے ڈر رہا ہوں جب آپ اے آئی کو حکم دیں گے کہ میں نے یہ غزل لکھی ہے لیکن اِس میں تھوڑا سا غالب کا رنگ پیدا کر دو یا اِس میں خطابت کی کمی ہے تو اگر جوش ملیح آبادی کا ٹچ آ جائے تو یہ موثر ہو جائے گی۔ جب مصنوعی ذہانت نے اِس طرح کے احکامات کی تعمیل شروع کر دی تو پھر کیا باقی رہ جائے گا۔

مصنوعی ذہانت ابھی ہماری گود میں ہے اور انگوٹھا چوس رہی ہے، چودہ طبق اُس وقت روشن ہوں گے جب یہ جوان ہو گی۔ دیکھتے ہیں اِس کی جوانی کیا غضب ڈھاتی ہے!

(بشکریہ: ہم سب لاہور)