یہ پانچ دن مہنگے پڑیں گے!
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 04 / دسمبر / 2025
صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیر اعظم شہبازشریف کے مشورے پر آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیے ہیں۔ اگرچہ27 ویں آئینی ترمیم میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ختم کرکے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ آرمی چیف کو دینے کا فیصلہ کیا جاچکا تھا لیکن حکومت نے نوٹی فکیشن جاری کرنے میں پانچ دن تاخیر کی۔ یہ تاخیر موجودہ ہائیبرڈ نظام یا شریف خاندان کے لیے مہنگی ثابت ہوسکتی ہے۔
27 ویں آئینی ترمیم میں یہ بھی واضح کردیا گیا تھا کہ سابقہ چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کی 27 نومبر کو ریٹائرمنٹ کے بعد یہ عہدہ ختم ہوجائے گا۔ اس کے لیے یہ وضاحت بھی پیش کی گئی تھی کہ جنرل مرز کی قومی خدمات کی وجہ سے ان کی ریٹائرمنٹ تک جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی موجود رہے گی تاہم حکام نے اصولی طور سے اس طریقہ کو ختم کرکے آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کی اضافی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح اس ترمیم کے تحت ہی یہ طے ہوگیا تھا کہ جنرل ساحر شمشاد مرزا کی ریٹائرمنٹ کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر از خود چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر ہوجائیں گے۔ لیکن آئینی و قانونی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے کسی بھی حکومت کی طرف سے ایسی تقرری کا باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کرنا ضروری ہوتا ہے۔ شہباز شریف حکومت نے ابھی تک نامعلوم وجوہات کی بنا پر نوٹی فکیشن جاری کرنے سے گریز کیا۔
پہلے اس سوال پر خاموشی اختیار کی گئی لیکن اس اہم عہدہ کا نوٹی فکیشن جاری نہ ہونے پر ملک بھر میں سوالات کیے جانے لگے۔ پھر قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں اور شہباز شریف و نواز شریف کے درمیان اختلاف رائے سے لے کر فوج کے ساتھ فاصلہ کی باتیں سنائی دینے لگیں۔ دو دن کی بے یقینی کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک مہمل وضاحت دی کہ نوٹی فکیشن پر کام شروع ہو چکا ہے۔ جوں ہی یہ کام مکمل ہوگا تو وزیر اعظم کے ملک واپس آنے کے بعد یہ نوٹی فکیشن جاری ہوجائے گا۔ اس بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔ لیکن خواجہ آصف کے کہنے سے تو اس غیر معمولی صورت حال پر سوالات کاسلسلہ بند نہیں ہوسکتا تھا۔ اس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ نوٹی فکیشن جلد جاری ہوجائے گا ۔ اس بارے میں کارورائی شروع ہوچکی ہے۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، فیلڈ مارشل پہلے ہی اس عہدے کی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں۔ حالانکہ وزیر قانون ہونے کی حیثیت میں انہیں اس نوٹی فکیشن کی قانونی اہمیت کا اندازہ ہونا چاہئے تھا۔ اور یہ بھی پتہ ہونا چاہئے تھا کہ کوئی بھی عہدے دار اپنی تقرری کے باقاعدہ اعلان کے بغیر کوئی ذمہ داری نہیں سنبھال سکتا۔ اس دوران وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ یہ دور کی کوڑی لائے کہ نوٹی فکیشن کا اجرا کوئی معمولی طریقہ نہیں ہوتا۔ پہلے وزارت دفاع اسے تیار کرے گی پھر اسے وزیر اعظم ہاؤس بھیجا جائے گا جہاں اس پر غور کے بعد یہ حکم جاری کرنے کی ایڈوائس صدرمملکت کو بھجوائی جائے گی۔ یہ پیچیدہ قانونی عمل ہے، اس کام میں وقت صرف ہوتا ہے۔
لیکن جیسا کے ا س دوران میڈیا میں ہونے والے مباحث اور خود مسلم لیگ (ن) کے نمائیندوں کے بیانات سے ظاہر ہونے لگا تھا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تخلیق کرنے اور اس پر آرمی چیف عاصم منیر کو مقرر کرنے کے اصولی آئینی فیصلہ کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو اس میں سقم دکھائی دینے لگے تھے۔ نوٹی فکیشن جاری کرنے سے پہلے اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کی جارہی تھیں۔ اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے حامی صحافیوں کے ذریعے متعدد وضاحتیں بھی سامنے لائی گئیں۔ ایک تو یہ تھی کہ 27 ویں ترمیم میں چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تخلیق کرتے ہوئے صرف آرمی چیف کو اس عہدے پر فائز کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ گو کہ حکومت چاہتی تھی کہ موجودہ آرمی چیف پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز بنیں لیکن اس کی یہ خواہش بھی ہے کہ مستقبل میں اس عہدے پر سب فورسز کے سینئر ترین جرنیلوں میں سے کسی ایک کو اس عہدے پر مقرر کیا جاسکے۔ البتہ آئینی ترمیم میں آرمی چیف کو یہ عہدہ دینے کا ذکر کرکے جو غلطی ہوئی ہے، اسے درست کرنا ضروری ہے۔ ان اطلاعات کے مطابق اس بارے میں البتہ دو فریقین میں اختلاف رائے موجود تھا۔ البتہ ان فریقین کی نشاندہی نہیں کی گئی جو واضح طور پر حکومت اور فوج تھے۔ فوج اب کسی مزید آئینی تبدیلی کی حامی نہیں تھی۔
اس حوالے سے دوسری یہ وضاحت دینے کی کوشش کی گئی کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد موجودہ آرمی چیف کے عہدے کی مدت 29 نومبر2027 میں ختم ہوجائے گی۔ لیکن چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ پانچ سال کے لیے ہوگا۔ اس لیے 2027 میں اگر حکومت نیا آرمی چیف مقرر کرتی ہے تو تین سال تک ایک ایسا شخص چیف آف ڈیفنس فورسز رہے گا جو آرمی چیف نہیں ہوگا۔ اس لیے اس قانونی کمی کو دور کرنے کا راستہ تلاش کرنے کی وجہ سے نوٹی فکیشن میں دیرہورہی ہے۔ لیکن یہ وضاحت بھی اس طرح غلط ثابت ہوتی ہے کہ وزیر اعظم فورسز کے کسی چیف کی مدت ملازمت میں جتنی چاہیں توسیع کرسکتے ہیں۔ جیسے آج ہی پاک فضائیہ کے سربراہ ائرمارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت میں دو سال کی توسیع کی گئی ہے۔ اتنی ہی آسانی سے 2027 میں آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مدت میں بھی تین سال کی توسع کی جاسکتی تھی۔ اس کے علاوہ کسی وضاحت کے بغیر نوٹی فکیشن جاری ہونے سے واضح ہوگیا ہے کہ یہ دونوں قیاس آرائیاں درحقیقت عوام کو مصروف رکھنے کی کوششیں تھیں۔ اصل مسئلہ کچھ اور تھا۔
ان میں سر فہرست نواز شریف کی فوج سے پریشانی کا معاملہ ہے۔ یہ نوٹ کرنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوسکتا کہ 27 نومبر کو چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہونا تھا اور 26 نومبر کو نو منتخب ارکان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف ان عناصر کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں جو عمران خان کو اقتدار میں لانے کے ذمہ دار تھے۔ ظاہر ہے ان میں پاک فوج کے سابق سربراہ اور دیگر اہم عہدیداروں کے نام آتے ہیں۔ اس بیان کی ٹائمنگ نے بہت سے مبصرین کو حیران کیا ۔ اس کے ایک ہی دن بعد جب چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کا نوٹی فکیشن جاری نہیں ہؤا تو فوجی اور سول قیادت میں اختلافات کی خبریں بھی ڈرائینگ روموں کی سرگوشیوں کے علاوہ سوشل میڈیا کے تبصروں میں جگہ پانے لگیں۔ حکومت نے اس تعطل یا تاخیر کی کوئی قابل قبول وضاحت جاری کرنے کی بجائے خاموش رہنا مناسب سمجھا جس سے افواہوں اور قیاس آرائیوں میں اضافہ ہؤا۔ بعد میں وزیروں نے اس معاملہ کو سنبھالنے کی بجائے غیر معقول بیانات کے ذریعے شبہات میں اضافہ کیا۔
یوں لگنے لگا تھا کہ نواز شریف اپنی پرانی عادت کے مطابق ہر چند سال بعد فوج سے ’ٹکر‘ لینے کی خوہش پوری کرنے کے مشن پر گامزن ہیں۔ اور اس کوشش میں پورا ہائیبرڈ نظام داؤ پر لگ گیا تھا۔ نوٹی فکیشن کے اجرا میں تاخیر کی کوئی قابل قبول وجہ سامنے نہ لانے کی وجہ سے یہی قرین از قیاس ہے کہ شریف برادران کو 27 ویں آئینی ترمیم لانے کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کرتے ہوئے یہ خدشہ لاحق ہؤا کہ اس طرح وہ پانچ سال کے لئے بے دست و پا ہوجائیں گے۔ اگر سی ڈی ایف کی تقرری صرف دو سال کے لیے ہو تو 2027 میں آرمی چیف کی توسیع یا نئے آرمی چیف کی تقرری کے وقت ان کے پاس ایک بار پھر چیف مقرر کرنے کا اختیار رہے گا۔ البتہ یہی دکھائی دیتا ہے کہ فوج کو حکومت کی یہ تجویز قبول نہیں تھی جس کی وجہ سے نوٹی فکیشن کا اجرا روک کر حکومتی طاقت ظاہرکرنے کی کوشش کی گئی ۔اور قانونی راستہ نکالنے کی بات شروع ہوئی۔
کسی وضاحت کے بغیر چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کا نوٹی فکیشن جاری کرنےسے واضح ہوتا ہے کہ فوج کی خواہش پوری ہوئی ہے اور حکومت اس عہدے کی مدت میں کمی بیشی کا حساب کتاب لگاتی ہی رہ گئی۔ تاہم جہاں دیدہ اور تجربہ کارہونے کے باوجود شریف برداران یہ سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ ایسے ہی اختلافات کے نتیجے میں سول ملٹری کے درمیان ون پیج اشتراک بحران کا شکار ہو کر بکھرتاہے۔ عمران خان کے ساتھ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا اختلاف بھی آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کے سوال ستمبر2021 میں شروع ہؤا اور اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ منظور ہوگیا۔ موجودہ وزیر اعظم یہ تحریک لانے والوں میں پیش پیش تھے۔
اب ایک نوٹی فکیشن کے اجرا میں پانچ دن کی تاخیر کرکے نہ صرف غیر ضروری قیاس آرائیوں کی راہ ہموار کی گئی ہے بلکہ موجودہ سول حکومت اور فوج کے تعلقات میں جو دراڑ پڑی ہے، وہ ملکی سیاست پر دوررس اثرات کا سبب بن سکتی ہے۔ شریف برادران نے بظاہر تابعداری کی سیاست میں بغاوت کی مینگنیں ملانے کی کوشش کرکے خود اپنی سیاست پر خود کش حملہ کیا ہے۔