اب جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں ہوگی: وزیر اطلاعات

  • ہفتہ 06 / دسمبر / 2025

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جیل ملاقاتیں مکمل طور پر بند کردی گئی ہیں۔ اب ملاقات کی اجازت ہوگی اور نہ ہی جیل کے باہر کسی قسم کا ہجوم اکٹھا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ 

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل کے باہرسے ملک کے خلاف سازش اور بھارتی چینلز کو انٹرویو دیے جاتے ہیں۔ اب کسی کو جیل کے باہر ہجوم اکھٹا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بانی پی ٹی آئی ملک کے لیے خطرہ ہیں اور ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ وہ اور اس کی پارٹی ملک کو ڈیفالٹ کروانا چاہتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ڈیفالٹ کروانے کےلیے آئی ایم ایف کو خطوط لکھے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ 9  مئی کو فوجی تنصیبات پرحملےکیے گئے۔  جو کام دشمن بھی نہیں کرتا وہ پی ٹی آئی نے کیا، جب کہ عمران خان پاکستان کی سالمیت کےلیے خطرہ ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو  اپنا سیاسی مستقبل نظرنہیں آرہا اس لیے وہ ایسا بیانیہ بنا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملاقات کے دوران سیاسی ہدایات دی گئیں جو قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اسی وجہ سے ملاقاتیں بند کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جیل کے باہر کسی نے امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی تو سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ ریاست کی رٹ ہر صورت بحال کی جائے گی۔ قیدی کی ملاقات قانون اورضابطے کے مطابق ہوتی ہے۔ کوئی ملاقات نہیں ہے، ملاقات بند ہے۔ جیل کے باہرکسی نے امن امان خراب کرنے کی کوشش کی تو مقدمات ہوں گے، آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا نوٹیفکیشن آگیا ہے۔ انہیں شرم آنی چاہیے جنہوں نے چائے کی پیالی میں طوفان کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ ایک سوال کے جواب میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کا دروازہ اب بند ہو چکا ہے کیونکہ انہوں نے اور ان کی جماعت نے موقع گنوا دیا ہے۔ اب کسی انتشاری، دہشت گرد، انتہاپسند سوچ رکھنے والے سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ بانی پی ٹی آئی کے بغیربات کرنی ہے توپارلیمنٹ میں ضرور بات کریں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اگر کوئی راستہ چاہیے تو انہیں معذرت کرنا ہوگی اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کے قائد نے غیر ذمہ دارانہ اور نقصان دہ بیانات دیے۔ بانی پی ٹی آئی نے اپنی جماعت کو بھی مشکل میں ڈالا ہے اور ان کے کئی رہنما خود اعتراف کرتے ہیں کہ وہ انہیں غلط سمت میں لے گئے۔

اس دوران وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور سینیٹر رانا ثنااللہ نے واضح کیا ہے کہ پی ٹی آئی سے اب مذاکرات کے امکانات نہیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ٹوئٹ کے بعد پیدا صورتِ حال سے لگتا ہے کہ حالات مزید پیچیدہ ہوگئے۔ بانی صورتِ حال کو مزید خرابی کی طرف لے گئے۔

اس سے پہلے اپنے بیان میں رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت ڈائیلاگ سے آگے بڑھتی ہے، ڈیڈلاک سے نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو مذاکرات کی جو پیش کش وزیر اعظم نے کی وہ آج بھی موجود ہے۔