پائیدار اور مستحکم معاشی ترقی کے بغیر
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 06 / دسمبر / 2025
لگتا ہے کہ حکومت عمران خان کے حوالے سے سیدھی ہو گئی ہے۔ عمران خان جیل میں بیٹھ کر نہ صرف کھلے عام اپنی پارٹی چلا رہے ہیں، دو سال کا عرصہ گزرنے کو ہے حکومت خان کے ہاتھوں زچ دکھائی دیتی ہے۔ وہ نہ صرف زبانی کلامی حکومت کے لئے سوہانِ روح بنے ہوئے ہیں بلکہ عملاً بھی مشکلات پیدا کرتے رہتے ہیں۔
ویسے ان کی دشنام طرازی سے تو کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ ان کے سوشل میڈیا والے ریاست اورچیف کے خلاف کھلے عام منفی بلکہ غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں۔ چیف کو للکارتے ہیں، بُرے القاب دیتے ہیں۔ ہماری سیاسی حکومت اور اتحادی اس حوالے سے زیادہ سیریس نہیں رہتے ۔ان کے رویوں سے لگتا ہے کہ انہوں نے عمران خان ایشو فوج کے حوالے کر رکھا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عمران خان کو چیف بھی انہوں نے بنایا تھا، اسے اقتدار میں لے کر آئے تھے ،اب اس چیف سے وہ خود ہی نمٹیں۔کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جب تک عمران خان جیل میں ہے اور فوج کے ساتھ برسرپیکار ہے ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ عملاً بھی ایسا ہی نظر آتا ہے کہ انہوں نے عمران خان کے منفی اور ملک دشمن بیانیے کے خلاف کوئی بیانیہ تشکیل دینے میں سرگرمی نہیں دکھائی ۔
عمران خان نے ایک نئی نسل کو زہرآلود کر رکھا ہے، انہیں دشنام طرازی اور منفی سرگرمیوں کی راہ دکھائی ہے۔ ہمارے موجودہ حکمران ن لیگی اور پیپلزپارٹی و دیگر سیاسی جماعتوں و سیاستدانوں نے اس منفی ریاستی بیانیے کے خلاف یعنی عمران خان اور پی ٹی آئی کی طرف سے تشکیل کردہ منفی ریاستی بیانیے کے خلاف نہ تو کوئی محاذ قائم کرنے میں سرگرمی دکھائی اور نہ ہی کوئی طاقتور مثبت بیانیہ تشکیل دینے میں سرعت دکھائی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نوجوانوں میں مثبت افکار کی تشکیل اور منفی پروپیگنڈے کے خلاف محاذ پر سربکف رہتے ہیں تو دوسری طرف نمک حرام طالبان کے خلاف پاکستان کا دفاع کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ہمارے سیاستدان حکمران بیرونی دوروں پر فعال نظر آتے ہیں لیکن اب ایسے لگتا ہے کہ حکومت شاید جاگ گئی ہے یا جگائی گئی ہے۔ ریاست کے خلاف منفی سرگرمیوں کے مرکز اور محور قیدی نمبر804کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ کوئی بھی ملاقاتی اب باہر آکر سیاسی منڈلی نہیں لگا سکے گا۔ قیدی کا سیاسی پارٹی چلانے کا حق ختم،حق نہیں بلکہ ایک سزا یافتہ مجرم کی پارٹی چلانے اور انتشار پھیلانے کی آزادی ختم کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ چلیں دیر آید درست آید۔
برطانیہ میں بیٹھے شہزاد اکبر اور میجر عادل کے خلاف بھی حکومت فعال ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ان دو ملزمان کی حوالگی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ ہمارے داخلہ امور کے نقوی صاحب نے برطانوی سفیر سے ملاقات کرکے دونوں کی فائلیں اس کے حوالے بھی کر دی ہیں۔ گویا اس حوالے سے کچھ سرگرمی، عملی اقدامات کی صورت میں نظر آنے لگی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ ویسے تاریخی اعتبار سے سیاسی قسم کے ملزمان کی حوالگی کی مثالیں بہت کم ہیں۔ حکومت پاکستان نے ایم کیو ایم کے الطاف کو یہاں واپس پاکستان لانے کی کاوش بھی کی، لیکن کامیابی نہیں ہو سکی۔ مونس الٰہی، فرح گوگی اور ملک ریاض وغیرہ بھی اسی صف میں شامل ہیں۔ مغرب میں صرف دو طرح کے ملزمان کی حوالگی کی جاتی ہے۔ ایک ایسے مطلوب افراد جو منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے ہوں اور دوسرے دہشت گردی میں شامل افراد۔
بنک آف پنجاب کے ہمیش خان کی حوالگی اس کی ایک مثال ہے۔ اس لئے حکومتی کاوشیں اپنی جگہ درست بھی ہو سکتی ہیں۔ شہزاد اکبر اور میجر عادل راجہ پاکستان کے خلاف محاذ قائم کئے ہوئے ہیں۔ جھوٹا پروپیگنڈہ بھی پھیلاتے ہیں اور اسی طرح کی دیگر سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں لیکن برطانیہ میں آزادی تحریر و تقریر کی مد میں یہ سب کچھ شاید جائز ہے۔ اس لئے انہیں برطانیہ بدر نہیں کیا جائے گا بلکہ پاکستان کی طرف سے ان افراد کی حوالگی کی کاوشیں، انہیں برطانیہ میں سیاسی پناہ لینے کا مضبوط امیدوار بھی بنا سکتی ہیں۔ بہرحال دیکھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں واقعات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔
عمران خان کے ساتھ ملاقاتیوں پر قوانین کا اطلاق ایک اچھی روایت ہے لیکن کیا عمران خان کی منفی اور شرانگیز حرکتیں ختم ہو جائیں گی۔ ان کی زہر انگیزی کم ہو جائے گی؟ لگتا ہے ایسا نہیں ہوگا کیونکہ پی ٹی آئی کا خمیر بھی شرانگیزی اور نفرت پر اٹھایا گیا ہے، ان کی سیاست نفرت پر استوار ہے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے اور اقتدار میں آنے کے بعد بھی ان کی یہی سیاست روبہ عمل رہی۔ اقتدار سے رخصتی کے بعد تو اس کو چارچاند لگ گئے۔ ان کے چیلے چانٹے تو کھل کھلا کر پاکستان کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ ان کی بہنیں تو انڈین ٹیلی ویژن چینلز پر بیٹھ کر ملک دشمنی کا مظاہرہ کررہی ہیں حالانکہ کہنے کو وہ صرف عمران خان کی بہن ہے اور اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
عمران خان اور ان کی سیاست جو کچھ بھی ہے ہمارے سامنے ہے۔ اس کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ وہ کیا کہتے رہے ہیں اور کیا کرتے رہے ہیں، سب ہمارے سامنے ہے۔ اور وہ کیا کرنا چاہتے ہیں یا کیا کریں گے تو اس بارے میں بھی کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے حواری کھلے عام کہتے پائے گئے ہیں کہ ”عمران نہیں تو پاکستان بھی نہیں ہے“۔ گویا عمران خان پاکستان سے بھی بلند ہے۔ کم از کم ان کے ماننے والوں کے نزدیک تو ایسا ہی ہے۔ ان کی عوامی پذیرائی کے بارے میں بھی کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ سیاسی بیانات کو ایک طرف رکھ فروری 2024 کے انتخابات کے نتائج کا تجزیہ کرلیں تو صورت حال واضح ہو جاتی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کے ساتھ برتاؤ کیا ہونا چاہیے۔ اسے ریاست دشمن اور ملک دشمن کے طور پر لینا چاہیے یا ایک سیاسی رہنما کے طور پر سلوک کرنا چاہیے۔ ایسے لگتا ہے کہ ریاست اور حکومت شاید کسی مخمصے کا شکار ہے۔ کوئی واضح پالیسی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ 2سال سے اسے قید میں رکھا ہوا ہے۔9مئی کے واقعات سے جو دباؤ تحریک انصاف پر پڑا تھا ،وہ بھی ہوا ہو گیا ہے۔ الٹا اب تو تحریک انصاف والے اسے فالس فلیگ آپریشن قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم اور اس کے رہنما جھوٹ اور مکر کی خبریں پھیلا کر سیاسی و معاشرتی بے اطمینانی پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں جس کے باعث معاشی تعمیر و ترقی کا خواب حقیقت نہیں بن پا رہا۔ ویسے کئی ایک دیگر عوامل ایسے بھی ہیں جن کے باعث پاکستان کی قومی معیشت کھلے پن کا اظہارکر پا رہی ہے۔
کروڑوں افراد خطِ غربت سے نیچے زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ 10مئی کی بھارت پر ہماری عسکری فتح اپنی جگہ بہت بڑی بات ہے لیکن صرف عسکری فتح کے سہارے ملک نہیں چل سکے گا اس کے لئے پائیدار اور مستحکم معاشی ترقی کا ہونا ضروری ہے جو سردست ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)