ایک ادارے کے ڈی جی اور ایک جعلی سینیٹر میں فرق ہونا چاہیے: وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا
اتوار کو پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس کا جواب دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ایک ادارے کا ڈی جی آ کر پریس کانفرنس کرتا ہے اور میرے بارے میں غلط الفاظ استعمال کرتا ہے۔ میں غیور پختون قبائلی ہوں، میری تربیت ایسی نہیں ہے کہ میں گالیاں دوں۔
تاہم ’ایک ادارے کے ڈی جی اور ایک جعلی سینیٹر میں فرق ہونا چاہیے۔ ایک پارٹی کے دو جعلی وزرا اور ایک ادارے کے ڈی جی میں فرق ہونا چاہیے۔ نہ آپ ایک جعلی سینیٹر ہیں اور نہ آپ کسی پارٹی کے ترجمان ہیں۔
جمعے کو پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے تحریک انصاف کے لیڈروں کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ اور انہیں قومی سلامتی کے لیے خطرہ، ذہنی مریض، خود پسند اور اپنی ذات کا قیدی قرار دیا تھا۔ انہون نے اس شخص کا نام نہیں لیا جس کے لیے وہ یہ الفاظ استعمال کر رہے تھے لیکن پاکستانی سیاست پر نظر رکھنے والے ہر شخص کو یہ معلوم ہو گا کہ ان کی ڈیڑھ گھنٹہ طویل پریس کانفرنس کا مرکز اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان تھے۔ خود عمران خان گذشتہ کئی برسوں سے پاکستانی فوج کے سربراہ (اور اب چیف آف ڈیفینس فورسز) فیلڈ مارشل عاصم منیر پر سخت الزامات لگا رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور میں جلسہ عام سے خطاب میں کہا کہ میرے بڑوں نے مجھے ملک اور اس کے اداروں سے محبت سکھائی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا سکیورٹی معاملات پر سنجیدہ نہیں ہے، سنجیدہ تو آپ نہیں ہیں۔ 21 برس سے آپریشن پر آپریشن، ڈرون پر ڈرون، 21 سال سے میرے پختون کا خون بہہ رہا ہے۔ 21 سال سے میرا پختون پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر 21 سال میں آپ کی پالیسی کامیاب نہیں ہو رہی ہے تو قصور آپ کا ہے، آپ اپنی پالیسی بدلیں۔ ہم تنقید برائے تنقید نہیں کرتے بلکہ حل بھی بتاتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے موجودہ سکیورٹی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہر آنے والا بندہ ایک نئی پالیسی بناتا ہے اور ایک نیا تجربہ کرتا ہے۔ یہ غیور عوام کا صوبہ خیبر پختونخوا ہے۔ کوئی لیبارٹری نہیں ہے۔ ’اب ایک پالیسی بنے گی، یہ صوبے کے عوام بنائیں گے اور وہی پالیسی چلے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ہماری ان باتوں سے ان کو تکلیف ہوتی ہے تو ہم تکلیف پہنچائیں گے۔ جو پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا، یہ ہمیں کوئی ڈکٹیٹ نہیں کرے گا۔ فیصلہ عوام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم پر کیا تنقید کر رہے ہو، ہماری تربیت یہ ہے کہ ملک کی خاطر اگر جان و مال قربان کرنا پڑے تو دریغ نہیں کرنا۔ اسی لیے ہم نے 80 ہزار سے زیادہ جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ اس پاکستان کو خوشحال دیکھنے کے لیے قربانیاں دی ہیں۔
پشاور کے جلسے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خطاب سے قبل قومی ترانہ بجایا گیا۔ سہیل آفریدی نے اپنے خطاب کا آغاز پشتو کے ایک شعر سے کیا جس پر جلسے میں نعرے بازی شروع ہو گئی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں پشاور کے لیے سو ارب روپے کے پیکج کا بھی اعلان کیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورننس نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورننس ہے تو عوام تیسری مرتبہ عمران خان کو ووٹ دے رہے ہیں۔گورننس تو ان کی نہیں ہے جنہیں اب آئی ایم ایف نے چارج شیٹ کیا ہے کہ اشرافیہ نے عوام کے ٹیکسز میں سے پانچ ہزار تین سو ارب روپے کی کرپشن کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھ پر جو الزامات لگے وہ آپ نے سنے۔ مجھے کبھی ایک نام سے پکارا گیا، کبھی دوسرے نام سے۔ میں علامہ محمد اقبال کا شاہین ہوں۔ کچھ کوے اگر مجھے چونچ ماریں گے تو میں نے پرواز اونچی کرنی ہے، میں نے کوے سے نہیں لڑنا۔ یہ سیاسی کوے ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی حد تک تو کچھ نہیں کہتا مگر جب بات عمران خان کی آئے گی تو پھر جواب دیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور آئین کی بحالی کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔