ہم کہاں کھڑے ہیں
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- سوموار 08 / دسمبر / 2025
پاکستان کی حکومت اور عوام ایک عجیب مخمصے کا شکار ہیں۔ ایک طرف ہمیں سب اچھا ہے نظر آ تا ہے تو دوسری طرف کچھ بھی اچھا نہیں ہے۔ ہمارے حکمران، ہمارے سیاستدان، ہمارا میڈیا، ہمارے ٹاک شوز کے ماہرین اور ہمارے دانشور نئے فلسفے اور نئے بیانیے کے راگ الاپتے نظر آتے ہیں لیکن صورت حال میں کیسی قسم کی نمایاں تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی۔
ہر بحث ہر عمل اور ہر ردعمل کی تان یہیں آ کر ٹوٹتی ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہم میں سے ہر کوئی ایک دوسرے سے کرتا نظر آ تا ہے مگر اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ ہم کتنے برسوں سے ایک ہیں جگہ کھڑے ہیں اور رستہ بھی نہیں بدلا اور منزل بھی نہیں پائی۔ ہر کہ آ مد عمارت نو ساخت کے مصداق ہمارے حکمران تبدیلی کا نعرہ ضرور لگاتے ہیں مگر تبدیلی آ تی نہیں۔ سیاست دان حکومت میں ہوں اور ہوتے ہیں۔ اپوزیشن میں ہوں اور ہوتے ہیں۔ مہنگائی آ سمان سےباتیں کرتی ہے۔ عوام کے مسائل روز بروز بڑھتے رہتے ہیں۔
حکومت مہنگائی ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتی ہے مگر اس کے اثرات حاصل نہیں کر پاتی۔ کھلے مین ہولوں میں بچے گرنے کے واقعات بھی متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ ناقص حکمت عملی اور غیر مستقل مزاجی کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے کہ ہمارے سیاستدان اراکین اسمبلی اور عوام تعاون نہیں کرتے۔ سفارش کلچر بھی ختم نہیں ہوسکا۔ حال ہی میں ٹریفک کے معاملات ٹھیک کرنے کے لئے جو کریک ڈاؤن ہوا، اس کے نتائج بھی الٹ نکلے۔ اب سمارٹ کارڈ اور 18 سال سے کم عمر بچوں کے ڈرائیونگ لائسنس کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جس کے لئے قانون سازی کرنا ہوگی۔
حکومت کو اداروں اور سول سوسائٹی کے تعاون کے ساتھ سستے اور معیاری ہیلمٹ فراہم کرنے کی پالیسی بھی بنانی چاہیے۔ گزشتہ کئی سالوں سے پتنگ بازی پر پاپندی تھی جس کی وجہ سے پتنگ کی ڈور سے ہونے والے حادثات رکے ہوئے تھے۔ اب کچھ روشن خیال طبقات کی فرمائش پر اس کی اجازت دینے سے پھر مسائل پیدا ہوں گے کہ کچھ عناصر کسی بھی قانون کی پوری طرح دھجیاں اڑانے کےلئے تیار رہتے ہیں۔ اب پتنگ باز سجنے پھر اودھم مجاتے نظر آ ئیں گے اور قوانین کو ہوا میں اڑایا جائے گا۔
شادیوں پر ہوائی فائرنگ اور ون ڈش کی پاپندی کے قوانین پہلے بھی موجود تھے۔ مگر عمدآرمد نہ ہونے کی وجہ سے متروک تھے۔ اب پھر حکومت نے ون ڈش پاپندی اور لاؤڈ سپیکر اونچی آ واز سے ڈیک چلانے کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے قبضہ گروپوں اور منشیات فروشوں اور خواتین کو تنگ کرنے والوں کے خلاف بھی گھیرا تنگ کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ بھی قابل تحسین ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور آ قائے کائنات کی تعلیمات بھی سادگی اور کفایت شعاری کا درس دیتی ہیں۔ ہم سب کو اسوہ حسنہ پر عمل کرنا چاہیے۔ سارے کام حکومت نےہی نہیں کرنےہوتے عوام نے بھی کچھ کرنا ہے۔ آئین پر عمدارمد ضروری ہے، بنیادی عوامی حقوق کی پاسداری ضروری ہے، ملک میں جمہوریت کا فروغ ضروری ہے،
ملک سے بدامنی مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ ملک کا نوجوان طبقہ اپنے مستقبل اور خوابوں کی تعبیر کے لئے جائز اور ناجائز طریقے سے بیرون ملک نہ جائے۔
مہنگائی کے خاتمے کے لئے شنید ہے کہ غلہ منڈیوں اور سبزی منڈیوں کو ختم کر کے کاشتکاروں کے ساتھ مل کر حکومت سستے بازار قائم کرنے کا بھی سوچ رہی ہے۔ بہرحال کسی بھی فیصلے اور اقدامات سے قبل مشاورت بھی کی جائے ورنہ:
دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے
والی صورت حال درپیش رہےگی۔ ٹریفک سینس پیدا کرنے کے لئے حکومتی سرکاری اور عوامی سطح پر آ گاہی مہم ضروری ہے مختلف اوقات اور مختلف شاہراہوں اور تعلیمی اداروں کے اوقات میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ ممنوع کیا جائے۔ قانون سب کےلئے یکساں ہو ،بہت سے ٹریفک کے حادثات اور معاملات میں با اثر ملزم اور مجرم پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں۔ اور قانون کا شکنجہ کمزور اور بے آ سرا لوگوں پر ہی کسا جاتا ہے۔ سوچنےکی بات ہے کہ انصاف کی فراہمی میں پاکستان 143 ممالک کی فہرست میں 130 ویں نمبر پر ہے۔ جبکہ کرپشن میں 180 ممالک میں پاکستان کا 135 واں نمبر ہے۔
سو اس رینکنگ کو دیگر شعبوں میں بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے جس کے لئے صرف اپنے فائدے کے قوانین بنانے کی بجائے ملکی مفاد اور مفاد عامہ کے قوانین بنائے جائیں۔ تاکہ تمام شعبوں میں ترقی ہوتی نظر بھی آ ئے۔ ریاست کو مضبوط بنانے اور امن کے فروغ کے لئے جہاں داخلی اور خارجی پالیسیوں کو بہتر انداز میں بنانے اور چلانے کی ضرورت ہے، وہاں ریاست کو مضبوط بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ تاکہ کوئی بھی دشمن پاکستان کی طرف میلی آ نکھ سے نہ دیکھ سکے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور صوبوں کے درمیان ملکی یک جہتی کی فضا قائم کرنے کے قومی سطح کے کمشن کے قیام اور ڈائیلاگ کی بھی اشد ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے لئے بھی واضح پالیسی کا تشکیل دئیے جانا ضروری ہے تاکہ ریاست مخالف بیانیہ پروان نہ چڑھ سکے۔
قومی معاملات اور مسائل کو پوری ہم آ ہنگی اور مشاورت سے حل کیا جائے تو شاید ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں کہ موجودہ حکومتی سیاسی اور عوامی منظر نامے سے پوری قوم میں مایوسی اور بے یقینی پھیلی ہوئی ہے۔ ہم سب کو اس منظر نامے میں کچھ ایسے رنگ بھرنے ہوں گے جو دل و نظر کو بھلے لگیں اور جن کی وجہ سے امید بہار کی نوید سنائی دے۔