پاکستان کو کس سے خطرہ ہے؟

شاید پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو ہمیشہ سے نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ہر لیڈر کا دعوی ہے کہ وہی پاکستان کو بچا سکتا ہے، فوجی قیادت بھی ہمیں دنیا کے کئی کمزور ممالک کی مثالیں دے کر ڈراتی رہتی ہے کہ اگر ہم نہ ہوں تو پاکستان محفوظ نہیں رہ سکتا۔ آخر ہمیں خطرہ کس سے اور کیوں ہے؟

کیا ہمارے دشمن بیرونی ہیں یا اندرونی؟ اگر بیرونی دشمن کی بات کی جائے تو پہلی نظر بھارت پر جاتی ہے جس نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان چونکہ اپنے نظریے کی بنیاد پر ہندوستان سے الگ ہوا تھا جسے بھارت نے دل سے تسلیم نہیں کیا تھا۔ ہندوؤں کا استدلال تھا کہ برطانیہ یہاں سے نکل جائے اور ہندوستان ایک ملک رہے مگر قائد اعظم اور مسلمان راہنما جانتے تھے کہ برطانیہ کے نکل جانے کے بعد اس ملک پر ہندوؤں کا غلبہ ہوگا اور ہندوؤں بہت متعصب مذہب ہے جو دوسروں کے حقوق کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس لیے ہمیں ایک ایسی الگ ریاست کی ضرورت تھی جہاں سب لوگ اپنے اپنے نظریے اور عقیدے کے مطابق آزادی سے زندگی گزار سکیں۔

پاکستان بنتے وقت بھی بہت ظلم ہوئے، دونوں طرف لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی، ہزاروں ناحق قتل ہوئے اور عزتوں کی پامالی ہوئی۔ بھارت کی پہلے دن سے کوشش رہی کہ پاکستان بطور ایک ریاست کامیاب نہ ہو سکے۔ بھارت شروع دن سے پاکستان کے خلاف سازشیں کرتا آ رہا ہے۔ 71 کی جنگ بھی بھارت نے بلا وجہ اور بلا اشتعال پاکستان پر مسلط کی اور بنگلہ دیش کو پاکستان سے الگ کیا۔ اسی طرح کشمیر پر بھی بھارت نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ اسی لیے بھارت پاکستان کے تعلقات معمول پر نہ آ سکے اور دونوں ممالک میں دشمنی چلتی آ رہی ہے۔

افغانستان کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات کبھی مثالی نہیں رہے۔ وجہ سرحدی تنازعہ ہو یا ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت ہو۔ لیکن دونوں ممالک کے بیچ زیادہ وقت چپقلش رہی ہے۔ افغانستان ہمارا برادر ہمسایہ ملک ہے، اس لیے دونوں کے عوام کے بیچ رشتے موجود ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے ناراض ہو کر مطمئن نہیں رہ سکتے۔ بالخصوص افغانستان کا کئی لحاظ سے پاکستان پر انحصار ہے۔ افغانستان کی نہ صرف پاکستان سے تجارت مجبوری ہے بلکہ افغانستان کی تجارتی راہداری بھی پاکستان سے گزرتی ہے۔ اب ان دو ممالک کے علاوہ دنیا کے کس ملک کو پاکستان نے کبھی تکلیف پہنچائی ہے؟ اگر پاکستان اسرائیل کے فلسطینی زمین پر ناجائز قبضے اور فلسطینیوں پر مظالم پر تنقید کرتا ہے تو یہ غلط تو نہیں بلکہ پوری دنیا فلسطینیوں پر مظالم کے خلاف ہے۔

اب ذرا اندرونی خطرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان کو بیرونی قوتوں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا اندرونی خلفشار اور آپس کی لڑائیوں نے نقصان پہنچایا ہے۔ اور اس لڑائی کا محور سیاسی اور فوجی قیادت کے گرد گھومتا ہے۔ شروع دن سے یہ کھیل جاری ہے۔ فوجی قیادت چاہتی ہے کہ تمام بڑے فیصلے بشمول خارجی تعلقات وہی کریں، جبکہ سیاسی قیادت سمجھتی ہے کہ عوام نے ان کو منتخب کیا ہے تو انہیں فیصلے کرنے کا اختیار بھی ہونا چاہیے۔ میرا نہیں خیال کہ کبھی کوئی پاکستانی غدار رہا ہے۔ نہ فوجی قیادت غدار ہے تو نہ ہی کوئی سیاستدان سیکیورٹی رسک ہے۔ فوج پاکستان کی ہے اور ہمارے ہی بچے فوج میں بھرتی ہو کر وطن کا دفاع کرتے ہیں۔ بات صرف انا کی ہے جو ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس میں زیادہ قصور وار اسٹیبلشمنٹ ہے جنہوں نے ہمیشہ ملک پر اپنا کنٹرول رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اور عوام کے فیصلوں کو پاوں تلے روندتے رہے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ فوج کا نام نہیں بلکہ اس سوچ کا نام ہے جو چند جرنیلوں کی ہوس اقتدار ہوتی ہے۔ پچھلے 50 برس سے وہی سیاسی جوڑ توڑ کرواتے ہیں، انہی کی ایما پر نئی سیاسی قیادت ابھرتی ہے اور نئی جماعتیں بنتی ہیں۔ انہی کی شہہ پر سیاستدان اقتدار کے لالچ میں ایک دوسرے سے لڑتے ہیں اور یہ لڑائیاں سیاسی سے ذاتی تک پہنچ جاتی ہیں۔ پچھلے چند دنوں میں بھی ایک سیاسی راہنما اور فوجی ترجمان کی طرف سے جو سخت جملے کہے گئے ہیں، یہ ذاتی انا کی جنگ ہے جو کسی بھی طرح پاکستان کے لیے درست نہیں بلکہ خطرناک ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ فوجی اور سیاسی قیادت کو ذاتیات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی بہتری کے لیے افہام و تفہیم پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک دوسرے کے حق اور غلطیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔ برسر اقتدار جماعتوں کو زیادہ ذمہ داری سے کام لینا چاہیئے۔ وہ اپنے اقتدار کے لالچ میں فوجی قیادت کو غلط راستے کی طرف نہ لے جائیں بلکہ سیاسی معاملات سے فوجی قیادت کو الگ رکھ کر پی ٹی آئی کی قیادت سے خود بات کرنی چاہیے۔ ان کی شکایات پر ہمدردی اور ایمانداری سے توجہ دی جائے۔

جب بار بار فوجی ترجمان پریس کانفرنس کرتا ہے اور ایک ہی جماعت کی قیادت پر الزامات لگاتا ہے تو اس طرح ان کی غیرجانبداری متاثر ہوتی ہے۔ یہاں کوئی بھی ریاست سے بالاتر ہے، نہ آئین اور قانون سے ماورا فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ کوئی بھی شخصیت ناگزیر نہیں ہے۔ ہماری ضرورت ہمارا ملک ہے۔ اس لیے کوئی بھی اپنے آپ کو ناگزیر سمجھے نہ اپنی انا کی خاطر ملک کو خطرے میں ڈالے۔ ہم پہلے ہی اپنی غلطیوں کی وجہ سے مشکلات میں ہیں۔ کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا شکار ہیں اور اس وقت ہماری مشرقی اور مغربی سرحدوں پر کشیدگی ہے جسے کم کرنے کی ضرورت ہے اور اس کا راستہ ملک کے اندر استحکام سے گزرتا ہے۔

فوجی قیادت کو عوامی رائے کا احترام کرنا چاہیے کیونکہ فوج کی اصل طاقت عوام ہیں۔ فوجی قیادت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جسے آج ذہنی مریض اور ذات کا قیدی کہا جا رہا ہے، اسے سیاست میں آگے لانے اور اقتدار تک پہنچانے میں بھی فوجی قیادت کا کردار تھا۔ اب یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ جب چاہیں کسی کو صادق و امین بنا کر پیش کریں اور جب آپ کا دل بھر جائے تو اسے چور اور غدار ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ ملک کے عوام بھی آنکھیں اور کان کے ساتھ دماغ بھی رکھتے ہیں۔ اگر اس ملک کو دشمنوں سے محفوظ رکھنا ہے تو اپنی اپنی انا کو چھوڑنا ہوگا۔