اوسلو کا ’بیبا بندہ‘
- تحریر زاہد بشیر
- جمعہ 12 / دسمبر / 2025
7 دسمبر کو میلہ ہاؤس اوسلو میں ’شعر و آہنگ‘ اور ’دریچہ‘ کے زیر انتظام ڈاکٹر سید ندیم حسین اور محمد ادریس لاہوری صاحب کی علمی، ادبی اور سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کی غرض سے ایک پرقار تقریب منعقد کی گئی۔
"ان کہی، ان سنی" کے عنوان سے ان دونوں ذی وقار شخصیات کی زبانی ان کے احوال زندگانی سننے کا شرف حاصل کرنے والوں میں خوش قسمتی سے میں بھی شامل تھا۔ تقریب کے مقررین نے بھی ان دونوں ہمہ پہلو ہستیوں کی ذات کی ان جہتوں اور درخشاں پہلوؤں پر بڑی صراحت سے روشنی ڈالی جو کہ ان کی وجہ شہرت ہیں اور جس بنا پر اوسلو میں بسنے والے تمام پاکستانی انہیں عزت اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
میں یہ عرض کرتا چلوں کہ میری اس تحریر کا مقصد ستائش گری یا خشونت ہرگز نہیں کیونکہ یہ دونوں شخصیات میری مداح سرائی کی محتاجی سے نہ صرف بالا تر ہیں بلکہ علم و ادب کے اس اوج کمال پر فائز ہیں جہاں لفاظی خود ہاتھ باندھے ان کے سامنے کھڑی ہوتی ہے - سخن طرازی جیسی عنایت ایزدی کے فیض یاب جو ٹھہرے۔ میں نے تو صرف چند ایسی حصوصیات کے ذکر کو ضروری گردانتے ہوئے قلم اٹھایا ہے جن پر اس تقریب میں لب کشائی نہیں کی گئی۔
ڈاکٹر ندیم صاحب نے اپنی ان کہی داستان زندگی کے نشیب وفراز کی روداد خوبصورت اور پر اثر انداز میں بیان کی جو کہ اس تقریب میں موجود ہر فرد کے لئے سبق آموز اور تحریک کا باعث تھی۔ ڈاکٹر صاحب زندگی کے تنے ہوئے رسے، جس پر چلنا دشوار گزار عمل ہوتا ہے، اور ایک معمولی لغزشِ زندگی کی بساط کو قبل از وقت لپیٹ سکتی ہے، جس حوصلے، جوانمردی اور ثابت قدمی سے چلے ہیں، وہ ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے۔ مجھے یہ محسوس ہوا کہ زیست کی پتھریلی اور کانٹے دار پگڈنڈیوں سے دامن بچا کر کامیابی سے رو بسفر ڈاکٹر ندیم پر رمز حیات وا ہو چکی ہے۔
اگرچہ ڈاکٹر ندیم صاحب سے میرے تعلق نے صرف چند برسوں کی مسافت ہی طے کی ہے لیکن چونکہ ایک طویل عرصے تک ہماری باہمی تحریری گفت و شنید روزانہ کے معمولات کا حصہ رہ چکی ہے۔ لہذا میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ہمارا ایک دوسرے کو جاننے، سمجھنے اور قریب آنے کا عمل برق رفتاری سے طے ہوا ہے۔ اس بنا پر میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ انسانی شخصیت کی مختلف پرتوں کو سمجھنے اور اس کی صفات کو پرکھنے کے لئے جو مشاہداتی اور تجرباتی مراحل درکار ہوتے ہیں، میں ڈاکٹر ندیم صاحب کی ہستی کو عرصہ ہوا ان سے گزار چکا ہوں۔ اور اب میں اپنے آپ کو ان کی شخصیت کو تجزیاتی رنگ میں پیش کرنے کی جسارت کرنے کا اہل سمجھتا ہوں۔
میرے اور ڈاکٹر صاحب کے مابین مباحث میں عموماً سیاسی، سماجی اور اخلاقی اقدار جیسے موضوعات شامل ہوا کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم دونوں ہی اپنا نقطہ نظر بڑے زور دار انداز، قدرے گرم جوشی اور بے تکلفی سے پیش کرنے کے عادی ہوتے گئے۔ گو کہ کسی نکتے پر ہمارا اتفاق شاذونادر ہی، یا شاید اتفاقاً ہی ہو جایا کرتا تھا۔ خاص طور پر سیاست کے حوالے سے ہمارے فکری منہاج میں مماثلت کا فقدان بہت واضح تھا۔ لیکن اس کے باوجود نہ جانے کیوں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ سینگ پھنسانے میں مجھے طمانیت محسوس ہوتی تھی۔ بہت جلد مجھ پر یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ اختلاف رائے اپنی جگہ لیکن یہ بندہ تدبر اور غور و فکر کا خوگر ہے اور تقلیدی سوچ کی بجائے چیزوں کو دلیل اور منطق کی کسوٹی پر پرکھنے پر یقین رکھتا ہے۔ میری رائے میں صرف وہی شخص جو ان اصولوں کی زیر نگرانی اور پھر خود نگری کے کڑے پہرے میں اپنی زندگی اور نظریات کو ترتیب دیتا ہے، وہی روشن ضمیر، روشن طبع، خوش فکر اور خوش اخلاق جیسی حصوصیات کا حامل ہو سکتا ہے۔ اور مجھے یہ کہنے میں بڑی مسرت محسوس ہو رہی ہے کہ میں نے ڈاکٹر صاحب کو ان تمام خوبیوں میں یکتائے روزگار پایا ہے۔ یہ وہ خوبیاں ہیں جو کہ ہمارے بہت سے مشہور اہل فکر و دانش میں بھی مفقود ہیں اور شاید یہی وجہ ہے ان کی فصیح البیانی دلوں کو مسخر کرنے سے قاصر ہے۔
مجھے آج اس بات کا تحریری اقرار کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہو رہی کہ ’حسن اختلاف‘ کیا ہوتا ہے یہ میں نے ڈاکٹر ندیم صاحب سے سیکھا ہے۔ یعنی اختلافی نقطہ نظر کو اس انداز سے پیش کرنا کہ وہ زحمت نہیں بلکہ رحمت محسوس ہو۔ بالفاظ دیگر اپنا اختلافی زاویہ نظر ایسے پیرائے میں پیش کرنا کہ کڑی تنقید بھی خوش اخلاقی کے عطر میں ایسی رچی بسی ہو کہ اس کی بو آپ کو خوشبو محسوس ہو۔ اس بات کی اہمیت کا علم تو مجھے تھا لیکن اپنی حدت طبع کی بدولت یا پھر بہ تقاضہ بشریت یہ خوبی میرے اندر پنپ نہیں پا رہی تھی۔ میری خوش بختی کہ ڈاکٹر ندیم صاحب کی صحبت کے طفیل میں اس لازمی انسانی صفت کو اپنے اندر پیدا کرنے کی سعی پر راغب ہو گیا ہوں۔ متکلم اگر کسی ایسی بات یا حقیقت کو جس کی ماہیت تلخ یا سخت ہو، الفاظ اور لب و لہجے کے ایسے پیرہن میں ادا کرنے میں کامیاب ہو جائے کہ سامع کو احساس شکست اور ندامت کی کوفت سے بھی بچا لے اور اپنا مدلل موقف بھی واضح طور پر سامع کے روبرو رکھنے میں کامیاب ہو جائے تو ایسے شخص کو حسن اخلاق اور حسن ظن کی اعلٰی ترین مثال قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ کوئی معمولی خوبی نہیں بلکہ میری نظر میں یہ انسانی اخلاقیات کا ایک بنیادی ستون ہے۔ ڈاکٹر ندیم صاحب کا ضابطہ اخلاق اور تصور زندگی اسی مضبوط ستون پر قائم ہے۔
اگر میں ڈاکٹر صاحب کی ذات کو ایک لفظ میں بیان کروں تو میں ان کے لئے ’بیبا بندہ‘ کی ترکیب کا انتخاب کروں گا۔ مجھے قوی امید ہے کہ اس تحریر کو پڑھنے والوں کی اکثریت پنجابی زبان کے اس لفظ اور اس کی معنویت کی وسط سے نابلد نہیں ہو گی، لہذا میں اس لفظ کے لغوی یا اصطلاحی مطالب کے بیان سے گریز کرنے کو ترجیح دوں گا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس لفظ میں بیک وقت رچی بسی چاشنی اور تیکھا پن تفہیمی مقصد کے لئے بیرونی یعنی دوسرے الفاظ اور ان کے مفاہیم کی آمیزیش سے پھیکا پڑ سکتا ہے۔ بالفاظ دیگر ’بیبا بندہ‘ کا مطلب سمجھایا نہیں جا سکتا، ’بیبا بندہ‘ صرف دکھایا جا سکتا ہے۔ اور اگر آپ نے ناروے میں رہتے ہوئے کوئی بیبا بندہ دیکھنا ہے تو اپنی بصارت کو ڈاکٹر ندیم صاحب کے دیدار سے ضرور فیض یاب کریں۔ اور اگر آپ بصارت بمعہ بصیرت یعنی دیدہ بینا سے کریں تو پھر یہ بندہ ناچیز ڈاکٹر صاحب کےتعارف میں مزید ایک بھی اور لفظ ضائع کرنے زحمت سے بچ جائے گا۔ ڈاکٹر صاحب تو سراپا ’بیبا پن‘ ہیں۔ (اس نئی اصطلاح کی ایجاد پر زبان شناسوں اور ماہرین سے معذرت)
جہاں تک محمد ادریس لاہوری صاحب کا تعلق ہے تو یہ میری کم نصیبی سمجھئے کہ ان کے ساتھ میری قربت زیادہ نہیں رہی اور میں ان کو صرف بطور ایک سخن ور ہی جانتا تھا۔ کوئی دو تین ماہ قبل ایک تقریب میں ڈاکٹر ندیم صاحب کی موجودگی میں ان سے ایک مختصر ملاقات کا موقع میسر آیا تو اس دوران ڈاکٹر صاحب نے ادریس لاہوری صاحب کے بارے میں فرمایا کہ یہ تو میرے دست راست ہیں۔ میں فوراً سمجھ گیا کہ جس شخص کو ڈاکٹر صاحب یہ درجہ دے رہے ہیں کوئی معمولی بندہ نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹر صاحب کے الفاظ اس بات پر دلالت کر رہے تھے کہ ادریس لاہوری صاحب یقیناً انہی اوصاف کے مالک ہیں جو ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا خاصہ ہیں۔ اسی لمحے میری نظر میں ان کی عزت اور قدرو منزلت ڈاکٹر ندیم صاحب کے ہم پلہ ہو گئی۔ اس کے بعد 7 دسمبر کی مذکورہ مخفل میں ان کی داستان حیات انہیں کی زبانی سماعت کرنے کا موقع ملا تو میں ان کے شیریں، دھیمے، متوازن اور محبت بھرے لب و لہجے اور انداز کلام سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ محفل میں ادریس صاحب کے دوست بنانے اور دوستیاں نبھانے کے جس ہنر کا حصوصی ذکر سننے کو ملا، اس کا راز کسی حد تک ان کی خوش گفتار ادائےدلنوازی میں مضمر ہے۔
آخر میں آپ دونوں کے لئے دعا ہے کہ اللہ آپ کو مزید ترقیاں دے۔ آپ کی زندگیوں میں چین و سکون کی ایسی بہار لائے جو کبھی ختم نہ ہو۔ آپ کو عرض و سما کی تمام آفات سے مخفوظ رکھے اور صحت و تندرستی والی لمبی زندگی عطا کرے۔ آمین۔