سیاسی حالات اور انتباہ کا موسم
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 13 / دسمبر / 2025
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیرنے اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاک فوج ریاستِ پاکستان اور عوام کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج اندرونی و بیرونی چیلنجز، ہائیبرڈ مہم جوئی ، انتہاپسندانہ نظریات اور انتشار کے ذریعےقومی استحکام کو نقصان پہنچانے والی تقسیم پسند قوتوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور پرعزم ہے۔
گوجرانولہ و سیالکوٹ گیریژن کا دورہ کرتے ہوئےآرمی چیف کا یہ بیان خاص طور سے ملکی سیاسی منظر نامہ میں اہمیت کا حامل ہے۔ اس وقت وفاقی حکومت سائبر کرائمز میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے میں مصروف ہے اور پروپیگنڈا کی مہم جوئی میں تحریک انصاف کو نفرت و انتشار پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔ دوسری طرف پاک فوج نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کو طویل المدت سزا دی ہے بلکہ متنبہ کیا ہے کہ سیاسی مہم جوئی اور بعض عناصر کے ساتھ مل کر ریاست دشمن کارروائیوں کے بارے میں ان کی سرگرمیوں کا الگ سے جائزہ لیا جارہا ہے۔ متعدد مبصرین اور تجزیہ نگار اس فقرے سے یہ نتیجہ اخذ کررہے ہیں کہ سانحہ 9 مئی میں ان کے کردارکا تعین کیا جائے گا۔ اگر فوجی تحقیقات میں وہ اس جرم میں ملوث پائے گئے تو اس کے اثرات عمران خان سمیت تحریک انصاف کے متعدد لیڈروں پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔
اس پس منظر میں چیف آف ڈیفنس فورسز نے ہائیبرڈ مہم جوئی، انتشار پسندی اور قومی استحکام کے خلاف سرگرم عمل عناصر کی کارروائیوں کے خلاف کارروائی کا اشارہ دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ چند روز پہلے ایک پریس کانفرنس میں بہت صراحت سے بتا چکے ہیں کہ ان کے خیال میں کون سا لیڈراور پارٹی قومی مفاد و اتحاد کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی پریس کانفرنس، فیض حمید کی سزا کے بارے میں آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے متن اور آج چیف آف ڈیفنس فورسز کے سخت الفاظ میں چیلنجز سے نمٹنے کے عزم کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں مفاہمت اور معاملہ فہمی سے معاملات طے کرنے کا مرحلہ گزر چکا ہے۔ اب ریاست کی نمائندہ حکومت اور اس کی حفاظت کی ذمہ دار فوج، یکساں شدت سے یہ پیغام عام کررہے ہیں کہ کسی بے اعتنائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اب ہر کسی کو سخت اور فیصلہ کن کارروائی کے لیے تیار ہوجانا چاہئے۔
حکومتی وزرا نے آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اور گزشتہ روز فیض حمید کی سزا کے اعلان کے بعد سخت اور جارحانہ انداز میں عمران خان اور تحریک انصاف کو نشانہ بنایا ہے۔ ان میں واپسی کا راستہ بند ہوجانے جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے واضح کیا جارہا ہے کہ اب سخت کارروائی ہوگی۔ وزیروں کے بیانات عام طور سے ’ایکس‘ پر جاری ہوتے ہیں یا ٹاک شوز میں تبصروں کی صورت میں سامنے آتے ہیں، اس لیے ان سے یہ اندازہ کرنا تو سہل نہیں ہوتا کہ حکومت وقت موجودہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے کیا اقدام کرنے والی ہے۔ لیکن حکومت کے ارادوں کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ بیانات ملکی سیاسی انتظام کے ذمہ داروں کی خواہش کا واضح اور برملا اظہار ضرور ہے۔ شہباز شریف کی حکومت غیر مقبول ہے اور معاشی بحران سے باہر نکل آنے کے دعوؤں کے باوجود نہ تو ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری لائی جاسکی ہے اور نہ عوام کی روزمرہ معاشی مشکل میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہی دو عوامل حکومتی اقدامات کی عوامی قبولیت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے ذریعے شہباز شریف کی قیادت میں نئی حکومت قائم کی گئی تھی، اس وقت تحریک انصاف کی حکومت بڑی حد تک غیر مقبول ہوچکی تھی ۔ ملک کے عوام اس نااہل اور غیر مؤثر حکومت کی مدت پوری ہونے کے دن گن رہے تھے۔ماہرین سیاست اور تجزیہ نگار اس بنیاد پر متفق ہیں کہ اگر اپریل 2022 میں عدم اعتماد لانے کی بجائے عمران خان کو اپنے عہدے کی مدت پوری کرنے کا موقع دیا جاتا تو عام انتخابات میں ان کی پارٹی بدترین شکست سے دوچار ہوتی۔ تاہم فوج اور سیاسی لیڈروں نے یکساں طور سے محسوس کیا کہ عمران خان کو مزید موقع دینا ملکی مفادات کے خلاف ہوگا۔ یہ موضوع طویل عرصہ تک بحث کا موضوع رہے گا کہ عمران خان اگر مزید سال ڈیڑھ سال وزیر اعظم رہتے تو ملکی معیشت یا قومی مفادات کو کیا نقصان ہوجاتا۔ سیاسی تجزیہ کے مطابق تو وہ اپنا ہی نقصان کرتے لیکن فوج میں سینارٹی لائن اور تقرریوں کے بارے میں جو اندازے قائم کیے جاتے ہیں اور اب فیض حمید کی سیاسی مہم جوئی کے بارے میں جو انکشافات سامنے آرہے ہیں، ان کی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے کہ عدم مقبولیت کے باوجود عمران خان فوج میں اپنے ہمدرد جرنیلوں کی مدد سے ایسا انتظام کرنا چاہتے تھے کہ وہ ایک دہائی سے زیادہ مدت تک اقتدار پر قابض رہتے۔ ایسے میں انہیں عوامی مقبولیت کی ضرورت نہ ہوتی۔
اس پس منظر سے سمجھاجاسکتا ہے کہ عمران خان کی غیرمقبول حکومت ختم کرکے ا اقتدار سنبھالنے والے لیڈروں سے کم از کم معاشی طور سے شاندار کامیابی کی توقع باندھی گئی تھی۔ کثیر آبادی کے ملک میں اگرچہ عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنانے کا کوئی بھی اقدام فوری اثرات کا حامل نہیں ہوسکتا ۔ لیکن شہباز شریف کی حکومت تین حوالوں سے بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ ایک : مسلم لیگ (ن)انتخابات میں تحریک انصاف کا مقابلہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی اور اس سے انتخابی نشان چھین کر اور مبینہ دھاندلی کے ذریعے کامیابی کا ڈھونگ رچا کر وزارت عظمی اور پنجاب کی حکومت حاصل کی گئی۔ دوئم:شہباز شریف نے تحریک انصاف کے خلاف معیشت کو تباہ کردینے کا الزام عائد کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ملک کی معاشی صورت حال تبدیل کی جائے گی۔ البتہ آئی ایم ایف سے قرضہ کا پیکج لینے کے علاوہ ، عوامی سہولت کا کوئی حکومتی معاشی منصوبہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ سوئم: علامتی طور سے وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسروں کی سہولتیں کم کرکے عوام کو یہ تاثر دیا جاسکتا تھا کہ حکومت بچت کرنے اور عوامی وسائل مثبت طور سے صرف کرنے میں سنجیدہ ہے۔ لیکن یہ کام بھی نہیں ہوسکا۔ اس کے برعکس وزیر اعظم مسلسل بیرونی دوروں پر روانہ رہتے ہیں جس سے بادی النظر میں قومی خزانہ ہی زیر بار ہوتا ہے ۔ ان اعلیٰ سطحی سرگرمیوں کے کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں،اس بارے میں عوام کو مطلع کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے۔
ان حالات میں حکومت اپنی ناکامیاں چھپانے کے لئے بھی تحریک انصاف کو آسان ہد ف سمجھ کر سرگرم رہی ہے۔ اب پاک فوج کی طرف سے اپنا مقدمہ عوامی عدالت میں پیش کرنے کے بعد ملک کی ایک کمزور اور غیر مؤثر سیاسی حکومت کو زیادہ جوش و خروش سے ایک ایسی پارٹی کے خلاف فضا پیدا کرنے کا موقع ملا ہے جو بظاہر عوام میں مقبول ہے اور اگر آج انتخابات منعقد ہوں تو اسے اگر دو تہائی اکثریت نہ بھی ملے تو بھی وہ آسانی سے حکومت سازی میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ تاہم ایسا کوئی وقوعہ کسی فعال جمہوریت ہی میں رونما ہوسکتا ہے۔ جس ملک میں اقتدار تک پہنچنے کے لیے اسٹبلشمنٹ کی حمایت ضروری ہو ، وہاں ایسی انہونی شاید دیکھنے میں نہ آئے۔ اسی لیے وزیروں کے بیانات ایک طرف ان کی خوشی کا اظہار ہیں تو دوسری طرف وہ دھمکی آمیز لب و لہجہ سے تحریک انصا ف کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
تحریک انصاف کی قیادت نے آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد کوئی سخت مؤقف اختیار نہیں کیا۔ بیرسٹر گوہر علی نے مسلسل مفاہمت و مصالحت کی بات کی ہے لیکن وہ فوج کی طرف سے پیش کیے گئے مقدمہ اور خاص طور سے عمران خان کے اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے اشتعال انگیز ٹوئٹ سے دست بردار ہونے میں ناکام رہی ہے۔ تحریک انصاف کے لیڈر وں کی طرف سے مفاہمت کا دعویٰ کرنے کے باوجود سوشل میڈیا پر سرگرم عناصر بدستور پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز اور ہتک آمیز پروپیگنڈا کرنے میں مصرف ہیں۔ پارٹی قیادت ان عناصر کو نہ تو خاموش کرا سکی ہے اور نہ ہی ان سے لاتعلقی کا اعلان سامنے آیا ہے۔ اس لیے تحریک انصاف کے لیڈروں کی خاموشی بھی درحقیقت ان کے لیے سیاسی سہولت کا سبب نہیں بن پارہی۔ اسی صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت نے عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی لگا رکھی ہے جو تمام بنیادی حقوق اور انسانی ضرورتوں کے برعکس ہے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز کی طرف سے ہائیبرڈ مہم جوئی ، انتہاپسندانہ نظریات اور انتشارپسندی کے خلاف تیار رہنے کے اعلان کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ فیلڈمارشل نے واضح کیا ہے کہ ’قانون کی بالادستی ہماری اوّلین ترجیح ہے۔ قانون سے بالاتر کوئی اقدام قابلِ قبول نہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی یقینی بنائی جاتی ہے‘۔ اس بیان سے ملک میں سیاسی مفاہمت کا مرحلہ مزید دشوار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت ناکام ہےاور سیاسی طور سے طاقت ور تحریک انصاف سے خوفزدہ ہے ۔ اورتحریک انصاف اس ماحول میں تبدیلی کے لیے کوئی واضح حکمت عملی اختیار کرنے میں ناکام ہے۔ ایسی کمزورحکومت کو فیلڈ مارشل کا بیان تقویت دے گا۔ اس کے جارحانہ سیاسی و انتظامی ہتھکنڈوں میں شدت آسکتی ہے۔