تاریخ میں پہلی بار
- تحریر مجیب الرحمن شامی
- اتوار 14 / دسمبر / 2025
لیجیے خواتین و حضرات، ہماری تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو گیا یا یہ کہیے کہ نئی تاریخ ہی رقم کر دی گئی۔ پہلی بار پاکستان کے سب سے معتبر اور مقتدر انٹیلی جنس ادارے ”آئی ایس آئی“ کے سربراہ پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا، وہ مجرم قرار پائے اور اُنہیں چودہ سال قید ِ بامشقت کی سزا سنا دی گئی
۔پاک فوج نے معرکہ حق میں بھارت کو ناکوں چنے چبوا کر اپنا اور پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا تھا۔ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا حملہ پسپا کر کے عالمی جنگوں کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر دیا تھا۔پاک فضائیہ نے حملہ آور کے سات لڑاکا طیارے مار گرائے اور جس طرح اُس کے دفاعی نظام کو منجمد کیا، اِس پر دفاعی امور کے ماہرین اب تک انگشت بدنداں ہیں۔دنیا بھر میں پاکستان کا اعتراف اور احترام کیا جا رہا ہے۔ہماری عزت اور توقیر میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے بقول آنکھیں چرانے والے اب (اُن کے راستے میں) آنکھیں بچھا رہے ہیں۔ پاکستان کے کئی رقیب اور حریف دوستی کے خواہاں ہیں تو دوستوں اور حلیفوں کی محبت میں کی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستان ایک ناقابلِ تسخیر قوت کے طور پر اُبھرا اور اپنے بہی خواہوں کو نیا حوصلہ بخش گیا ہے۔
پاکستانی ریاست سے ناتہ جوڑنا باعث توقیر سمجھا جا رہا ہے۔پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عالمی اداروں اور کانفرنسوں کی رونق بنے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی سربراہوں اور فوجی قائدین کا تانتا بندھا ہوا ہے،وہ عزم و ہمت کے پیکروں سے ملنے اسلام آباد آتے چلے جا رہے ہیں۔ سربلند پاکستان کا سر پاک فوج نے اب ایک اور انداز سے اونچا کیا ہے۔خود احتسابی کی مثال قائم کر دی ہے۔ اپنے ہی ایک انتہائی اعلیٰ افسر کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر کے دکھا دیا ہے۔اُسے قانون کی خلاف ورزی کی سزا بھگتنا پڑ رہی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید 14سال قید ِ بامشقت کے حق دار ٹھہرے ہیں۔ سزا یافتہ افسر کو اپیل کا حق حاصل ہو گا۔ آرمی چیف اُس کی سماعت کریں گے۔ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کی سہولت بھی حاصل ہو گی۔صدرِ مملکت سے معافی(یا رحم) کی درخواست بھی دائر کی جا سکے گی۔ممکن ہے سزا میں تخفیف ہو جائے،یہ بھی ممکن ہے اپیل منظور کر لی جائے لیکن یہ سب بعد کی باتیں ہیں۔ اِس وقت تو جو پیغام دور و نزدیک دیا جانا تھا، وہ دیا جا چکا ہے۔پاک فوج احتساب پر یقین رکھتی ہے اور اُس کے احتسابی ادارے کسی رو رعایت کے بغیر اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ماضی میں کئی فوجی افسروں کے کورٹ مارشل ہو چکے ہیں،کئی ایک کو سزائیں بھی سنائی گئی ہیں لیکن لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا مقدمہ اپنی نوعیت کا پہلا ہے۔آئی ایس آئی کے کسی سربراہ کے خلاف اِس طرح کی کارروائی کبھی نہیں کی گئی بلکہ یہ کہیے تو غلط نہیں ہو گا کہ اِس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
جناب فیض حمید کو ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کی طرف سے دائر کردہ شکایت پر سزا دی گئی ہے۔اُس نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، دہائی دی تھی کہ فیض حمید اور اُن کے کارندوں نے اُس پر دباؤ ڈالا اور بہت کچھ ہتھیا لیا ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر یہ معاملہ فوجی قیادت کو بھجوایا گیا۔ وقت تبدیل ہوتا گیا اور فیض حمید کی قسمت اُن کا ساتھ چھوڑتی گئی۔ یہاں تک کہ اُن کی گرفتاری تک نوبت پہنچی۔باقاعدہ مقدمہ قائم ہوا اور وہ سزا کے مستحق قرار پائے۔فیض حمید آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر جو کچھ کرتے رہے، وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے وہ خصوصی معتمد سمجھے جاتے تھے۔ وزیراعظم عمران خان کے اعتماد سے بھی مالا مال تھے۔ عمران خان سے اُن کا تعلق اِس طرح بڑھا کہ جنرل باجوہ پیچھے رہ گئے۔ اُن کی تقرری کی معیاد پوری ہوئی تو وزیراعظم عمران خان تبادلے کے راستے میں کھڑے ہو گئے۔ وہ چاہتے تھے کہ فیض حمید اپنے منصب پر برقرار رہیں اور اُن کے سیاسی حریفوں سے ان کی خواہشات کے مطابق نمٹنے رہیں۔
جنرل باجوہ راضی نہ ہوئے تو عمران خان کو پیچھے ہٹنا پڑا لیکن اُن کے اور جنرل باجوہ کے درمیان دراڑ پڑ گئی۔کہا جاتا ہے کہ فیض حمید آئی ایس آئی سے نکل گئے لیکن آئی ایس آئی اُن کے اندر سے نہیں نکلی۔ ایک انتہائی ذمہ دار ذریعے نے بتایا تھا کہ وہ کئی افراد اور معاملات کی حساس فائلیں اپنے ساتھ لے گئے جو بعدازاں اُن کے دفتر سے برآمد کی گئیں۔انہوں نے کور کمانڈر بننے کے باوجود قومی امور میں عمل دخل جاری رکھا۔ یہ حکایت عام ہے کہ عمران خان انہیں آرمی چیف بنانا چاہتے تھے اور فیض حمید بھی اِس تمنا میں سرشار تھے۔اللہ کو یہ منظور نہیں تھا، جنرل عاصم منیر نے فوج کی سربراہی سنبھالی اور اب وہ فیلڈ مارشل ہیں۔ پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز بننے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہو چکا ہے۔
فیض حمید کے مقدمے کی تفصیل ابھی تک سامنے نہیں آئی نہ ہی عدالت کا فیصلہ عام کیا گیا ہے لیکن آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ معاملہ ابھی رُکا نہیں۔اُن پر ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام بھی ہے، جناب عمران خان کے ساتھ اُن کے ”گٹھ جوڑ“ کی باتیں بھی زیر بحث ہیں۔ 9مئی2023 کو فوجی تنصیبات پر جو ”عوامی حملے“ کئے گئے،اُن سے جڑے معاملات زیر تفتیش ہیں۔ جناب فیصل واوڈا کے بقول فیض حمید وعدہ معاف گواہ بن کر عمران خان کے خلاف گواہی دینے پر تیار ہو چکے ہیں۔اِس کا مطلب یہ ہے کہ سابق وزیراعظم جو پہلے ہی ایک مقدمے میں 14سال قید کی سزا پا چکے ہیں،اُن کا گھیرا مزید تنگ ہو گا۔معاملہ فوجی عدالت ہی کے سپرد رہے گا یا سول عدالت کی خدمات حاصل کی جائیں گی،یہ تو آنے والے دن بتائیں گے لیکن جو کچھ بھی ہو گا وہ غیر معمولی ہو گا۔ تاریخ کو مزید کروٹیں لینا پڑیں گی۔جو کچھ ہونے والا ہے،اگر وہ اُسی طرح ہوا، جو واوڈا صاحب بتا رہے ہیں تو اُس کے اثرات دور (اور دیر) تک محسوس کیے جائیں گے۔یہ درست ہے کہ قانون سے کسی کو بالاتر نہیں ہونا چاہئے لیکن یہ بھی درست ہے کہ سیاست قانون کے تابع نہیں ہوتی۔ عوام کے جذبات و احساسات اُس میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔قانون کی عدالت،عوام کی عدالت کے سامنے بے بس ہو کر رہ جاتی ہے اور عوام کی عدالت قانون کی عدالت کو اپنی مرضی کا پابند نہیں بنا سکتی۔ بعض اوقات دونوں کا الجھاؤ معاملات کو الجھاتا چلا جاتا ہے لیکن :
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو لاہور ہائیکورٹ نے طویل اور کھلی سماعت کے بعد نواب محمد احمد خان کے قتل کا مجرم قرار دیا تھا، سپریم کورٹ نے بھی اُن کی اپیل مسترد کر دی تھی لیکن بھٹو صاحب کے جیالوں نے اپنے چیئرمین کو ”شہید“ کہا اور اُس پر اصرار کرتے رہے۔اُن کی سیاست پیپلزپارٹی کی شکل میں زندہ رہی اور اب برسوں بعد سپریم کورٹ ہی نے یہ فتویٰ صادر کر دیا ہے کہ بھٹو صاحب کے مقدمے میں ”انصاف کے تقاضے“ پورے نہیں کئے گئے تھے۔ قومی اسمبلی بھی اُنہیں ”قومی شہید“ قرار دے گزری ہے۔بھٹو صاحب کے شعلہ نوا مخالفین (اور اُن کے وارثین) چُپ سادھے بیٹھے رہے اور تاریخ ایک نیا موڑ مڑ گئی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی تاریخ کو سمجھنے اور سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
خواجہ سعد رفیق کا پیغام
یہ کالم لکھا جا چکا تھا کہ برادرِ عزیز سعد رفیق (خواجہ رفیق شہید کے بیٹے تو ہیں ہی،خود بھی عزم و ہمت کی تصویر بنے رہے ہیں) کا واٹس ایپ پیغام موصول ہوا۔اُسے جوں کا توں نذرِ قارئین کیا جا رہا ہے۔ سر دھنیے یا نہ دھنیے، پڑھ ضرور لیجیے:
جنرل فیض حمید کی سزا قیدخوشی کا نہیں، عبرت کا مقام ہے۔مجھ سمیت جنرل فیض حمید کے بیشتر متاثرین اِس موقع پر استغفار کا وِرد کر رہے ہیں جبکہ جنرل فیض حمید سے مسلسل فیض یاب ہونے والے اور اُن کے اشارہ ابرو پر رقص کرتے ہوئے ہم پر حملے کرنے والے پیشہ ور رقاص اب اُسی شدت کے ساتھ راگ درباری کا الاپ کرتے ہوئے اپنے سابقہ باس کی سزا پر داد و تحسین کے نعرے لگا رہے ہیں۔یاد رہے کہ پاکستان کے جمہوری نظام اور آئینی حکمرانی کو تلپٹ کرنے والے یہ دونوں افراد تنہا نہیں تھے، بہت سے جرنیل، جج، جرنلسٹ اور سیاستدان اِس بگاڑ کا حصہ، اُن کے سہولت کار اور بینیفشری تھے۔ہم چاہتے توہیں کہ پھلتے پھولتے اور چلتے چلاتے پاکستان کو بریکس لگوانے والے اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرکے پاکستان کو ناقابلِ فہم اور عجیب الخلقت جمہوریت کی جانب دھکیلنے والے تمام کرداروں کا محاسبہ ہو مگر معلوم ہونا چاہئے کہ یہ معاملہ محض جنرل فیض حمید کی سزا پر نہیں رُک سکتا۔گزرتے وقت کے ساتھ حساب کتاب کا روڈ رولر حرکت میں آتا رہے گا، بات آگے پیچھے بڑھتی اور پھیلتی چلی جائے گی ۔نتیجتاً پاکستان کو بار بار نئے عذاب، تنازعات اور طوفان بھگتنا ہوں گے۔
مناسب ہو گا کہ صداقت اور مفاہمت کو بروئے کار لانے کے لئے ایک خصوصی کمیشن بنایا جائے۔ افراد،جماعتیں اور ادارے اپنے اپنے گناہ اور غلطیاں تسلیم کریں، آئندہ کے لئے آئین کو اُس کی اصل حالت میں بحال کرکے قانون کی حکمرانی تسلیم کی جائے، عوامی جمہوری نظام اُس کی روح سمیت نافذ کیاجائے اور آپس میں دست و گریبان ہونے کی بجائے غربت، بھوک، نا انصافی، معاشی بدحالی، دہشت گردی،بدامنی، کرپشن اور اقرباء پروری سمیت تمام قومی مصائب کے خاتمے کے لئے مشترکہ جدوجہد کی جائے۔دشمنوں میں گھِرا ہوا، غربت کی دلدل میں دھنسا ہوا اور دہشت گردی کی آگ سے جھلسا ہوا نیوکلیئر پاکستان اندورنی تضادات، تنازعات اور مزید اختلافات کا متحمل نہیں ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)