مسلمانوں کی دہشت گردی سے نفرت میں اضافہ ہوگا!

پاکستان کے صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف سمیت دنیا بھر کے لیڈروں کی طرف سے سڈنی کی مشہور زمانہ بونڈی بیچ کے قریب فائرنگ کی مذمت  کی جارہی ہے۔ یہ فائرنگ سالانہ تہوار حنوکا  منانے والے  یہودیوں کے اجتماع پر کی گئی جس میں 12 افراد ہلاک اور دو درجن کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔ پولیس نے ایک حملہ آور کی شناخت  نوید اکرم نامی شخص کے طور پر کی ہے۔

آسٹریلیا میں مسلمانوں کی دو تنظیموں قومی امام کونسل اور کونسل آف امامز نیو ساؤتھ ویلز نے فوری طور سےغیر مشروط  پر اس دہشت گرد حملہ کی مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں ان تنظیموں نے کہا ہے کہ  اس قسم کے تشدد اور جرم کے لیے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ مسلمان تنظیموں نے مرنے والوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے پوری آسٹریلوی قوم اور خاص طور سے ملک میں آباد مسلمانوں کے درمیان یکجہتی اور اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔  یہ بیان بروقت اور مناسب ہے تاہم صرف ایک بیان دینے سے نہ تو ایک المناک سانحہ کی تلافی ہوسکتی ہے اور نہ ہی اقلیتی گروہوں کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمی سے  نمٹا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے مسلمانوں کی ہمہ قسم تنظیموں کو صرف آسٹریلیا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں آباد مسلمانوں کو مل جل کر ایسا لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے جس  کے تحت انتہا پسندی اور تشدد کو مسترد کیا جائے اور مغربی ممالک میں آباد مسلمان نوجوانوں کو امن اور باہمی احترام کے ساتھ رہنے  کی تلقین کی جائے۔

دو ہفتے قبل امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں  ایک افغان پناہ گزین نے  گشت پر متعین نیشنل گارڈز پر حملہ کرکے ایک لڑکی کو ہلاک اور  ایک نوجوان کو زخمی کردیا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اس واقعہ کے بعد نہ صرف افغانستان بلکہ  19 دیگر ممالک سے امیگریشن کو فوری طور سے روکنے اور پہلے سے امریکہ  آجانے والے لاکھوں تارکین وطن  و پناہ گزینوں کے اجازت ناموں کی از سر نو  پڑتال  کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعد میں امریکی  حکومت ان سختیوں میں اضافے کا اعلان کرتی رہی ہے۔ اس ایک واقعہ نے امریکہ میں مقیم اور امریکہ جانے کے منتظر لاکھوں افغانوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے ۔ ایسے افغان پناہ گزین جو  طالبان کے خلاف جنگ میں اتحادی افواج کے لیے کام کرتے رہے تھے اور اب پاکستان سے امریکہ یا دیگر یورپی ممالک جانے کے منتظر تھے، واشنگٹن کے وقوعہ کے بعد  ان کے لیے امریکہ کے دروازے بند ہوگئے۔ دیگر یورپی ممالک نہ صرف افغان پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے گریز کررہے ہیں بلکہ پہلے سے ان ملکوں میں آجانے والے پناہ گزینوں کو بھی ملک بدر کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔  ایسے بہت سے افغان باشندے پاکستان میں  اس امید پر مقیم  ہیں کہ انہیں  جلد امریکہ یا کسی دوسرے  ملک جانے کا موقع مل  جائے گا۔ البتہ یہ راستہ بند ہوجانے کے بعد حکومت پاکستان بھی انہیں   واپس افغانستان کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرے گی۔

صدر ٹرمپ یا دنیاکے دیگر لیڈروں کو  اس بات کی  پرواہ نہیں ہوگی کہ طالبان کے خلاف  اتحادی فورسز کا ہاتھ بٹانے والے لوگ جب طالبان ہی کے شکنجے میں آئیں گے تو ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔  کیوں کہ امریکہ سمیت کوئی بھی ملک ایسے عناصر کو اپنے معاشرے میں لانےکا خطرہ مول نہیں لے سکتا جو اس کے دوسرے شہریوں کے لیے  ہلاکت کا باعث بن جائیں۔ اس پس منظر میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اب بونڈی بیچ پر رونما ہونے والے سانحہ کے بعد  آسٹریلوی حکومت بھی مسلمان تارکین وطن کے بارے میں زیادہ سخت رویہ اختیار کرے گی۔ اس کے علاوہ ملک میں پہلے سے  آباد  مسلمان آبادی کے بارے میں  شک و شبہ کا عمومی رویہ زیادہ سخت ہوجائے گا۔ ایسے ماحول ہی میں تعصبات اور امتیازی سلوک دیکھنے میں آتا ہے۔  مسلمان تارکین وطن کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوجاتے ہیں اور انہیں رہائش حاصل کرنے میں زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  متعدد مغربی ممالک میں یہ مثالیں دیکھی جاسکتی ہے کہ مین اسٹریم سماج سے  علیحدہ ہونے کی وجہ سے بعض مخصوص اقلیتیں  خاص علاقوں میں جمع ہونے لگتی ہیں۔ پھر یہ  علاقے سماجی بدتری اور معاشی ابتری کی مثال بن جاتے ہیں۔

اسی صورت حال کے پیش نظر آسٹریلیا کی دو مسلمان تنظیموں  نے بونڈی میں ہونے والی فائرنگ اور افسوناک  ہلاکت خیزی پر  بجا طور سےتشویش کا اظہار کیا ہے۔  البتہ   انتہاپسندی  کا مسئلہ   آسٹریلیا تک محدود نہیں ہے بلکہ اسے ہر مغربی ملک میں  آباد مسلمان محسوس کریں گے۔ اس سانحہ سے آسٹریلیا میں تو مباحث اور غور و فکر ہوگا ہی لیکن یورپی ممالک اور امریکہ میں بھی اس مثال سے یہ سوال اٹھایا جائے گا کہ  کیا مسلمان اقلیتیں قابل اعتبار ہیں اور کیا وہ کبھی ان ملکوں   کو جذباتی اور قلبی طور سے قبول کرسکیں گی جہاں انہوں نے خود اپنی مرضی سے  آکر آباد ہونے کا فیصلہ کیا  تھا۔   یہ سوال گزشتہ تین دہائیوں سے مختلف شکلوں میں اٹھایا جاتا  رہا ہے لیکن نئے عہد میں اس کی شدت میں اضافہ ہوگا اور مسلمانوں کے ہاتھوں قانون شکنی کا ہر نیا واقعہ  اس سوال کی شدت اور ضرورت میں اضافہ کرے گا۔

مسلمان  اقلیتوں کے نقطہ  نظر سے دیکھا جائے تو اس  کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو عمومی سماجی صورت حال کے حوالے سے  ہے کہ جب ایک اقلیت کا رکن دوسری اقلیت کے ارکان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بناتا ہے تو اسے کس تناظر میں جانچا جائے ۔ خاص طور سے جب  کوئی مسلمان یہودیوں کو نشانہ بناتے ہیں  تو متعدد سماجی محققین ضرور حیران ہوں  گے کہ ایسی دو اقلیتیں جو اپنے اپنے طور پر سماجی استبداد سے نبرد آزما ہونے کے لیے کوشاں ہیں اور تعصبات کا شکار ہوتی ہیں، کیوں ایک دوسرے کی طاقت بننے کی بجائے ایک دوسرے  پر حملہ آور ہیں۔ اس میں بھی خاص طور سے مسلمانوں کے تشدد کو ہی فوکس کیا جائے گا کیوں کہ کبھی  کسی یہودی گروہ نے  کسی مغربی ملک میں مسلمانوں کو نشانہ نہیں  بنایا۔

اس پس منظر میں سوال کا دوسرا پہلو خاص طور سے مسلمان  اقلیتوں اور ان کے لیڈروں کے لیے  قابل غور ہونا چاہئے کہ کیا  مغرب میں  آباد ہونے کے باوجود مسلمانوں میں    یہودیوں سے نفرت مسلسل شدید ہے۔  اور آخر اس کی کیا وجہ ہے۔ بیشتر مسلمان ممالک میں جن میں پاکستان  بھی شامل ہے، یہودیوں سمیت بعض مخصوص  مذہبی اقلیتوں کے خلاف پورا ماحول موجود ہے۔ اس بارے میں تعصبات سلیبس کا حصہ بھی ہیں اور  مذہبی رہنما بھی اس حوالے سے گمراہی پھیلانے سے نہیں چوکتے۔ لیکن مغربی ممالک میں عام طور سے سلیبس میں افہام و تفہیم اور احترام کا سبق دیا جاتا  ہے۔  یورپی ممالک میں مشاہدہ کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اگر کسی مشکل کا سامنا ہو تو عام طور سے  یہودی اقلیتی  نمائیندے ان  کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ یہ  یہودیوں کی فکری بلوغت کا  مظاہرہ ہوتا ہے کیوں کہ وہ خود  ہٹلر کے نازی جرمنی میں ہولوکوسٹ جیسے  سانحہ کا سامنا کرچکے ہیں اور جانتے ہیں کی معاشرے  کے کمزور گروہوں کو مل کر اپنے حقوق کی جد و جہد کرنی چاہئے۔

  سڈنی کے سانحہ  کے بعد یہ سوال زیادہ شدت سے سامنے آئے گا کہ کیا مسلمان بھی یہ سمجھنے کے قابل ہوگئے ہیں کہ  اپنی نسلوں کے خوشحال مستقبل کے  لیے انہیں دیگر مذہبی اقلیتی گروہوں سے نفرت کی بجائے، ان کے ساتھ مل کر جد و جہد کرنی چاہئے۔  دو مسلمانوں نے جیسے سڈنی کے علاقے بونڈی میں یہودی اجتماع پر اندھادھند فائرنگ کرکے درجن بھر لوگوں کو ہلاک کیا ہے، اس کے بعد  مسلمانوں میں شدت پسندی کے  سوال پر خود مسلمان اقلیتی گروہوں کو اپنا ضمیر ٹٹولنا ہوگا تاکہ ایسے سانحات سے بچا جاسکے اور مسلمانوں کے بارے میں دہشت گردی کے تاثر کو کم کرنے کے لیے کام ہوسکے۔

اس حوالے  سے عام طور پرمسلمان اقلیتی لیڈروں کے کردار اور بطور خاص مذہبی رہنماؤں کے طرز عمل کا جائزہ لینا بے حد ضروری ہے۔   بدقسمتی سے تمام مغربی ممالک میں مکمل مذہبی آزادی ملنے اور مساجد و اسلامی سنٹر قائم کرکے اہنے عقیدے  و رسم و رواج پر عمل درآمد کا حق حاصل کرنے کے باوجود، مسلمان لیڈر عام طور سے انتہاپسندی اور دوسرے عقائد کے بارے میں وسیع القلبی کی تلقین کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بعض صورتوں میں مذہبی لیڈر انتہاپسندی  اور فرقہ  پرستی پھیلانے  کا موجب بھی بنے ہیں۔ مغربی ممالک کے مسلمانوں کو طے کرنا ہوگا کہ   نئے معاشروں میں ایسے شدت پسند عناصر ان کے دوست نہیں ہیں اور  وہ ان کے  لیے سماجی و سیاسی حالات خراب کرنے کا سبب بنتے ہیں۔  اس کے علاوہ بین المذہبی یگانگت کا درس عام کرنے اور تمام عقائد کا احترام اصول کے طور پر اختیار کیے بغیر مسلمانوں کا اعتبار قائم نہیں ہوسکتا۔

مغرب میں آباد مسلمان  عالمی سیاسی  تناظر میں  مختلف ممالک میں ہونے والی ناانصافیوں کا جواب لینے کے لیے خود  بندوق اٹھا کر مسائل حل نہیں کرسکتے۔ حال ہی میں غزہ میں اسرائیل کی خوں ریز جنگ کے دوران  مشاہدہ  کیا جاچکا ہے کہ کیسے غیر مسلم طبقات نے  صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اسرائیلی جبر اور جنگ جوئی کی مخالفت کی تھی اور غزہ کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ ان ممالک میں آباد مسلمان اپنے  کردار سے  اپنے لیے اور  مسلمان  ممالک کے لیے خیر سگالی کے جذبات پیدا کرسکتے ہیں لیکن اگر وہ تشد پر آمادہ ہوں گے یا اس کے لیے عذر خواہی کی جائے گی تو اس کا نقصان خود مسلمانوں ہی کو  برداشت کرنا پڑے گا۔

غزہ کے  سوال پر امریکہ و یورپ کے متعدد یہودی گروہوں نے بھی اسرائیل جارحیت کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ مسلمانوں کو بھی اسرائیل کے مظالم کو یہودیوں کا ظلم سمجھنے کی بجائے اسرائیلی حکومت اور یہودی عقیدہ  اور اس کے ماننے والوں میں حد فاصل قائم کرنی چاہئے۔ یہ سبق سیکھے بغیر  مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوگا۔