سٹیٹ بینک کی طف سے نئی شرح سود 10.5 فیصد پر کردی گئی
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کر دی ہے۔مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ مانیٹری پالیسی بیان کے مطابق نئی شرحِ سود 10.50 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
معاشی ماہرین کی توقع تھی کہ شرحِ سود کو 11 فیصد کی سطح پر برقرار رکھا جائے گا، تاہم مانیٹری پالیسی کمیٹی نے غیر متوقع طور پر شرحِ سود میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کا فیصلہ کیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل مئی 2025 میں سٹیٹ بینک نے شرحِ سود میں 100 بیسز پوائنٹس کی کمی کی تھی، جس کے بعد شرحِ سود 11 فیصد پر برقرار رکھی گئی تھی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج منعقد ہوا جس میں آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے پالیسی ریٹ کا تعین کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 500 بیس پوائنٹس کی کمی کردی جس کے بعد شرح سود 11 فیصد کی سطح سے کم ہوکر 10.5 فیصد کی سطح پر آگئی۔
مئی 2025 میں اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے 11 فیصد پر لایا گیا تھا، جس کے بعد سے اب تک شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے افراط زر کو قابو میں رکھنے اور شرح مبادلہ کو مستحکم رکھنے کے لیے موجودہ مانیٹری پالیسی کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے تاکہ کاروبار کو ریلیف ملے ۔ زیادہ شرحِ سود نے صنعت اور سرمایہ کاری کو شدید متاثر کیا ہے۔ مہنگی فنانسنگ کے باعث کاروباری لاگت ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ شرحِ سود میں کمی سے روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکتے ہیں ۔ مانیٹری پالیسی میں نرمی کے بغیر معاشی بحالی ممکن نہیں ہے۔ صنعت، تجارت اور ایس ایم ایز فوری ریلیف کے منتظر ہیں ۔