سڈنی حملے میں باپ بیٹا ملوث نکلے، مزید ملزمان کی تلاش ختم

  • سوموار 15 / دسمبر / 2025

آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بونڈی ساحل پر فائرنگ کرکے 15 افراد کو ہلاک کرنے والے مبینہ حملہ آور  باپ بیٹا نکلے جن کی تفصیلات پولیس نے جاری کر دی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے پیر کی صبح پریس کانفرنس میں بتایا کہ 50 سالہ باپ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 16 ہو گئی جبکہ اس کا 24 سالہ بیٹا شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ ریاستی نشریاتی ادارے اے بی سی اور دیگر مقامی میڈیا کے مطابق باپ اور بیٹے کی شناخت بالترتیب ساجد اکرم اور نوید اکرم کے طور پر کی گئی ہے۔

حکام نے اتوار کو ہونے والی فائرنگ کو ایک منصوبہ بند یہود مخالف (اینٹی سیمیٹک) حملہ قرار دیا ہے۔ پولیس کے مطابق حملے کے بعد 40 افراد اب بھی اسپتال میں ہیں، جن میں دو پولیس افسران بھی شامل ہیں جن کی حالت تشویش ناک ہے۔ متاثرین کی عمریں 10 سے 87 برس کے درمیان ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق شدید گرمی کے باعث ساحل پر بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے اور حملہ تقریباً 10 منٹ تک جاری رہا، جس کے بعد سینکڑوں افراد ریتیلے ساحل اور قریبی گلیوں میں جان بچانے کے لیے بھاگ نکلے۔ تقریباً ایک ہزار افراد اس تقریب میں شریک تھے جو ساحل کے قریب ایک چھوٹے سے پارک میں منعقد کی گئی تھی۔

حملے کے دوران ایک مسلح شخص کو قابو میں کرکے اسلحہ چھیننے والے ایک راہ گیر کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے، جسے ہیرو قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس کے اقدام سے کئی جانیں بچ گئیں۔ سیون نیوز آسٹریلیا کے مطابق اس شخص کا نام احمد ال احمد ہے۔ ان کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ 43 سالہ فروٹ شاپ کے مالک احمد ال احمد کو دو گولیاں لگی تھیں اور ان کی سرجری کی گئی ہے۔

اس شخص کے لیے بنائے گئے فنڈ ریزنگ پیج پر پیر کی دوپہر تک 3 لاکھ 50 ہزار آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 2 لاکھ 33 ہزار برطانوی پاؤنڈ) جمع ہو چکے تھے۔ پولیس نے حملہ آوروں کے نام جاری نہیں کیے، تاہم بتایا کہ حملہ آور باپ کے پاس 2015 سے اسلحہ رکھنے کا لائسنس تھا اور اس کے پاس چھ لائسنس یافتہ ہتھیار موجود تھے۔

وزیر داخلہ ٹونی برک نے بتایا کہ حملہ آور باپ 1998 میں طالب علم ویزا پر آسٹریلیا آیا تھا جبکہ بیٹا آسٹریلیا میں پیدا ہوا اور وہ آسٹریلوی شہری ہے۔ پولیس نے اسلحے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ تاہم جائے وقوع سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں حملہ آوروں کو بولٹ ایکشن رائفل اور شاٹ گن سے فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

نیو ساؤتھ ویلز کے پولیس کمشنر مال لینن نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم دونوں افراد کے پس منظر کی مکمل چھان بین کر رہے ہیں۔ اس وقت ہمیں ان کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں‘۔ بونڈی کی رہائشی 27 سالہ مورگن گیبریل نے بتایا کہ وہ قریبی سنیما جا رہی تھیں جب انہوں نے پہلے آتش بازی جیسی آوازیں سنیں، پھر لوگ ان کی گلی میں دوڑتے ہوئے آئے۔

حکام نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حملے میں صرف دو ہی افراد ملوث تھے، اس سے قبل ایک تیسرے حملہ آور کے امکان کی بھی جانچ کی جا رہی تھی۔ ملزمان کے گھر جو سڈنی کے مغرب میں تقریباً 36 کلومیٹر دور بونیرگ کے علاقے میں واقع ہے۔ پیر اس کے باہرسخت سیکیورٹی تھی اور کئی پڑوسی گھروں کو گھیرے میں لے لیا گیا تھا۔

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے پیر کی صبح بونڈی ساحل کا دورہ کیا اور جائے وقوع پر پھول رکھے۔ انہوں نے کہا کہ’جو کچھ ہم نے کل دیکھا وہ خالص شرارت، یہود مخالف نفرت اور ہمارے ملک میں دہشت گردی کا ایک واقعہ تھا، وہ بھی ایک علامتی آسٹریلوی مقام پر‘۔ آج یہودی برادری دکھ میں ہے۔ آج تمام آسٹریلوی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم یہود مخالف نفرت کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ یہ ایک ناسور ہے اور ہم اسے مل کر ختم کریں گے۔

بعد ازاں البانیز نے آسٹریلوی عوام سے اپیل کی کہ وہ یہودی برادری سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک موم بتی روشن کریں۔ تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ روشنی اندھیرے کو شکست دے گی۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے تعزیت اور حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کی فائرنگ اکتوبر 2023 میں غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد آسٹریلیا میں یہودی عبادت گاہوں، عمارتوں اور گاڑیوں پر ہونے والے متعدد یہود مخالف حملوں میں سب سے سنگین واقعہ تھا۔

آسٹریلیا دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور یہاں اجتماعی فائرنگ کے واقعات نہایت کم ہیں۔ یہ حملہ 1996 کے بعد بدترین تھا، جب تسمانیہ کے سیاحتی مقام پورٹ آرتھر میں ایک حملہ آور نے 35 افراد کو قتل کیا تھا۔

آسٹریلیا میں یہودی آبادی نسبتاً کم ہے، 27 ملین آبادی والے ملک میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد خود کو یہودی قرار دیتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً ایک تہائی سڈنی کے مشرقی علاقوں، بشمول بونڈی، میں مقیم ہیں۔ بونڈی حملے کے بعد برلن، لندن اور نیویارک سمیت بڑے شہروں میں یہودی مذہبی تقریبات کے لیے سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سڈنی بونڈائی ساحل پر فائرنگ کرنے والے ایک حملہ آور پر قابو پانے والے جس نہتے شخص کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے، اس کی شناخت 43 سالہ احمد الاحمد کے نام سے ہوئی ہے۔ بی بی سی نے اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے جس میں احمد کو مسلح حملہ آور پر جھپٹتے ہوئے اور اس کی بندوق چھینتے ہوئے دیکھا گیا جس کے بعد احمد نے بندوق چھین کر اسی حملہ آور پر تان لی تھی۔

احمد کے اہلخانہ نے سیون نیوز آسٹریلیا کو بتایا ہے کہ وہ ایک پھل فروش ہیں اور دو بچوں کے والد ہیں۔ اس وقت احمد ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کو بازو اور ہاتھ پر گولیاں لگیں تھیں اور ہسپتال میں ان کی سرجری کی گئی ہے۔ احمد الاحمد کے والدین نے اے بی سی نیوز سے بات کی ہے۔ محمد فتح الاحمد اور ملاکح حسن الاحمد کے مطابق ان کا بیٹا 2006 میں آسٹریلیا آیا تھا اور چند ماہ پہلے تک ان کی اس عرصے میں ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ احمد الاحمد کے والدین کے مطابق وہ خود چند ماہ پہلے ہی سڈنی پہنچے ہیں۔

انہوں نے اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے دیکھا کہ لوگ مررہے ہیں اور جب حملہ آور کا اسلحہ ختم ہوا تو وہ اس پر جھپٹ پڑا لیکن اسے بھی گولی لگ گئی۔ ہماری دعا ہے کہ خدا اسے بچا لے۔ احمد الاحمد کے والد نے کہا کہ ’اس نے جو اس وقت کیا، وہ یہ نہیں سوچ رہا تھا کہ جن لوگوں کو وہ بچا رہا ہے وہ کون ہیں۔ وہ قومیت کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتا۔ یہاں آسٹریلیا میں ایک شہری اور دوسرے میں کوئی فرق نہیں ہے۔‘

واضح رہے کہ اتوار کو آسٹریلیا کے بونڈائی ساحل پر ہونے والے اس واقعے میں 15 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔ آسٹریلیا کی پولیس نے اس واقعے کو ’دہشت گردی‘ قرار دیا ہے جس میں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا۔

احمد کے ایک کزن، مصطفی، نے سیون نیوز آسٹریلیا کو بتایا کہ ’وہ ہیرو ہے، 100 فیصد ہیرو ہے۔ اس کو دو گولیاں لگی ہیں، ایک بازو پر اور ایک ہاتھ پر۔