جیوے میرا پاکستان
- تحریر نسیم شاہد
- سوموار 15 / دسمبر / 2025
واپسی سے ایک دن پہلے مکہ کے ابراہیم خلیل روڈ پر نمازِ عشا کے بعد میں ،عاطف کمال اور بیٹی فریحہ نسیم کوئی بنگالی ریسٹورنٹ ڈھونڈتے رہے۔ہمیں دراصل پاکستانی ریسٹورنٹ پر معمول کے کھانے کھاتے یکسانیت سی محسوس ہو رہی تھی، اِسی دوران ہماری نظر ایک گلی میں واقع بنگالی ریسٹورنٹ پر پڑی، ہم وہاں گئے تو ایک منیجر ٹائپ نوجوان ہماری طرف بڑھا۔ اُس نے کہا آپ پاکستانی ہیں؟
یہ جملہ اُس نے انگریزی میں بولا تھا۔ہم نے اثبات میں سر ہلایا،پھر اُس نے میری طرف ہاتھ بڑھا کر کہا ہم بھائی بھائی ہیں۔ آئیں آپ کھانا کھائیں اور میری طرف سے کھائیں۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور کہا بل ضرور دیں گے۔اُس نے پوچھا کیا کھانا پسند کریں گے، ہم تندوری روٹیاں کھا کے تنگ آ چکے ہیں،اُسے چاول کھانے کی فرمائش کی۔اُس نے کہا مصالحے دار کھائیں گےیا اُبلے ہوئے۔فیصلہ ہوا کہ دونوں طرح کے چاولوں کی ایک ایک پلیٹ منگوا لیتے ہیں۔چاول آئے تو اُن کی شکل و صورت بہت بھلی لگی، صاف ستھرے اور بڑے بڑے،اوپر ایک خاص طریقے سے پکائی گئی ماش کی دال تھی۔ کھانے کا مزا آ گیا۔ کھانے کے بعد ہم نے بل کے بارے میں کہا ،وہ منیجر جس کا نام نعیم احمد تھا ہاتھ جوڑ کے کھڑا ہو گیا۔اُس نے کہا میں بل نہیں لوں گا، میری ماں نے پاکستان کے بارے میں اتنا کچھ بتایا ہے کہ مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے اور اسے دیکھنے کی خواہش بھی ہے۔آپ سے مل کر مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے اپنے بچھڑے ہوؤں سے مل رہا ہوں۔
بڑی عجیب پوزیشن تھی اُس وقت ہماری،جس پاکستانی ہوٹل سے ہم روزانہ کھانا کھاتے،اُس کے مالک کا تعلق سرائیکی وسیب سے تھا۔ اُس کے ملازمین بہت روکھے اور نسبتاً سخت گیر تھے، مثلاً بل اگر31 ریال کا بنتا تو اوپر والا ایک ریال بھی نہیں چھوڑتے تھے۔اُس کے مقابلے میں یہ بنگالی منیجر پورا بل چھوڑ رہا تھا۔ حیرت تو ہونی تھی بہت اصرار کیا مگر وہ نہ مانا بلکہ یہ کہا آپ ہمیشہ کھانا یہیں آ کر کھائیں۔میں نے جب بتایا کل تو ہم واپس پاکستان چلے جائیں گے تو وہ اُداس ہو گیا پھر دُعا دینے لگا اللہ آپ کو دوبارہ جلد اپنے گھر کی زیارت کے لئے بلائے۔
سعودی عرب میں مکہ اور مدینہ میں صفائی صفائی کے لئے ایک ادارہ النظافہ کے نام سے موجود ہے اس میں زیادہ تر پاکستانی اور بنگالی کام کرتے ہیں ان کا کام حرم پاک اور مسجد ِ نبویؐ میں صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ یہ اِس قدر مستعدی سے کام کرتے ہیں کہ دونوں متبرک جگہوں پر آپ کو ایک تنکا تک نظر نہیں آتا۔اس فورس سے تعلق رکھنے والا رفیق اللہ بھی بنگالی تھا۔ میری جوتی مسجد ِ نبویؐ میں کہیں گم گئی،میں کہیں رکھ کے بھول گیا تھا۔اس تلاش میں سرگرداں تھے کہ ہمیں رفیق اللہ مل گیا۔ وہ کافی عرصے سے یہاں تھا اور اردو بھی بول لیتا تھا۔ اُس نے ہمیں پریشان دیکھا تو قریب آ کے پوچھا کیا ہوا خیر تو ہے؟ عاطف کمال نے بتایا جوتا گم گیا ہے۔اُس نے کہا پریشانی کی کوئی بات نہیں، وہ ہمیں ایک عمارت میں لے گیا جو گم ہونے والی اشیا کے لئے بنائی گئی تھی۔ اُس نے کہ یہاں سے اپنی جوتی ڈھونڈ لیں اگر نہیں ملتی تو کوئی بھی اُٹھا کے پہن لیں اس کی اجازت ہے۔ ہم نے جوتوں کا ایک عام سا جوڑا لیا اور باہر آ گئے۔ اُس نے پوچھا آپ انڈین ہیں یا پاکستانی،میں نے کہا پاکستانی ہیں،اُس نے سنتے ہی والہانہ انداز میں کہا کیا میں آپ کو گلے لگا سکتا ہوں۔وہ مجھ سے اور عاطف کمال سے گلے ملا۔اُس نے کہا میں بنگالی ہوں پھر اُس نے اپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے کہا پاکستان اور بنگلہ دیش ایسے ایک ہیں۔
اُس نے بتایا ہمارے بزرگ پاکستان کی بہت باتیں کرتے ہیں، انہیں لاہور،کراچی اور حیدر آباد بہت یاد آتے ہیں۔اُن کی دوستیاں پاکستانیوں سے بہت تھیں۔ اِس لئے انہیں یاد کر کے آہیں تک بھرتے ہیں۔ اِس لئے نوجوان نسل بھی پاکستان سے بہت متاثر ہے۔ہم تو پاکستان کو اپنا بڑا بھائی کہتے ہیں۔ پھر وہ کہنے لگا آپ کو خریداری کے لئے، زیارتوں کے لئے میری ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔چھٹی کے بعد میں آپ کے پاس آ سکتا ہوں۔ میں نے شکریہ ادا کیا تو اُس نے کہا شکریہ نہیں آپ مجھے اپنے قریب رہنے کا موقع دیں،میں اپنی ماں کو فون کر کے بتاؤں گا میری پاکستانی فیملی سے ملاقات ہوئی۔انہیں بہت کچھ بتایا، میں نے کہا ہمیں تو یہ بتایا جاتا ہے کہ بنگالیوں میں پاکستان کے خلاف نفرت بہت ہے۔ وہ سمجھتے ہیں،پاکستانیوں نے اُن پر بہت ظلم کیا ہے۔ رفیق اللہ نے کہا ماضی کو ہم بھول چکے ہیں ۔ہمیں صرف اتنا یاد ہے کہ پاکستان ہمارا بچھڑا بھائی ہے، ہم اس بھائی سے ملنا چاہتے ہیں۔ قریب رہنا چاہتے ہیں۔ پھر اُس نے چار دن مدینہ میں ہمارے لئے وقت نکالا اور خوب محبتیں نبھائیں۔
مکہ میں مقبوضہ کشمیر کا ایک بزرگ عبدالمجید شیخ بھی مجھے نہیں بھولتا۔ میں حرم میں نمازِ فجر پڑھنے کے بعد ابراہیم خلیل روڈ پر واک کر رہا تھا کہ کسی نے پیچھے سے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو احرام میں ایک سفید ریش بزرگ کھڑے تھے، میں نے سوالیہ نظروں سے اُن کی طرف دیکھا تو اُنہوں نے کہا آپ پاکستانی ہیں،میں نے ہاں کہا تو وہ مجھ سے بغل گیر ہو گئے۔ کہنے لگے آج میرے دِل میں ٹھنڈا پڑ گئی۔پاکستانی سے ملنا میری دِلی خواہش تھی، کئی بار سوچتا تھا کسی کو روک کر پوچھوں کہ آپ پاکستانی ہیں لیکن پھر سوچتا تھا کہیں بھارتی نہ نکل آئے۔ آج ٹریک سوٹ میں آپ کو دیکھا تو پہلی نظر میں لگا آپ کوئی فوجی افسر ہیں اور پاکستانی بھی ہیں۔ اِس لئے کندھے پر ہاتھ رکھ کے روک لیا۔
پھر وہ مجھے اپنے ہوٹل لے گئے جہاں اُن کی فیملی مقیم تھی،اُن سب سے ملوایا اور کہا یہ پاکستانی پروفیسر ہیں، شاعر بھی ہیں۔اُن کی اہلیہ اور بیٹیوں نے پاکستان کے بارے میں ایسی محبت آمیز باتیں کیں کہ دِل خوش ہو گیا۔ میں سوچنے لگا ہم پاکستانی تو نجانے اپنے پاکستان کو کیا سمجھتے ہیں لیکن یہ بنگالی اور مقبوضہ کشمیر کے کشمیری تو اس کے ذکر پر بھی جان چھڑکتے ہیں،جیوے میرا پاکستان۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)