ایمان مزاری مقدمہ: نارویجن سفیر کی آمد اور طلعت حسین کا لڑکھڑانا

پاکستان کے معروف صحافی طلعت حسین کے مطابق اسلام آباد میں تعینات نارویجن سفیراک صبع ناشتہ کرنے اور نارویجن کافی پینے کے بعد لڑکھڑاتے ہوئے سپریم کور ٹ پہنچ گئے۔ سپریم کورٹ میں اس روز پاکستانی وکیل ایمان مزاری کے خلاف ایک کیس کی سماعت ہورہی تھی۔ یہ بات وزارت پاکستان کو ناگوار گزری اور طلعت حسین بھی صحافت کا دامن چھوڑ کر منہ کے بل ایسے گرے کہ چاروں خانے چت ہوگئے۔

ایمان مزاری کے خلاف جاری کیس پر دنیا بھر کے مستند صحافیوں، وکلا اور انسانی حقوق کی صورتحال پربے، جس پر ہزاروں پر خلوص ماہرین اور عام لوگوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں، مگر طلعت حسین اور ان کے تجزیہ کارکو یہ سب کچھ نظر نہ آسکا۔ عرض یہ ہے کہ سفیر ناروے نہ تو لڑکھڑارہے تھے اور ہم 50برس ناروے میں رہنے کے بعد آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ نہ ہی یہاں نارویجن کافی نامی کوئی شے ملتی ہے۔ کافی کی پیداوار افریقہ، ایشیا اور جنوبی امریکہ وغیرہ میں ہوتی ہے۔ یہاں پی ضرور جاتی ہے مگر اسے نارویجن کافی نہیں کہا جاتا۔

رہی بات لڑکھڑانے کی تو یہ تمسخر اڑانے کا ایک نہایت ہی تذلیل آمیز انداز ہے ، جس نے طلعت حسین کو نیم صحافیوں کی اس صف میں لاکھڑا کیا کہ جہاں درجنوں وفادار پہلے ہی چاروں خانے چت اور کبھی پٹ پڑے ہیں۔ وزارت خارجہ پاکستان پر یہ بات گراں گزری تو اس نے نارویجن سفیر کی سپریم کورٹ آمد اور سماعت سننے کے عمل کو سفارتی دائرۂ کار سے تجاوز اور ایک ناپسندیدہ رویہ قرار دے دیا۔ اس ردعمل پر ضرور بات ہوسکتی ہے مگر اپنے پروگرام کی تمہید ایک سفیر کے تمسخر سے کرنا از خود طلعت حسین کے اپنے وقار کے لیے بھی نامناسب ہے۔

کیا ہی بہتر ہوتا کہ طلعت حسین اس کیس کی نوعیت پر انٹرنیشنل سطح پر پائی جانے والی تشویش پر بات کرتے اور نارویجن سفیر کی دلچسپی کا تجزیہ اس پیرائے میں کرتے۔ مگر افسوس کہ ان کا لنڈابازاری انداز معاملے کی سنگینی تک پہنچنے میں حائل ہوگیا۔ صحافت کبھی بھی نیت اور مفروضوں پر نہیں ہوتی ۔ فقط کہی ہوئی بات اور کیے گئے عمل اور ردعمل پر ہی ہوتی ہے۔

محترمہ سمیرا خان ، جو کہ اس معاملے پر تبصرہ فرمارہی تھیں ، در حقیقت وہ طلعت حسین کی ہاں میں ہاں ملاتی نظر آئیں۔ انہیں رپورٹر کے طور پر متعارف کرایا گیا اور پھر اگلے ہی مرحلے میں ان ہی سے تبصرہ کرنے کو بھی کہا گیا۔ رپورٹر اور تجزیہ کار ایک ہی فرد ہوسکتا ہے؟ اپنے 35 برس کے صحافتی کیرئیر میں ہم نے دو اصولوں کی سختی سے پابندی کی: تمسخر صحافت کے لیے دیمک ہے اور رپورٹر کبھی بھی تجزیہ کار یا مبصر نہیں ہوسکتا۔ شاید ہم ہی غلط تھے۔

سمیرا خان ناواقف ہیں کہ انسانی حقوق سے متعلق اصولی معاملات کی سماعت کے دوران دنیا بھر میں جہاں بھی ممکن ہو، مختلف ممالک کے سفرا خاموش سامع بن کر عدالتوں میں جاتے ہیں۔ ان کی دلچسپی اور موجودگی بے شک ایک دباؤ ضرور پیدا کرتی ہے مگر قاضی و منصف کو اس بات کا خوف کیونکر ہو؟ اس کی درجنوں مثالیں موجود ہیں۔ برما یعنی میانمار، ترکی، چلی، ارجینٹا، جنوبی افریقہ، انڈونیشیا اور دیگر ممالک میں سفرا کورٹ کاروائیاں دیکھنے اور سننے جاتے رہے ہیں۔

جوردعمل وزارت خارجہ پاکستان کی جانب سے ظاہر کیا گیاہے، وہ بھی اصولی نہیں بلکہ ایک سیاسی موقف ہے۔ کیونکہ بین الاقومی قوانین و معاہدے سفرا کو ایک کھلی عدالت میں جانے سے قطعی نہیں روکتے۔ ان کی مداخلت تب تسلیم ہوتی کہ جب وہ اس کیس بارے کوئی بیان دیتے یا کارروائی میں کوئی خلل پیدا کرتے۔

پاکستانی صحافیوں کو چاہئے کہ کبھی چت تو کبھی پٹ کا کھیل چھوڑدیں۔ رپورٹنگ اور تجزیہ کاری میں واضع فرق روا رکھیں اور تمسخر سے پاک صحافت کریں۔ ورنہ شاہ کے پرانے وفادار جب نئے شہسواروں کی ٹاپوں تلے روندے جائیں گے تو ان پر رونے والا بھی کوئی نہ ہوگا۔

( بشکریہ :روزنامہ جد و جہد آن لائن)