ٹخنوں سے اونچی شلوار اور مدارس کا کردار
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 15 / دسمبر / 2025
گزشتہ ہفتہ کے دوران قومی علما و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حاضرین سے قومی اتحاد اور عوام میں وسعت نظر پیدا کرنے میں کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ تقریر کے دوران پاک فوج کے سربراہ نے علم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے مدارس میں اصلاح کی ضروری قرار دی اور اسلام کو درست طریقے سے سمجھنے اوراس پر عمل کرنے کی بات کہی۔
اس تقریر میں پاک فوج کی خدمات، دہشت گردی کے چیلنج اور پاک سعودی دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تمام مسلمان ممالک میں سے پاکستان کو حرمین شریفین کی حفاظت کا اعزاز حاصل ہؤا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علم اور قلم سے ناطہ توڑنے والی قوم انتشار کا شکار ہوسکتی ہے۔ وقار اور قوت کے لیے تقسیم و انتشار کی بجائے سخت محنت اور علم کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے علما و مشائخ سے تعاون کی اپیل کی کہ وہ قومی اتحاد کے علاوہ عوام میں وسعت نظر پیدا کرنے کے لیے کام کریں۔
اس مختصر اور اہم تقریر کے حوالے سے البتہ سوشل میڈیا پر ایک ایسے مولوی کے ’کلمہ حق‘ کا چرچا ہے جس نے فیلڈ مارشل کی کسی بات پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’ٹخنوں سے اونچی شلوار اللہ کے رسول کا حکم ہے۔ اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا‘۔ اس بارے میں جو معلومات عام کی گئی ہیں، ان کے مطابق حاضرین دیر تک تالیاں بجا کر ان مولوی صاحب کی جرات رندانہ کی تائید و توصیف کرتے رہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے علما و مشائخ کا یہی اجتماع فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی باتوں پر پرجوش دادو تحسین نچھاور کررہا تھا۔ مگر ٹخنوں سے اونچی شلوار کے بارے میں ایک مولوی کے کلمہ حق نے ماحول تبدیل کردیا۔
اس دوران دیگر علما کے علاوہ مفتی منیب الرحمان کا یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ مدارس میں اصلاح کی بجائے کالجوں و یونیورسٹیوں کے حالات درست کیے جائیں۔ ملک میں ہرمکتبہ فکر کے ہزاروں مدارس ہیں اور کسی مصدقہ طریقے سے ان مدارس کی تعداد یا وہاں تعلیم پانے والے طالب علموں کے اعداد و شمار حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ کیوں کہ مدارس کی نمائیندگی کرنے والی مختلف تنظیمیں دینی مدارس کی رجسٹریشن کرانے اور ان کے نصاب کے بارے میں سرکاری کنٹرول کی شدید مزاحمت کرتی رہی ہیں۔ حالانکہ اس کا تقاضہ دہشت گردی کے خلاف 2014 میں منظور کیے گئے قومی ایکشن پلان میں کیا گیا تھا تاکہ دہشت گرد گروہ مدارس کے ذریعے اپنا مشن مکمل کرنے میں ناکام رہیں۔ البتہ ملک کے علما و مشائخ بار بار دہشت گردی کے خلاف فتوے دینے کے باوجود مدارس کی اصلاح کے نام پر بدکتے ہیں اور اسے دین پر حملہ قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران برسر اقتدار آنے والی تقریباً سب ہی حکومتوں نے قومی ایکشن پلان کے اس حصے کو نظر انداز کیا اور ابھی تک مدارس کے حوالے سے شفافیت دیکھنے میں نہیں آئی۔
ملک کو ایک بار پھر دہشت گردی کی شدید اور خطرناک لہر کا سامنا ہے۔ اگرچہ سرکاری طور سے یہی مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ اس دہشت گردی کو پھیلانے میں افغانستان اور بھارتی حکومتیں ملوث ہے۔ اسی لیے دہشت گرد عناصر کو اب فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا نام دیا جاتا ہے لیکن فساد کے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ بیرونی عناصر بھی دہشت گرد بھرتی کرنے کے لیے ایسے دینی اداروں سے رضاکار تلاش کرتے ہیں جہاں غیر ذمہ دار مولوی انہیں عقیدے کا انتہاپسندانہ سبق یاد کراتے ہیں اور بچوں و نوجوانوں کے معصوم ذہنوں کو دین کے نام پر تمام سماجی و معاشرتی اقدار سے برگشتہ کیا جاتا ہے۔ اور یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کی حکومتیں اسلام کو حقیقی معنوں میں نافذ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ایسے مزاج کا قلع قمع کرنے کے لیے کسی کنونش میں علما و مشائخ کی شرکت یا ضرورت کے تحٹ فتوے کام نہیں آسکتے۔ ان طریقے اس عفریت سے جان چھڑانے میں مفید ثابت نہیں ہوئے۔ بلکہ اس مقصد کے لیے مدارس کی تطہیر ضروری ہے اور یہ یقینی بنانا چاہئے کہ وہاں پڑھایا جانے والا نصاب امن و محبت کا پیغام دیتا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اسی صورت حال میں علم اور سیع القلبی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پاکستان میں مدارس کے نمائیندے ہمیشہ اپنے نجی اداروں کا مقابلہ ملک کے دیگر تعلیمی اداروں سے کرتے ہوئے خود اپنی ذمہ داری سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس مقصد کے لیے عقیدہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ حکومت ایسے ہتھکنڈوں کے سامنے کمزور پڑ جاتی ہے جس کے نتیجے میں اصلاح احوال کا بنیادی کام بھی شروع نہیں ہوپاتا۔ یہ جاننا اہم ہے کہ دینی مدارس صرف پاکستان ہی میں کیوں اہم سمجھے جاتے ہیں۔ درجنوں دوسرے مسلمان ممالک میں اسلامی علوم کے لیے عام اسکول اور یونیورسٹیاں ہی کافی ہیں۔ اس حوالے سے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں اسلامی روایت کے برعکس اور دیگر مسلمان ممالک کے طریقوں کے برخلاف مساجد کو گروہوں یا افراد کے حوالے کیا گیا ہے۔ حالانکہ مساجد اور بطور خاص جامعہ مساجد کا انتظام و انصرام حکومتی اداروں کے ہاتھ میں ہونا چاہئے۔ تاکہ یہ معلوم ہو کہ جمعہ کے خطبوں میں عام لوگوں تک کیا پیغام پہنچایا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ کنٹرول نہ ہونے کے سبب جو خرابیاں پیدا ہوئی ہیں ان میں فرقہ پرستی کے علاوہ مذہبی انتہا پسندی سب سے زیادہ تکلیف دہ اور پریشان کن ہیں۔ اس وقت پاکستان میں ایسے حالات پیدا کردیے گئے ہیں کہ ہر فرد خود کو اسلام کا محافظ سمجھ کر اپنے تئیں خلاف مذہب بات کرنے والے کسی بھی شخص کو ’انصاف ‘ فراہم کرنے پر آمادہ رہتا ہے۔
پاکستان میں مدارس کی دو اقسام ہیں۔ بیشتر مدارس تو مقامی طور سے منظم کیے جاتے ہیں اور اس کا انتظام کرنے والا مہتمم ذکوۃ، چندہ یا صدقات جمع کرکے کام چلاتا ہے۔ بیشتر صورتوں میں ان مدارس میں تدریس دینے والوں کی فن تدریس میں صلاحیت کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہوتا۔ البتہ غریب خاندان اپنے کم سن بچوں کو ایسے مدارس کے حوالے کردیتے ہیں تاکہ انہیں کم از کم دو وقت کا کھانا اور رہائش مل جائے۔ تاہم مدارس کی ایک قسم ایسی بھی ہے جنہیں بڑے اور منظم گروہ چلا رہے ہیں۔ ان کے پاس وافر مالی وسائل ہوتے ہیں اور ان کے مہتممین عام طور سے پر تعیش زندگیاں گزارتے ہیں۔ ان لوگوں کے رہن سہن اور مدارس کی اصلاح کے سوال پر درشتی کی روشنی میں انہیں ’مدارس مافیا‘ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ نہ یہ خود یہ بتانے پر آمادہ ہیں کہ انہیں کثیر مالی وسائل کہاں سے حاصل ہوتے ہیں اور نہ ہی حکومت ان سے اپنی آمدنی و اخراجات کا آڈٹ کرانے کا تقاضہ کرتی ہے۔ حال ہی میں 27 ویں ترمیم میں فیلڈ مارشل کے لیے تاحیات استثنیٰ کے سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے کراچی کے مفتی تقی عثمانی نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ طریقہ غیر اسلامی ہے کیوں کہ کوئی احتساب سے ماورا نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہ اصول مدارس کی مالیات یا ناجائز قبضوں پرلاگو کرنے کی بات کو اسلام پر حملہ قرار دیا جاتا ہے۔
ملک میں مساجد اور مدارس کی بھرمار اور علمائے دین کی افراط کے باوجود شدید اخلاقی انحطاط کی صورت حال دیکھی جاسکتی ہے۔ پوچھنا چاہئے کہ علما و مشائخ کی اتنی بڑی تعداد کے باوجود کیا وجہ ہے کہ عام لوگوں کو بنیادی اخلاقی درس بھی یاد نہیں کرائے جاتے اور نہ ہی قوانین کے احترام اور انسانوں کی عزت کا ماحول پیدا کیا جاسکا ہے۔ معاشرے میں خرابیوں کے لیے علمائے کرام کو ذمہ داری قبول کرنی چاہئے لیکن وہ خود کو جوابدہ نہیں سمجھتے۔ یہی ساری خرابی کی جڑ ہے۔ مدارس عام لوگوں کے چندوں سے چلائے جاتے ہیں۔ عوام کے ان وسائل کا کنٹرول ریاست کی ذمہ داری ہونا چاہئے لیکن نہ تو حکومت یہ ذمہ داری پوری کرتی ہے اور نہ ہی مدارس کے مبلغین حکومت کا یہ اختیار قبول کرنے پر آمادہ ہیں۔
اس علت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ریاست نے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے علمائے کرام جن میں بیشتر مدارس کے ذریعے طاقت و مالی وسائل حاصل کرتے ہیں ، کو ’اثاثوں‘ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اسی بالواسطہ سرپرستی نے ان ملاؤں کو منہ زور اور غیر ضروری طور سے طاقت و ر بنا دیا ہے۔ اس اثر و رسوخ کی وجہ سے وہ وہ اپنی مالیات کے علاوہ دینی اخلاقیات پر اٹھنے والے سوالوں کا جوب دینے کو ’کفر‘ شمار کرتے ہیں۔ پھر حکومت ہی نہیں بلکہ عام لوگ بھی ان مولویوں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہیں رہتے۔
علما و مشائخ کانفرنس میں شلوار کی لمبائی پر سوال و جواب کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اگر واقعی قوم کو روشن خیالی اور علم کے راستے پر گامزن کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ان منہ زور ملاؤں کو لگام دینے کے اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے وہ سب سے پہلے اپنے زیر نگرانی کام کرنے والے اداروں سے کہیں کہ مذہبی لیڈروں کو ’اثاثہ‘ بنانے کی پالیسی تبدیل کی جائے۔