سڈنی حملہ کے ملزمان کے بارے میں انکشافات

  • منگل 16 / دسمبر / 2025

آسٹریلوی پولیس کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہ دونوں حملہ آور باپ بیٹا گذشتہ ماہ فلپائن گئے تھے۔ فلپائنی حکام نے کہا ہے کہ ان کی سرگرمیوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ سڈنی پولیس نے مطلع کیا ہے کہ اس حملہ میں ملوث باپ بیٹے نے داعش کے ساتھ وفاداری کا عہد کیا تھا۔

فلپائن کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل اور ترجمان کورنیلیو ویلینسیا نے بتایا کہ کونسل ان مشتبہ افراد کے ممکنہ روابط فلپائن میں دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تحقیقات کر رہی ہے۔ حکام اس بات کی بھی چھان بین کر رہے ہیں کہ وہ ملک میں کن سرگرمیوں میں ملوث رہے۔ فلپائنی حکام اس معاملے پر اپنے آسٹریلوی ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے بونڈائی بیچ پر ہونے والے حملے میں ملوث حملہ آوروں نے مبینہ طور پر نام نہاد دولت اسلامیہ سے وفاداری کا عہد کیا تھا۔ ایک حملہ آور کی گاڑی سے دھماکہ خیز مواد بر آمد ہوا ہے۔ آسٹریلیا میں پولیس نے سڈنی کے قریب ایک پراپرٹی پر چھاپہ مارا ہے اور اس کا خیال ہے کہ دو مسلح افراد نے اس حملے کی تیاری کے لیے اسے کرائے پر لیا اور دو ہفتے پہلے وہاں منتقل ہوئے تھے۔

اس حملے میں پندرہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

دریں اثنا بھارتی ادارہ پرنٹ کے مطابق بونڈی بیچ کا حملہ آور ساجد اکرم 1998 میں بھارت سے آسٹریلیا منتقل ہوا تھا۔ پرنٹ کی رپورٹ میں تصدیق کی گئی کہ ساجد اکرم کا تعلق حیدرآباد تلنگانہ سے ہے۔ اس کے پاکستانی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ بونڈی بیچ واقعے میں مارا جانے والا ساجد اکرم بھارتی نژاد جبکہ بیٹا نوید اکرم پیدائشی آسٹریلوی شہری ہے۔ اس سے پہلے بھارتی اور اسرائیلی میڈیا حملہ آوروں کا تعلق پاکستان کے ساتھ جوڑ رہے تھے۔

پرنٹ کے مطابق آسٹریلوی حکام نے بھارت سے تفصیلات مانگی ہیں۔