پاکستان میں سب کچھ ہے، سوائے صبر و تحمل کے
- تحریر نسیم شاہد
- منگل 16 / دسمبر / 2025
پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی یوں لگتا ہے آزاد فضاؤں میں پہنچ گئے ہیں۔ شاید آپ غلط سمجھے ہیں جن آزاد فضاؤں کی بات کررہے ہیں وہ کچھ اور ہیں۔
جدہ ایئرپورٹ پر جہاز تک لے جانے کے لئے جو بس آئی، اس میں سب پاکستانی مسافروں نے جہاز تک جانا تھا۔ اس میں سوار ہوتے ہوئے سب ایک قطار اور ترتیب سے اس میں داخل ہوئے۔ کوئی ہڑبونگ اور نہ کوئی دھینگامشتی، کیونکہ ساتھ ہی سعودی عرب کے سیکیورٹی اہلکار بھی کھڑے تھے۔ جہاز میں بھی بڑی ترتیب سے داخل ہوتے گئے، کسی کو کہنی ماری اور نہ کسی کا راستہ کاٹا۔ اس سے پہلے جدہ میں امیگریشن کے دوران بھی ہم سب ایک ہی فلائٹ کے مسافروں نے مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام مراحل مکمل کئے۔ ساڑھے چار گھنٹے سفر کے بعد جب علی الصبح جہاز لاہور کی حدود میں داخل ہوا اور پائلٹ نے اعلان کیا کہ چند منٹوں بعد ہم علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ لاہور پر اتریں گے اور ساتھ ہی یہ درخواست بھی کی کہ جہاز کھڑے ہونے تک اپنی نشستوں پر بیٹھے رہیں اور جب دروازے کھلیں تو ایک ترتیب سے باہر نکلیں مگر صاحب اس کی فغانِ درویشی کون سنتا ۔جونہی جہاز ٹیکسی کرتا اپنے ٹرمینل پر رکا، ابھی دروازے بھی نہیں کھلے تھے کہ سب نے اپنا سامان نکالنا شروع کر دیا۔
پائلٹ بار بار کہتا رہا، ائرہوسٹیں باردگر اپیل کرتی رہیں اپنی نشستوں پر بیٹھے رہیں لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ پھر جو دھکم پیل ہوئی، اللہ ہی جانتا ہے ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہنے کی رسم بھی جاری ہوگئی۔ میں اپنی نشست پر بیٹھا یہ سب دیکھتا رہا۔ یہی مسافر تھے جو بڑی ترتیب اور صبر سے جہاز میں سوار ہوئے تھے اور صرف چار گھنٹے بعد ان کا سب کچھ بدل گیا۔ یہ سب کیسے ہوا، اس پر سوچنے کی ضرورت اس لئے پیش نہ آئی کہ مجھے ایئرہوسٹس کی آواز سنائی دی، سر آپ بھی اتر جائیں، اب باہر کا منظر دیکھا۔ صبح کے وقت لاہور ایئرپورٹ پر شدید دھند تھی۔ سردی بھی بہت تھی۔ ایک بس مسافروں کو لے کر لاؤنج کی طرف جا چکی تھی، دوسری کا انتظار ہو رہا تھا، پھر دوسری بس آئی، اب مسافر بھی تھوڑے تھے مگر بے صبری زیادہ تھی، چڑھنے کے لے وہی دھکم پیل شروع ہوگئی۔ ایک مولوی صاحب جو جدہ ایئرپورٹ پر باقاعدہ تحمل اور صبر کی تصویر بنے ہوئے تھے، یہاں مجھ سے پہلے چڑھنے کی کوشش میں مجھے باقاعدہ دھکا دے بیٹھے۔ اس پر ایک مسافر نے کہا اللہ کے بندو، اللہ کے گھر سے آئے ہو، کچھ توصبرکا مظاہرہ کرو۔ میں نے کہا حضرت کوئی بات نہیں ، میں بھی اسی بس میں جاؤں گا اور ان کے ساتھ ہی پہنچوں گا ۔بس تھوڑے سے صبر کی ضرورت ہے۔
سامان لینے کا وقت آیا تولاہور ایئرپورٹ پر پھر وہی بے صبری دیکھی جو جدہ میں کہیں نظر نہیں آئی تھی۔ اس بیلٹ پر لوگ ٹوٹے پڑ رہے تھے جس پر سامان کے بیگ اور دیگر اشیاگزر رہی تھیں۔ ایک لاہوری نوجوان تو باقاعدہ ایک بزرگ سے الجھ پڑا جو اپنا بیگ دیکھ کر اسے اٹھانے کے لئے ذرا آگے بڑھے۔مرحلہ یہ بھی تھا کہ سامان آ جاتا تو آب زم زم کا انتظار کیا جاتا، جو ساڑھے بارہ ریال کی ایک ایک بوتل ملی تھی۔ ایئر لائن کے عملے یا پھر اس کمپنی کے لوگوں کی نااہلی تھی کہ وہ آب زم زم کی بوتل سامان کے ساتھ نہیں بھیج رہے تھے۔ یوں جس کا سامان آ جاتا وہ آب زم زم کی بوتل کے لئے وہیں کھڑا رہتا۔ یوں رش بڑھتا رہا، یہ بدانتظامی صرف لاہور ایئرپورٹ پر دیکھنے کو ملی۔
جب ہم جدہ ایئرپورٹ لاہور سے پہنچے تھے تو ابھی ہم امیگریشن کراکے لاؤنچ میں پہنچے ہی تھے کہ سارا سامان وہاں پہلے سے موجود تھا مگر لاہور میں ایک گھنٹہ انتظار کے باوجود سامان نہیں پہنچا۔ ایک کے بعد ایک فلائٹ کے مسافر وہاں آتے رہے اور رش بڑھتا رہا۔ حکام کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ ہمارا آب زم زم بھی کہیں گم ہو گیا۔ ہم دو گھنٹے وہیں کھڑے رہے۔ پھر ائرلائن کے ایک ایک انتظامی افسر سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا ہم اپنے سٹاک سے آب زم زم دے دیتے ہیں۔ یوں ہم چھ بجے لینڈ کرنے کے بعد ساڑھے آٹھ بجے ایئرپورٹ سے باہر آئے۔شکر ہے امیگریشن والے خاصے مہربان تھے۔ وہ عمرے سے آنے والوں کو خاص طور پر جلدی جلدی کلیئر کرکے بھیجتے رہے، وگرنہ آنے والوں کی جلدی اور بے صبری تو اپنی جگہ موجود تھی۔
جدہ ایئرپورٹ پر پہلی مرتبہ دیکھا کہ جانے والے مسافروں کی بھی اتنی سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔اوپر سے امیگزیشن حکام کا رویہ اپنی جگہ بہت درشت ہے۔ میرا کوٹ، ٹوپی، جوتیاں، بٹوہ اور ہاتھ میں پکڑا ہوا کھانے کی اشیا کا شاپر تک سکیننگ میں رکھ کر گزارا گیا۔ایک بار تو میں جوتیاں اتارنا بھول گیا، ایک نوجوان عربی نے جو امیگریشن محکمے سے تھا، مجھے اس قدر سخت لہجے میں جوتیاں اتارنے کو کہا کہ میں دنگ رہ گیا۔ میں سوچنے لگا ایسا کوئی پاکستانی افسر یا اہلکار کرتا تو میں اس کے گلے پڑ جاتا۔ اسے سو سو من کی سناتا۔ پھر یہ شور بھی مچاتا کہ دیکھو ہمارے ایف آئی اے یا امیگریشن والے کتنے بدتمیز اور بدتہذیب ہیں، چھوٹے بڑے کا خیال بھی نہیں کرتے۔
جب میں لاہور ایئرپورٹ کے مختلف حصوں سے گزر رہا تھا اور وہاں تعینات افسروں و اہلکاروں کے رویے دیکھ رہا تھا تو وہ مجھے معصوم فرشتے لگ رہے تھے جو بات بھی سر کہہ کر کرتے ہیں جبکہ جدہ میں تو صرف اونچی آواز میں جھڑک ہی سنائی دیتی ہے۔ میرا خیال ہے پاکستان میں آکر ہم پاکستانیوں کے اندر کا آزاد مولا جٹ بیدار ہو جاتا ہے جو کسی قانون،کسی پابندی کو قبول نہیں کرتا۔ جو من مانی چاہتا ہے جو اپنے ہی اہلکاروں اور افسروں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ وہ ذرا سا قطار میں بھی لگنے کے لئے کہہ دیں تو ہمیں اپنی توہین محسوس ہوتی ہے، ہم اس کے پیچھے ایسے پڑ جاتے ہیں جیسے وہ کوئی بہت بڑا مجرم ہو۔ اس رویے، اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں سب کچھ ہے بس وہ صبر، ضبط نہیں جو دوسرے ملک جا کے ہمارے اندر آ جاتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)