مخلوق کی خوراک کس کی ذمہ داری ہے؟
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 16 / دسمبر / 2025
تمام مخلوقات کی پہلی ضرورت ان کی خوراک ہوتی ہے، ماں کے پیٹ سے لے کر آخری سانس تک ہر جاندار کو بھوک پیاس لگتی ہے اور اسے خوراک دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہر جاندار کو خوراک پہنچانا کس کی ذمہ داری ہوتی ہے؟
کیا یہ اللہ تعالٰی کی ذمہ داری ہے، ریاست کی ذمہ داری ہے، والدین کی ذمہ داری ہے، مخیر اور مالدار انسانوں کی ذمہ داری ہے، ہر جاندار اپنی روزی کا خود ذمہ دار ہے یا پھر وقت کے ہر حاکم کو اپنی ریاست میں بسنے والوں کے بھوکے رہنے کا حساب دینا ہوگا؟ میری سوچ کے مطابق اوپر بیان کی گئی تمام قوتوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ہمارے دین اسلام کے مطابق سب سے پہلے اللہ ہی روزی رساں ہے (واللہ خیر رزاقین)۔
اب دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا نااعوذ باللہ اللہ تعالٰی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا؟ کیا اللہ نے کچھ تفریق پیدا کر رکھی ہے کہ کچھ کو بے حساب دیتا ہے اور کچھ کو غربت اور بھوک کی بھٹی سے گزارتا ہے، کچھ کو بنا مانگے دے دیتا ہے اور کچھ کو مانگنے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے آگے ہاتھ پھیلائیں؟ نہیں ایسا نہیں ہے کیونکہ ہمارا رب انصاف کرنے والا ہے، وہ اپنی مخلوقات سے بے پناہ محبت کرتا ہے، اس نے اپنی کائنات کے اندر ہر کسی کے لیے روزی کا بندوبست کر رکھا ہے، وہ پتھر کے اندر کسی کیڑے کو پال سکتا ہے، وہ پتھروں میں نباتات اگا سکتا ہے، وہ پتھریلی زمین کو سیراب کر سکتا ہے، اس نے اس کائنات کو اس توازن کے ساتھ بنایا ہے کہ سب کے لیے میزان مقرر کر رکھا ہے۔
تو پھر دنیا میں غربت کیوں ہے اور اللہ کی مخلوق خوراک کے بغیر کیوں مرتی ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے کچھ اپنے ذمے لے رکھا ہے اور زیادہ اپنی مخلوقات کے ذمے لگا دیا ہے۔ ہمارے سامنے ابھی تک جو مخلوق ہے، وہ صرف ایک سیارے یعنی زمین پر ہے یا زمین کو گھیرے ہوئے سمندروں کے اندر ہے۔ دوسرے سیاروں پر کوئی مخلوق ہو گی، یہ انسان کے علم میں نہیں ہے۔ فرشتوں کے متعلق ہمارا ایمان ہے کہ وہ کچھ کھاتے پیتے ہی نہیں جبکہ جنات ہماری نظروں سے اوجھل ایک تصور ہے۔ اس لیے ہمیں صرف انسانوں اور انسانوں کے قابو میں آنے والی مخلوق تک محدود رہ کر بات کرنی چاہیے۔
اب اگر ہم اپنے دماغ پر تھوڑا زور دیں اور سوچیں کہ اس دنیا میں غریب کون ہیں اور خوشحالی کہاں اور کیسے آئی ہے؟ پھر تھوڑا تاریخ پر غور کر لیں کہ کب اور کہاں کیا ہوا، کن قوموں نے غربت کی چادر ہٹا کر خوشحالی کو دعوت دی، دنیا کے کس خطے میں وسائل کی فراوانی ہے اور کن علاقوں میں بھوک و افلاس کے ڈیرے ہیں؟ اس وقت امریکہ، کینیڈا، یورپ، جاپان، چین، کوریا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ خوشحال ممالک ہیں۔ ترکیہ، خلیج فارس، جنوبی امریکی ممالک، تھائی لینڈ، ملائشیا، روس، یوکرائن، جنوبی افریقہ، وسط ایشیائی ممالک سمیت کئی ممالک ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے متوسط خوشحالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ دوسری طرف ایشیا اور افریقہ میں بیسیوں ممالک کی اکثریت غربت کی چکی میں پس رہی ہے۔ امیر ممالک کے لوگ بہت زیادہ امیر ہیں لیکن وہاں غریب کوئی بھی نہیں۔ کیونکہ غربت کی وضاحت یہ ہے کہ جہاں کسی کو بنیادی ضروریات نہ مل رہی ہوں، وہ غریب کہلاتے ہیں۔ اور جن لوگوں کو زندگی کی بنیادی ضروریات میسر ہوں۔ ان کے پاس ذاتی گھر، گاڑی نہ بھی ہو مگر بنیادی ضروریات جس میں کھانا، رہائش، صحت، تعلیم اور آمدورفت کے ذرائع میسر ہیں، انہیں زیادہ لالچ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
اب ایک بار پھر دماغ پر زور دیا جائے تو سمجھ آ سکتی ہے کہ اللہ کا کام ہر جاندار کے لیے روزی کا انتظام کرنا، اس طرح ہے کہ جہاں بھی اللہ کی مخلوق ہے، وہاں اس کی ضروریات کے ذرائع بھی موجود ہوتے ہیں۔ اب ان وسائل کی تلاش سب سے پہلے ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حدود کے اندر ان تمام وسائل کی تلاش کرے، ان کو بروئے کار لانے اور درست تقسیم کا بندوبست کرے۔ اگر ریاست اپنی نااہلی، کاہلی اور غفلت کے سبب ان ذرائع کو تلاش کرنے اور ان کی درست تقسیم میں ناکام رہتی ہے تو اس معاملے کو اللہ کی مرضی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ریاست کے بعد والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے اور اپنی اولاد کے لیے خوراک اور ضروریات کے لیے کوشش کریں، محنت کریں اور ریاست کے اندر اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں۔ اور جب ایک فرد خود اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ کما سکتا ہے تو پھر اس پر بھی ذمہ داری آ جاتی ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ جب جانوروں کے ہاں بچوں کا جنم ہوتا ہے تو وہ ان کی خوراک کا بندوبست کرتے ہیں۔ اور جب بچے خود چلنا اور دوڑنا شروع کر دیتے ہیں تو پھر وہ خود اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں۔ یہی قدرت کا نظام ہے۔ کسی بھی ریاست کا نظام بنانا حکمرانوں یا منتخب نمائندوں کا کام ہوتا ہے۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملکی نظام کو اس طرح ترتیب دیں کہ ریاست کی ہر اکائی اپنا کام کرے اور ہر فرد اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ریاست کی آمدن میں اپنا حصہ ڈالے۔ ریاست اپنے ہر فرد کی بنیادی ضروریات کی ذمہ دار ہے۔ ہر پیدا ہونے والا بچہ اپنے ماں باپ سے پہلے ریاست کا بچہ ہوتا ہے۔ اس کی صحت، نشوونما، اس کی تعلیم اور اس کے روزگار کا بندوبست ریاست کی ذمہ داری ہے اور اگر کوئی فرد معذور ہے، بیمار ہے یا کسی وجہ سے بیروزگار ہے تو اس کی تمام بنیادی ضروریات ریاست اپنے خزانے سے پوری کرنے کی ذمہ دار ہے۔
اگر کوئی والدین اپنے بچوں کی پرورش میں کسی کوتابی کے مرتکب ہو رہے ہیں تو ریاست ان والدین سے بچوں کو اپنی تحویل میں لے کر پرورش کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ اس دنیا میں جتنے بھی ممالک غربت کا شکار ہیں یا جہاں امیر و غریب میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے، ان ممالک کے حکمران اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ ان کی لاپرواہی، ذاتی لالچ، بدعنوانی اور جہالت کا مظہر ہے۔ اس کو اللہ کی مرضی قرار دینا درست نہیں ہے۔