عمران خان سے ملاقات کا تنازعہ: حکومت اپنی پوزیشن پر نظرثانی کرے

علیمہ خان کی سربراہی میں  عمران خان کی بہنوں اور  تحریک انصاف کے ہزاروں کارکنوں نے آج پھر اڈیالہ جیل کی طرف جانے کی کوشش کی  تاہم پولیس کی بھاری نفری نے انہیں آگے بڑھنے یا  عمران خان سے ملنے کی کوشش کرنے سے روک دیا۔ اس کے بعد انہوں نے فیکٹری ناکہ کے قریب دھرنا دیا ہے۔ گزشتہ منگل کو بھی ایسا ہی دھرنا دیا گیا تھا جسے رات گئے پولیس  نے طاقت کے استعمال سے ختم کرادیا تھا۔

علیمہ خان نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ وہ ہر منگل کو احتجاج کے لیے آتی رہیں گی۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت عمران خان سے ملاقات کی سہولت بحال نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا احتجاج قانونی اور آئینی ہے لیکن حکومت ہر قانون کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ آئینی ترامیم کے ذریعے عدالتوں کو کٹھ پتلی بنادیا گیا ہے۔  اس موقع پر تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ بھی موجود تھے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ  ہم لوگوں کو سنبھال رہے ہیں۔ اگر احتجاج طویل کیا جائے تو لوگ مرنا شروع ہوجائیں گے۔ تاہم وہ اس بات کی وضاحت نہیں کرسکے۔ لیکن وہ   ایک رپورٹر کے اس سوال پر برہم دکھائی دیتے تھے  کہ  ’کیا وہ سمجھتے   ہیں کہ بیس تیس ہزار لوگوں کے ساتھ وہ 78 سال سے کام کرنے والا نظام توڑنے  میں کامیاب ہوجائیں گے‘۔

سیکریٹری جنرل سمیت تحریک انصاف کے کسی لیڈر کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے۔ کیوں کہ پارٹی اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود عوام کو سڑکوں پر نکالنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ البتہ عمران خان سے ملاقات کے نام پر ہر منگل کو شروع کیے گئے احتجاج  سے یہ جائزہ لینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے کہ کیا عوام کو اتنا مشتعل کیا جاسکتا ہے کہ وہ  جیل میں عمران خان اور جیل کے باہر ان کی  بہنوں کے ساتھ ہونے والے  ’ظلم‘ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ چونکہ  تحریک انصاف  اس مقصد میں کامیاب نہیں ہورہی اس لیے یہ دعوے کرکے کام چلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جب عوام سڑکوں پر نکل آئے  تو کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔ ہفتہ عشرہ پہلے عمران  خان کی طرف سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے  طور پر نامزد   پشتون خوا عوامی  ملی پارٹی کے چئیرمین محمود خان اچکرزئی نے یہی دھمکی دی تھی ۔ آج سلمان اکرم راجہ نے کم و  بیش انہی الفاظ میں عوام کے سڑکوں پر نکل آنے کی بات دہرائی۔ تاہم اگر  پی ٹی یہ کام کرسکتی تو شاید اب تک نظام میں اس کی سیاسی پوزیشن  مخلتف ہوتی اور عمران خان کو بھی غیر  ضروری طور سے طویل مدت تک قید رکھنا آسان نہ ہوتا۔

یہ کہنا قبل از وقت اور غلط ہوگا کہ مستقبل قریب میں ایسی کوئی صورت حال پیدا نہیں ہوسکتی۔ عمران خان کی ذاتی مقبولیت کے بارے میں کسی کو شبہ نہیں ہے البتہ  تحریک انصاف کی تنظیمی  صلاحیت ،اس مقبولیت  کی بنیاد پرعوام کو گھروں سے باہر نکالنے کا مقصد  حاصل کرنےمیں کامیاب نہیں ہورہی۔ کیوں کہ  پہلے عمران خان کی رہائی اور اب ان سے ملاقات کے مقدمے سے عوام کا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ پارٹی قیادت کا سارا احتجاج ان دو نکات کے  گرد  گھومتا ہے جس کی وجہ  سے اس  کی عوامی اپیل  کم ہوتی ہے۔  علیمہ خان اور ان کی دوسری بہنوں کی طرف سے بھائی سے ملنے اور ان کی خیریت سے باخبر رہنے کی خواہش ضرور فطری ہے اور ان کی جد و جہد بھی حقیقی ہے۔ لیکن علیمہ خان  نے اپنی ذاتی حیثیت کو عمران خان کے سیاسی پیغام کے ساتھ نتھی کرلیا ہے۔ اس طرح  جب وہ بات کرتی ہیں تو  یہ نہیں لگتا کہ ایک بہن اپنے بھائی کے بارے میں پریشان ہے بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی سیاسی لیڈر انقلاب برپا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ملکی حالات ابھی ایسے کسی انقلاب کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ ایسے میں اگر علیمہ خان اور ان کی بہنیں عمران خان سے ملنے کی خواہش کو ذاتی حیثیت تک  محدود رکھتیں اور خود کو تحریک انصاف  کی قیادت کے متوازی لیڈر بنانے کی کوشش نہ کرتیں تو شاید ان کی باتیں انسانی سطح پر زیادہ قابل غور ہوتیں ۔ اور تحریک انصاف بھی تہ دل سے ان کی پشت پر کھڑی ہوتی۔ بدقسمتی سے علیمہ خان پی ٹی آئی میں تقسیم کا سبب بن رہی ہیں۔ اسی سے ان افواہوں کو ہوا ملتی ہے کہ عمران خان کو نکال کر  تحریک انصاف کا متبادل قائد بننے کی جد و جہد ہورہی ہے۔ ایک پارٹی کے اندر ایسی لڑائی سے اس پارٹی کے   شدید حامیوں کو بھی دلچسپی نہیں ہوسکتی۔

دوسری طرف  علیمہ خان اور تحریک انصاف کے لیڈر ایک طرف عمران خان سے ملاقات  کے قانونی اور اخلاقی پہلوؤں پر زور دیتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی دھمکی آمیز زبان استعمال کی جاتی ہے۔ حکومت نے عمران خان کی صحت کے بارے میں خبریں پھیلانے کی کوششوں کے بعد  2 دسمبر کو ان کی بہن عظمی خان کو مختصر ملاقات کی اجازت دی تھی۔ اس ملاقات کے بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے عظمی خان نے تصدیق کی تھی کہ عمران خان  تندرست و توانا ہیں لیکن وہ انتہائی غصے میں ہیں۔ انہیں ذہنی صدمہ  پہنچایا جارہا ہے۔  دیگر باتوں کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ ’ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان بار کے انتخابات میں سلمان اکرم راجہ اور حامد خان نے نامزد امیدواروں کی حمایت کی جائے۔ اور محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی  اور علامہ راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنوایا جائے‘۔  یہ پیغام سادہ ہونے کے باوجود نوعیت کے اعتبار سے سیاسی ہے۔ اس دوران حکومت نے یہی مؤقف اختیار کیا ہے کہ  عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں میں  سیاسی باتیں کی جاتی ہیں اور سیاسی پیغام باہر لایا جاتا ہے۔  ایک قیدی کو اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔  عظمی خان کی ذرا سی غیر محتاط   گفتگو نے عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی  کی مدت میں اضافہ کیا ہے۔

اس کے برعکس حکومت کا یہ مؤقف مضحکہ خیز ہے کہ عمران خان ملاقاتیوں سے سیاسی باتیں کرتے ہیں۔ ایک  سیاسی لیڈر  جو اپنی حراست کو بھی سیاسی انتقام سمجھتا ہو، سیاسی بات نہیں کرے گا تو کیا کہے گا۔  اس عذر کی بنیاد پر ملاقاتوں پر پابندی سیاسی اور اخلاقی طور سے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔  شہباز شریف کی حکومت صرف اس حد تک مستحکم ہے کیوں کہ اسے فوج کی مکمل اعانت حاصل ہے اور آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق عمران خان اس وقت فوج کے لیے ناقابل قبول ہے۔  حکومت   اس صورت حال کو اپنی سیاسی کامیابی سمجھنے یا اس کے تناظر میں خود کو مضبوط ماننے کی غلطی نہ کرے تو بہتر ہے۔  سیاسی معاملات میں کسی وقت کوئی بھی تبدیلی رونما ہوسکتی ہے۔ اپریل  2024 میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد سے پہلے کسے یقین تھا کہ  اسٹبلشمنٹ ایک بار پھر نواز شریف کی طرف رجوع کرنے پر  مجبورہوجائے گی۔  اسی طرح حکومت کو  عمران خان جیسے سیاسی لیڈر کی مقبولیت  کے بارے میں غلط اندازے قائم نہیں کرنے چاہئیں۔  وہ حقیقی طور سے عوام میں مقبول ہیں ۔ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کسی بھی وقت  ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ عقلمندی کا  تقاضا یہی ہوگا کہ ایسی صورت  پیدا کرنے کا سبب بننے  سے گریز کیا جائے۔

عمران خان سے ملاقاتوں کے بارے میں وزرا کے بیانات کے علاوہ  سرکاری طور پر کوئی معلومات  فراہم نہیں کی گئیں۔  نہ ہی کسی اعلیٰ حکومتی فورم پر اس معاملہ میں غور خوض کےبعد کسی اصولی فیصلہ کی تفصیل سامنے  آئی ہے۔  یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ وزیر اعظم لاپرواہی سے اسے  نظرانداز کرتے رہیں۔ اصولی طور سے انہیں اس معاملہ کو ایک سیاست دان اور اپنے پیشرو کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے طور پر دیکھنا چاہئے اور اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے۔ علیمہ خان اور تحریک انصاف، عمران خان سے ملاقاتوں کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے مارچ میں جاری ہونے والے ایک حکم کا حوالہ  دیتی ہیں جس  کے تحت ہر منگل اور جمعرات کو عمران خان سے اہل خاندان اور وکلا کی ملاقاتیں کرانا ضروری ہے۔ حکومت اگر اس فیصلے کو غلط سمجھتی ہے تو اسے تحریری طور پر اپنی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرانی چاہئے اور ان وجوہات کا حوالہ دینا چاہئے جن کے تحت عمران خان سے ملاقاتوں سے کوئی قومی مسئلہ پیدا ہوجائے گا۔ حالانکہ زمینی حقائق یہ اشارے دے رہے  ہیں کہ اس معاملے میں حکومت کی ہٹ دھرمی کسی اچانک اور خطرناک بحران کا سبب نہ بن جائے۔

حکومت کو عمران خان سے ملاقاتوں کے بارے میں اپنی پوزیشن تبدیل کرنی چاہئے۔ چند بااختیار لوگوں کو تحریک انصاف اور عمران خان کی بہنوں سے مل کر کسی نتیجے تک پہنچنا چاہئے۔ حکومت کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ تحریک انصاف اس وقت  صرف ملاقات کا مطالبہ کررہی ہے۔ اسے پیچیدہ اور مشکل بنانے کی بجائے، اس کا کوئی حل نکال کر ملکی سیاست میں باہمی احترام کی روایت قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔