افغان طالبان کے امیر نئی ہدایات اور اختلافات کی افوہیں
افغان طالبان کے سربراہ اور ’رہبرِ اعلی‘ ہبت اللہ اخوندزادہ نے طالبان قیادت کے اندر اختلافات سے متعلق تازہ قیاس آرائیوں کے پس منظر میں حکام کو ’غیر ضروری اور لاحاصل معاملات‘ میں الجھنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اس بارے میں رہبر اعلیٰ کا ایک بیان افغان طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق ہبت اللہ اخوندزادہ نے قندھار میں منعقد ایک سیمینار کے دوران اس بارے میں گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ’جب کسی کو کوئی ذمہ داری تفویض کی جائے تو اسے اپنے اختیارات اور فرائض کا ادراک بخوبی ہونا چاہئے‘۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ ’آپس میں جھگڑے سے گریز کریں، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں اور اسلام کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔‘
ہبت اللہ اخوندزادہ نے مزید کہا کہ فیصلوں اور امورِ کار کی انجام دہی میں شریعت کو ترجیح دی جائے، خود کو شریعت سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔ ایک دوسرے کو سچائی اور صبر کی تلقین کریں‘۔ غفلت اور غیر ضروری امور میں وقت ضائع نہ کیا جائے۔
نائب ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ سیمینار میں شریک ’علما اور حکام نے ایک بار پھر امیر المومنین (ہبت اللہ) کے ساتھ اپنی بیعت کی تجدید کی اور انہیں یقین دہانی کروائی کہ وہ شریعت پر مبنی نظام کی حمایت اور حفاظت جاری رکھیں گے۔‘
ہبت اللہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل طالبان کے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے ایک خطاب میں ایسے جملے کہے تھے جنہیں مبصرین نے اخوندزادہ پر بالواسطہ تنقید قرار دیا تھا۔ أفغانستان کے صوبہ خوست کی جامع مسجد میں 12 دسمبر کو خطاب کرتے ہوئے سراج الدین حقانی نے کہا تھا کہ ’جب کوئی حکومت، جو عوام کے اعتماد اور محبت کی بنیاد پر قائم ہوئی ہو، خوف اور دہشت پھیلانا شروع کر دے اور اپنے ہی لوگوں کو ڈرائے اور دھمکائے، تو وہ حکومت نہیں رہتی۔‘
یاد رہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران متعدد افغان تجزیہ کاروں اور افغانستان کے حوالے سے رپورٹنگ کرنے والے میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ طالبان کے اندر ہبت اللہ اخوندزادہ کے دھڑے اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان طاقت کی کشمکش جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے افغان طالبان کے نائب وزیرِ داخلہ رحمت اللہ نجیب نے طالبان کے اندر اختلافات سے متعلق ’جھوٹی افواہوں‘ کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان کے ’دشمن‘ (ایسی افواہوں کے ذریعے) بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔