عمران خان کے بیٹے جنوری میں پاکستان آئیں گے

  • بدھ 17 / دسمبر / 2025

سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان کا کہنا ہے کہ ان کے والد کو جن حالات میں جیل میں رکھا گیا ہے کہ وہ انتہائی شرمناک ہے۔

بین الاقوامی نشریاتی ادارے سکائی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں قاسم کا کہنا ہے کہ ان کے والد کو پینے کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے جب کہ کھانے کا معیار بھی انتہائی خراب ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو اپنے ذاتی معالج تک رسائی حاصل نہیں۔

سلیمان کا دعویٰ ہے کہ ان کا والد کو اس کوٹھری میں رکھا گیا ہے جس میں سزائے موت کے قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔ اِن چھوٹی چھوٹی کوٹھریوں میں بمشکل دن کی روشنی آتی ہے اور اکثر بجلی بھی کاٹ دی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی تشدد سے متعلق خصوصی نمائندہ ایلس جِل ایڈورڈز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ 26 ستمبر 2023 کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کے بعد سے عمران خان کو مبینہ طور پر حد سے زیادہ قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جہاں انہیں دن میں 23 گھنٹے ان کے سیل میں رکھا جاتا ہے۔ بیرونی دنیا تک ان کی رسائی بھی انتہائی محدود ہے۔

اقوامِ متحدہ کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے تحت طویل یا غیر معینہ قید تنہائی ممنوع ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’بنا کسی تاخیر کے عمران خان کی قید تنہائی ختم کی جائے۔

حکومت عمران خان کے ساتھ کسی بھی قسم کے ناروا سلوک کی تردید کرتی آئی ہے۔ حکومتی نمائندوں کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ عمران خان کو جیل میں دوسرے قیدیوں کی نسبت کہیں زیادہ سہولتیں دستیاب ہیں۔

بدھ کی صبح نشر ہونے والے انٹرویو میں لندن میں مقیم قاسم اور سلیمان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے عمران خان سے ملاقات کے لیے پاکستانی حکومت سے رابطہ کیا ہے؟ اینکر یلدا حکیم نے یہ بھی یاد دلایا کہ اس سے قبل وہ کہہ چکے تھے کہ انہیں ’پاکستان نہ آنے کی وارننگ دی گئی تھی‘ حالانکہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انہیں ’خوش آمدید کہتے ہیں اور وہ عمران خان سے ملاقات کر سکتے ہیں‘۔

اس پر قاسم نے کہا کہ ’اب ہم نے منصوبہ بنا لیا ہے کیونکہ انہوں نے یہ بات کھلے عام کہی ہے۔ لہٰذا اگر وہ اپنے الفاظ سے پیچھے نہ ہٹے تو ہمیں امید ہے کہ ہم جنوری میں جا سکیں گے۔ ہم نے ویزا کے لیے درخواست دے دی ہے۔ ابھی ویزا نہیں آیا مگر ہمیں امید ہے کہ آ جائے گا، اسی لیے ہم جنوری کے سفر کی تیاری کر رہے ہیں‘۔

یلدا نے ان سے پوچھا کہ وہ عمران خان سے مل کر کیا کہیں گے اور کیا وہ ان سے ’کوئی ڈیل کرنے‘ پر غور کرنے کا کہیں گے۔ یہ سوال بظاہر سابق وزیراعظم کی رہائی کے لیے عمران خان اور پاکستان کے حکمرانوں کے درمیان ممکنہ مفاہمت کے حوالے سے تھا۔ اس پر قاسم نے وضاحت کی کہ ’آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ ان کی زندگی ہے، یہ ان کا جنون اور مقصد ہے، وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنا ان کی زندگی کا مقصد ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا اگر وہ کوئی ڈیل کر کے ہمارے پاس آ جائیں اور انگلینڈ میں رہنے لگیں تو مجھے معلوم ہے کہ ان کے دل میں یہ احساس رہے گا کہ انہوں نے اپنے ملک کو اس کے حال پر چھوڑ دیا اور سچ کہوں تو وہ افسردہ ہو جائیں گے۔ یہی ان کا مقصد ہے، اور اگرچہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے والد یہاں ہمارے کرکٹ یا فٹبال میچ دیکھیں مگر ان کا مقصد اس سے کہیں بڑا ہے۔ اس کا صرف احترام ہی کیا جا سکتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ عمران خان کو اور کیا پیغام دینا چاہیں گے تو قاسم نے کہا کہ ’میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ہم انہیں کیسے باہر نکال سکتے ہیں۔ ہم کس طرح مدد کر سکتے ہیں، کیونکہ اس وقت ہم خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں۔ بہت سی باتیں ہیں جن پر گفتگو ہونی ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ جب بھی عمران خان سے بات ہوتی ہے تو وہ اپنی حالت کے بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ قاسم خان کے مطابق عمران خان کہتے ہیں، ’ارے، میری فکر نہ کرو، سب کیسے ہیں؟‘ اور وہ ان کی نانی لیڈی اینابیل گولڈ اسمتھ کے بارے میں بھی پوچھتے ہیں۔ قاسم خان نے مزید کہا، ’ہم ان سے اس وقت سے بات نہیں کر سکے جب چند ماہ قبل ان کا انتقال ہوا۔ میں اس بارے میں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ وہ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد لیڈی اینابیل کو اپنی ماں کہتے تھے اور ان کا رشتہ بہت قریبی تھا‘۔

جب جیل میں عمران خان کی حالت کے بارے میں پوچھا گیا تو قاسم نے کہا کہ حالات خراب نہیں، بلکہ نہایت خوفناک ہیں۔ سلیمان خان نے کہا کہ جس سیل میں عمران خان کو رکھا گیا ہے، اسے ’ڈیتھ سیل‘ قرار دیا گیا ہے۔ ’وہاں بمشکل روشنی ہوتی ہے، کبھی بجلی بند کر دی جاتی ہے، پانی گندا ہے، یہ مکمل طور پر غیر معیاری حالات ہیں جو کسی بھی قیدی کے لیے بین الاقوامی قوانین پر پورا نہیں اترتے‘۔

سوشل میڈیا پر عمران خان کی موت سے متعلق افواہوں کے بارے میں پوچھے جانے پر سلیمان نے کہا کہ یہ تجربہ ’انتہائی ذہنی دباؤ‘ کا باعث تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں فوراً اپنے خاندانی گروپ چیٹ پر گیا کیونکہ یہی پاکستان میں ہمارے لیے واحد قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔ قاسم نے کہا کہ ایسی افواہیں دیکھنا ’جھنجھوڑ دینے والا‘ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ آپ کو آپ کی روزمرہ زندگی سے اچانک باہر کھینچ لاتا ہے، خاص طور پر جب ہم یہاں بیٹھ کر خود کو بالکل بے بس محسوس کرتے ہیں۔ انٹرویو میں یلدا حکیم نے عمران خان کی بہن عظمیٰ خانم کا بھی ذکر کیا جنہیں دسمبر کے آغاز میں کئی ہفتوں بعد جیل میں ملاقات کی اجازت ملی تھی۔ اس ملاقات کے بعد عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر فوجی قیادت کے خلاف ایک پوسٹ سامنے آئی، جسے جیل سے ان کا پیغام قرار دیا گیا اور اس پر آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سخت پریس بریفنگ دی۔

فوجی ترجمان نے اس بریفنگ میں قید سابق وزیراعظم پر غیر معمولی سخت تنقید کی۔ جب قاسم اور سلیمان سے پوچھا گیا کہ ملاقات کے بعد عظمیٰ خانم نے کیا بتایا تو سلیمان نے کہا کہ انہوں نے یقین دلایا کہ عمران خان خیریت سے ہیں مگر جیل کی صورتحال پر شدید غصے میں ہیں۔

سلیمان کے مطابق ’انہوں نے غالباً عظمیٰ خانم کے ذریعے ایک ٹویٹ (ایکس پر پوسٹ) ڈکٹیٹ کی اور میرا خیال ہے کہ اسی ٹویٹ کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ردعمل آیا اور انہیں مکمل طور پر تنہا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘۔