کافر کون؟

تکفیریت کے اس دور میں ہر کوئی جس پر چاہے کفر کا فتویٰ لگا کر اس کا جینا حرام کر دیتا ہے۔ سلطنتِ پاکستان میں یہ رویہ تکلیف دہ حد تک عام ہے۔ اس نے نوجوانوں، دانشوروں، اساتذہ، طالبعلموں، ادباء، شعرا حتیٰ کہ علما سے بھی تنقیدی فکر اور تخلیقی سوچ کو چھین لیا ہے۔

ساری قوم اس خوف میں ہے کہ کوئی اس پر کفر کا ٹھپہ نہ لگا دے۔ اس خوف نے قوم کوفکری طور پر بانجھ کر دیا ہے۔ اسلام میں کفر  اور کافر دو اہم اصطلاحات ہیں۔ اور ان کے استعمال سے معاشرتی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں، اور یہ شرعی اعتبار سے بھی انتہائی نازک اور حساس اصطلاحات ہیں۔

قرآن کریم اپنے دورِ نزول کے دوران کچھ لوگوں اور کچھ گروہوں کو کافر کا خطاب دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا آج بھی کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو کافر قرار دے سکتا ہے؟ یہ سوال پاکستان کے تناظر میں تو اہم ہے ہی، یہ مغربی دنیا کے کئی ملین مسلمانوں کے لیے انتہائی اہم ہے جو غیر مسلموں کے عین درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستانی دانشور جاوید احمد غامدی کا موقف ہے کہ کفر کے اطلاق کا فیصلہ صرف اللہ کی ذات، اپنے انبیا کے ذریعے ان کی مخاطب اقوام کو سچ اور حق کا پیغام پہنچانے پر استوار کرتی ہے۔ جب انبیا اپنی قوم تک پیغامِ الٰہی واضح اور مدلل انداز میں پہنچا دیں، مخاطب پیغام کو اچھی طرح سمجھ لیں اور اس کے باوجود وہ پیغام اور پیغام بر، دونوں کو رد کر دیں تو اللہ انہیں کافر قرار دیتا ہے۔ انتہائی سادگی سے اگر بیان کیا جائے تو غامدی صاحب کا استدلال یہ ہے: ۱) اللہ کی ذات انسانوں کو اپنے پیمبروں کے ذریعے واضح اور مدلل پیغام پہنچاتی ہے- ۲) اور اگر لوگ اس پیغام اور پیمبر کو رد کر دیں تو اللہ ان کو کافر قرار دیتا ہے۔ ۳) فقط اور خالص اللہ کی ذات کسی کو کافر قرار دے سکتی ہے۔

یہاں سے غامدی صاحب کا استدلال یہ ہے کہ چونکہ اب دنیا میں کوئی رسول نہ ہے نہ کبھی آئندہ آئے گا۔ لہٰذا اللہ کی اس مخصوص سنت اور نئے سرے سے اتمامِ حجت کا راستہ ختم النبین ﷺ کے وصال کے ساتھ بند ہو گیا۔ اب قیامت تک کوئی انسان کافر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کو مزید واضح کریں تو (میری تفہیم کے مطابق) غامدی صاحب کا موقف ہےکہ  کسی غیر مسلم کو بھی قیامت تک کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ زیادہ سے زیادہ کسی ایسے شخص کو جو اپنے آپ کو مسلم نہیں مانتا، آپ غیر مسلم کہہ سکتے ہیں، وہ بھی صرف شناخت کے لیے، نہ کہ عقیدہ کی برتری قائم کر نے کےلیے۔

اپنے ایک مضمون میں غامدی صاحب یہ استدلال بھی کرتے ہیں  کہ کسی ایسے شخص کو کوئی فرد یا ادارہ کافر نہیں قرار دے سکتا جو اپنے آپ کو مسلمان مانتا ہو۔ ان کا موقف ہے کسی شخص کے دل کے اندر کیا ہے، یہ صرف ذاتِ باری تعالیٰ ہی جانتی ہے۔ اس کے دل کے اندر کتنا ایمان ہے، اس کا اصل علم صرف اس فرد اور اس کے پروردگار کے مابین ہے۔ انسان کسی دوسرے انسان کے دل میں جھانکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس لیے انسانوں کے لیے یہ جاننا ناممکن ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے والا شخص ایمان کے کس درجے یا دائرہ میں ہے۔

عام طور پر ہمارے ہاں بہت سے ایسے لوگوں کو کافر کہنا عام سا ہو گیا ہے جن کی قرآن یا حدیث کے تفسیر سے ہمارا اختلاف ہو۔ مثلاً شیعہ مذہب کے ماننے والوں کو بہت سے سنی، کافر کہتے ہیں، حالانکہ شیعہ اپنے مسلمان ہونے کی دلیل قرآن اور حدیث سے لاتے ہیں۔ اسی طرح سنیوں کے اندر بہت سے لوگ اپنی فہم کے بنا پر کافر قرار پائے ہیں۔ غامدی فکر کے مطابق کسی فرد کی قرآن کی کسی سورۃ کے ترجمہ یا تفسیر کی بنا پر اسے کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسے فقط علمی اختلاف ماننا ہو گا۔ اس کے لیے وہ علامہ اقبال کی مثال دیتے جو جنت اور جہنم کو ایک مقام کے بجائے ایک کیفیت قرار دیتے ہیں۔ ایک اور مثال وحدت الوجود کا فلسفہ ہے، جس پر مسلمانوں میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن غامدی فکر کے مطابق ایسی افکار کو زیادہ سے زیادہ قرآن کی غلط تفسیر قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اس کی بنا پر اہلِ تفسیر کو کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس فکر میں مجھے دو باتیں ملتی ہیں: اول یہ کہ غامدی صاحب کی تفسیر ی فکر کو اپنانے سے پاکستان کے لوگ “کافر، کافر” کے اس خونی کھیل سے نکل آئیں گے جس نے ان کو خوف اور دہشت کے جال میں جکڑ لیا ہے۔ حالت یہ ہے کہ میں نے پاکستان میں مساجد کے اندر آتشیں اسلحے سے لیس لوگوں کو امام مسجد کی حفاظت کرتے دیکھا ہے۔ جب غور کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امام مسجد، خطیب یا عالم کی کسی دینی شرح کو (کیونکہ دینی عالم یہی تو کرتا ہے) کوئی دوسرا فرد یا گروہ اتنا غلط سمجھتا ہے کہ اسے واجب القتل سمجھتاہے۔

ہم نے پاکستان میں متشدد تنظیموں کے ہاتھوں مسلمانوں کا خون صرف اس لیے بہتے دیکھا ہے کہ وہ دوسروں کی نظر میں کافر قرار پائے۔ ہم نے اساتذہ، قلم کاروں اور دانشوروں کو اس فتویٰ کی زد میں آتے دیکھا۔ میں پاکستان میں اساتذہ سے ملا ہوں جو کفر کے فتویٰ کے خوف سے کمرہ جماعت میں بات کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اس اجتماعی خوف اور اس کے نتیجے میں قوم کی تخلیقی قوتیں گھُٹ کا مر رہی ہیں۔

اگر ہم افراد سے کفر کے فتویٰ کو اللہ کی جانب منسوب کر دیں، تو انسانوں کے پاس سوائے اس کے کوئی اختیار نہیں رہ جاتا کہ وہ زیادہ سے زیادہ کسی شخص کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار کریں۔ اس کے لیے ہمیں کفر کا فتویٰ دینے کا حق اللہ کی ذات کو لوٹانا ہو گا جو دلوں کا حل جانتی ہے۔ اس سے امن کا راستہ نکلے گا۔

دوئم، لاکھوں مسلمان مغرب میں رہتے ہیں جہاں ہمارے دوست، عزیز، ہمسائے، رفقائے کار غیر مسلم ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ پچھلے چند سالوں میں تُند مزاج لوگوں نے لفظ “کافر” کو غیر مسلموں کے لیے ایک گالی کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس لفظ میں توہین اور ہتک، حتیٰ کہ کراہت تک بھر دی گئی ہے۔ ہم نے ایسے رویے سکول جانے والے کمسن بچوں تک میں دیکھے ہیں۔ ایسے رویوں سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین فاصلے بڑھے ہیں۔ اب اگر یہ طے ہے کہ “کافر” کا لفظ اور اس کی سند کا اجرا مومن کے اختیار ہی میں نہیں، تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم اس کے استعمال سے قطعاً گریز کریں؟ اس طرح ہر قسم کی غلطی اور غلط فہمی کا احتمال باطل ہو سکتا ہے۔ اللہ دلوں کے حال بہتر جانتا ہے۔