یہود و ہنود سے نفرت: ہمیں کیا حاصل ہوگا؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 17 / دسمبر / 2025
آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بونڈائی ساحل پر یہودیوں کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کے سانحہ میں ملوث انڈین شہری ساجد اکرم اور اس کے بیٹے نوید اکرم کے عالمی دہشت گرد نیٹ ورک سے تعلقات کی تحقیقات ہورہی ہیں۔
انڈین پولیس کے مطابق ساجد اکرم کا تعلق انڈین ریاست تلنگانا کے شہر حیدرآباد دکن سے تھا اور وہ ستائیس برس قبل سٹڈی ویزے پر آسٹریلیا منتقل ہوا تھا تاکہ اسے بہتر زندگی مل سکے۔ اتنے طویل برسوں میں وہ محض چھ مرتبہ اپنے خاندان سے ملنے آیا حتیٰ کہ اپنے باپ کے مرنے پر بھی نہیں آیا۔ اس لیے خاندان کو اس کے انتہا پسندانہ نظریات کا کوئی علم نہیں تھا۔
آسٹریلوی پرائم منسٹر انتھونی البانیز کا کہنا ہے کہ ایسے ٹھوس شواہد ملے ہیں جن کے مطابق دونوں باپ بیٹا داعش (آئی ایس آئی ایس) کے نظریات سے متاثر ہوکر مذہبی انتہا پسند بنے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم سڈنی میں یہود پر اس ٹیرراٹیک کو آسٹریلیا اور آسٹریلیا کی قومی یکجہتی پر حملہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے سڈنی سانحہ کے بعد آسٹریلیا میں یہود دشمنی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ٹاسک فورس قائم کردی گئی ہے۔ اسرائیل کی خصوصی سپورٹ ٹیم بھی منگل کو سڈنی پہنچ گئی ہے جو تحقیقاتی پراسس پر نظر رکھتے ہوئے آسٹریلوی حکام اور یہودی کمیونٹی کی معاونت و مدد کرے گی۔
آسٹریلوی تحقیقاتی ذرائع کے مطابق دونوں انتہا پسندوں نے نومبر کا مہینہ فلپائن میں گزارا تھا جہاں انہوں نے داعش سے منسلک شدت پسندوں سے اس نوع کے ٹیررحملوں کی تربیت حاصل کی تھی۔ اس سلسلے میں وہ کن مقامات پر رہے، اس کی تفصیلات معلوم کی جارہی ہیں۔ البتہ فلپائنی ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ساجد اکرم نے انڈین اور نوید اکرم نے آسٹریلوی پاسپورٹ پر یہ سفر کیا تھا۔ فلپائن کے مخصوص خطوں میں مسلم شدت پسندوں کا اثر رسوخ سب کو معلوم ہے۔
واضح رہے کہ 14دسمبر کی شام سڈنی کے بونڈائی بیچ پر ان دو مسلم شدت پسندوں نے ہزار کے قریب یہود پر اس وقت براہ راست فائرنگ شروع کردی جب وہ اپنے تہوارحنوکا کی تقریب میں مصروف تھے۔ اس حملے میں جہاں پندرہ یہودی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، وہیں بیالیس کے قریب زخمی ہوکر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ جب یہ حملہ جاری تھا عین اس وقت ایک شامی نژاد آسٹریلوی شہری احمد الاحمد نے اپنی جان کا رسک لیتے ہوئے ساجد اکرم نامی حملہ آور کو دبوچ لیا اور اس سے گن چھین لی۔ جو بعدازں آسٹریلوی سیکیورٹی فورسز کی گولی سے مارا گیا۔ جبکہ اس کے بیٹے نوید اکرم کی فائرنگ سے دہشت گرد کو دبوچنے والا احمد زخمی ہوگیا۔ لیکن اسے گھائل کرنے والا نوید اکرم بھی آسٹریلوی سیکیورٹی والوں کی گولیوں سے زخمی ہوکر پکڑا گیا۔
تحقیقاتی حوالے سے یہ پہلو خوشگوار ہے کہ ایک ملزم زندہ پکڑا گیا ہے اور وہ اب ہوش میں آچکا ہے جس سے اس کے داعش سے تعلقات اور پلاننگ کی تفصیلات سامنے آجائیں گی۔ سڈنی کے بہادر عرب ہیرو احمد الاحمدبھی تیزی سے روبصحت ہیں جن کی امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ اور اسرائیلی پرائم منسٹر بنجمن نیتن یاہو سمیت پوری دنیا کے امن و سلامتی اور انسانیت پر یقین رکھنے والے لوگ نہ صرف تحسین کررہے ہیں بلکہ اس کارنامے پر مختلف لوگ اپنی طرف سے انعامات کے اعلانات بھی کررہے ہیں۔ اس نڈر بہادر انسان نے عین موقع پر فوری فیصلہ کرتے ہوئے اپنے دوست سے کہا کہ میں اس دہشت گرد کو قابو کرتے ہوئے اگر مارا جاؤں تو میری معصوم بچیوں کا خیال رکھنا۔ اس کے عزیزوں کا کہنا ہے کہ احمد فطرتاً ہی ایسا نیک دل انسان ہے کہ کہیں بھی کوئی زیادتی ہو وہ مظلوم کی حمایت کرتا ہے۔
تصور کیاجاسکتا ہے کہ اگر یہ جرأت مند انسان عین موقع پر ہمت نہ دکھاتا تو دونوں باپ بیٹا جس بربریت سے نہتے اور معصوم انسانوں پر اندھا دھند فائرنگ کررہے تھے، یہ اموات کس قدر بڑھ سکتی تھیں۔ آج بشمول آسٹریلیا، یورپ اور مڈل ایسٹ ہمارے ملک پاکستان میں بھی جس طرح احمد الاحمد کی بہادری کے گیت گائے جارہے ہیں۔ اس پس منظر میں درویش کی حکومتِ پاکستان کو تجویز ہے کہ اس سچے کھڑے بہادر انسان کی عزت افزائی کو ایک مثال بناتے ہوئے اس کے لیے نشانِ پاکستان کا اعلان کیاجائے۔ اس سے پاکستانیوں کا سافٹ امیج پوری دنیا میں اُجاگر ہوگا۔ جس طرح آسٹریلوی پرائم منسٹر نے اس قومی ہیرو سے ملاقات کرتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ دیگر مسلم حکومتوں کو بھی اسے آئیڈیالائیز کرنا چاہیے تاکہ ہمارے اوپر وارد ہونے والا یہ تاثر ٹوٹے کہ ہم دہشت گردوں کی سرپرستی کرتے ہیں یا انہیں پالتے پوستے ہیں۔
سچائی تو یہ ہے کہ ہمارے سابقہ ریکارڈ کی روشنی میں یہ عالمی تاثر اتنا غلط بھی نہیں ہے۔ اسی لیے دنیا نے ابتداً یہی سمجھا کہ ان دہشت گردوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ اس سلسلے میں پاکستانی اور انڈین میڈیا میں ایک نوع کی سرد جنگ شروع ہوگئی جس کی کسی طرح بھی تحسین نہیں کی جا سکتی۔ ایک طرف ہم دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ دہشت گردی کا کوئی ملک کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ دوسری طرف ہم خوش ہورہے ہیں کہ وہ پاکستانی نہیں انڈین مسلمان تھا۔ ٹھیک ہے وہ گمراہ پاکستانی نہیں تھا مگر مسلمان تو بہرحال تھا۔ انڈین مسلمان تو پہلے ہی اس حوالے سے رگیدے جارہے ہیں۔ اب جب یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اس عالمی ٹیررسٹ کی روٹس انڈین حیدرآباد دکن کے مسلمان گھرانے سے ہیں تو یہ انڈین مسلمانوں کے لیے عزت افزائی کا نہیں، مزید مسائل کا باعث بنے گا۔ انڈین حکومت حق بجانب ہوگی کہ وہ اپنی مسلم کمیونٹی کو کنٹرول کرنے کے لیے مزید اقدامات اٹھائے۔
ہم خوش ہیں کہ یہ دہشت گرد پاکستانی نہیں تھا لیکن کیا ہم اس امر سے انکار کرسکتے ہیں کہ ہماری صفوں میں اس نوع کے ”شاہکار”موجود نہیں ہیں؟ اجمل قصاب سے شروع ہوجائیں کشمیر ہی نہیں مڈل ایسٹ سے یورپ اور امریکا تک کتنی ایسی وارداتیں گنوائی جاسکتی ہیں جن کے وار داتیے ہماری ہی قوم کا حصہ ثابت ہوچکے ہیں۔ ہمارے نامی گرامی دہشت گرد گروہ اور تنظیمیں اس حوالے سے ’ماشا اللہ‘ عالمی پہچان کی حامل ہیں۔ زیادہ دور جانے کی کیا ضرورت ہے، آج ہمیں اپنی مغربی سرحدوں پر جو طالبانی فتنہ درپیش ہے، ان طالبانوں کو
پالنے پوسنے والے کیا ہمارے ہی جہادی مائنڈ سیٹ والے کرم فرما نہیں تھے؟
کیا آج بھی ہمارے اس ملک بدنصیب میں ایسے لاکھوں کروڑوں پاکستانی موجود نہیں ہیں جو یہود و ہنود کے خلاف ہونے والی ایسی کسی بھی دہشت گردی پر نہ صرف یہ کہ خوشی کا اظہا کرتے پائے جاتے ہیں بلکہ ایسے خونخوار حملوں کو جسٹیفائی کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہوتے ہیں۔ ہمارا سوشل میڈیا کیا ایسی غیر ذمہ دارانہ اپروچ اور پوسٹوں سے بھرا ہوا نہیں ملتا ہے؟ کیا ہمارے قومی میڈیا میں یہ یارا ہے کہ چونکہ چنانچہ کے تحفظات کی پرواہ کیے بغیر ایسےجنونی مائنڈ سیٹ کو توڑنے کے لیے جاندار سٹینڈ لے سکے۔
ہم میں سے کسی کو بھی کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ بلا تخصیص کسی بھی مذہب یا اس کے پیروکاران کے متعلق منافرت کا اظہار کرے یا اشتعال پھیلائے؟ ہمارے سماج میں ہیٹ سپیچ کے خلاف کتنے لوگوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے؟ یہاں مخصوص مذاہب کی جس طرح تضحیک کی جاتی ہے کیا وہ سب ہمارے طاقتوروں کو دکھائی نہیں دیتی ہے؟ کیوں اس کی بیخ کنی کے ٹھوس اقدامات سے گریز کیاجاتا ہے؟ کسے معلوم نہیں ہے کہ یہاں یہود و ہنود کے خلاف کس قدر منافرت ہے۔ جب اپنی بات آتی ہے تو ہم یہ استدلال کرتے نہیں تھکتے کہ کسی بھی قوم کے اگر کچھ لوگ گمراہ ہوجائیں یا غلط اقدامات اٹھائیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پوری قوم کو رگیدا جائے۔ آج سڈنی میں اگر دو گمراہ مسلمانوں نے یہود کے خلاف منافرت سے مغلوب ہوکر یہودی کمیونٹی کے اتنے زیادہ لوگوں کو خون میں نہلایا ہے کہ 7اکتوبر کے بعد یہود اسے اپنے خلاف ہونے والا سب سے بڑا حملہ قرار دے رہے ہیں، جس میں ہولوکاسٹ سے بچ جانے والا بزرگ بھی معصوم بچوں کے ساتھ مارا گیا ہے۔
ہم فخر سے کہتے ہیں کہ اگر دہشت گردی کی واردات کرنے والے مسلمان تھے تو انہیں دبوچنے والا بھی ایک شامی مسلمان ہی تھا۔ لہٰذا کسی بھی قوم کو بحیثیت مجموعی مطعون نہیں کیاجاسکتا۔ ہر قوم میں جہاں برے لوگ ہوتے ہیں وہاں انسانیت پر ایمان رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں ہوتی۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ غزہ پر ہونے والے حملوں کے خلاف سب سے بڑھ کر خود اسرائیل کے اندر سے یہود کی آوازیں اٹھی تھیں۔ انڈیا میں اگر کسی مسلمان سے زیادتی ہوتی ہے تو خود ہندو کمیونٹی سے اس کی حمایت میں لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس لیے اپنے نونہالوں کو حکومتی اور میڈیا کے ذرائع سے یہ ذہن نشین کروائیں کہ جتنی جلدی ہوسکے وہ یہود و ہنود کی منافرت بھری بیماری سے چھٹکارا پالیں۔ اس اپروچ کی وجہ سے پوری مہذب مغربی دنیا میں ہمارے لوگوں کیلیے مشکلات بڑھیں گی اور دروازے بند ہونے لگیں گے۔ سچائی یہ ہے کہ تمام انسانوں سے محبت کرنا ہی انسانیت ہے، باقی سب ملمع کاریاں ہیں۔