چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی پر بھارت سے وضاحت طلب

  • جمعرات 18 / دسمبر / 2025

پاکستان نے جمعرات کو دریائے چناب کے بہاؤ میں تبدیلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر وضاحت کے لیے بھارت کو خط لکھ دیا گیا ہے۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ میں دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے دریائے چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ گزشتہ ایک ہفتے سے خبروں میں ہے۔ اس ہفتے متعدد میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ بھارت نے دریائے چناب میں پانی چھوڑا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان ان تبدیلیوں کو انتہائی تشویش اور سنجیدگی سے دیکھتا ہے، یہ بھارت کی جانب سے بغیر پیشگی اطلاع دریائے چناب میں یکطرفہ طور پر پانی چھوڑنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے انڈس واٹر کمشنر نے سندھ طاس معاہدے میں درج طریقۂ کار کے مطابق بھارتی ہم منصب کو خط لکھ کر وضاحت طلب کی ہے۔

اندرابی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دریا کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ، خاص طور پر زرعی سائیکل کے ایک نازک مرحلے پر، براہِ راست ہمارے شہریوں کی زندگی، روزگار، غذائی تحفظ اور معاشی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت پاکستانی انڈس واٹر کمشنر کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے، دریا کے بہاؤ میں کسی بھی یکطرفہ مداخلت سے باز رہے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو لفظی اور عملی طور پر پورا کرے۔

ترجمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک ’پابند بین الاقوامی معاہدہ‘ ہے جو خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کا ذریعہ‘ رہا ہے۔ واضح رہے کہ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت مغرب کی جانب بہنے والے تین دریا سندھ، چناب اور جہلم پاکستان کو دیے گئے، جبکہ بھارت کو سندھ طاس کے تین مشرقی دریا ملے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ معاہدے کی خلاف ورزی بین الاقوامی معاہدات کے تقدس اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے خطرہ ہے اور اس سے علاقائی امن، حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کے ضوابط کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو بھارت کی جانب سے ایک دوطرفہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کا نوٹس لینا چاہیے اور بھارت کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے، بین الاقوامی قانون، تسلیم شدہ اصولوں اور اپنی ذمہ داریوں کے مطابق عمل کرنے کا مشورہ دینا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعات اور مسائل کے پُرامن حل کے لیے پرعزم ہے تاہم ہم اپنے عوام کے وجودی آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھا تھا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نئی دہلی نے بغیر ثبوت کے اس واقعے کا الزام اسلام آباد پر عائد کیا تھا۔ پاکستان نے معاہدے کے تحت اپنے حصے کے پانی کی معطلی کی کسی بھی کوشش کو ’اعلانِ جنگ‘ قرار دیا تھا اور واضح کیا تھا کہ معاہدے میں یکطرفہ معطلی کی کوئی گنجائش نہیں۔