اے اللہ میں حاضر ہوں : جب امی نے مجھے عمرہ کرایا
- تحریر رضی الدین رضی
- جمعرات 18 / دسمبر / 2025
یہ سال2009 ۔10 کی بات ہے جب امی جان نے عمرے کی خواہش ظاہر کی ۔۔ میں نے کہا امی اگر آ پ کہیں تو میں( چھوٹے بھائی ) عامر سے بات کر لیتا ہوں۔ وہ چونکہ پاک فوج میں ہے، اس لیے ممکن ہے اسے عمرے کے سفر کے لیے بہتر سہولتیں مل جائیں ۔ اس طرح آپ کا حج بھی آرام دہ ہو جائے گا ۔
لیکن امی نے صاف انکار کر دیا۔ کہنے لگیں ’تمہیں کیا مسئلہ ہے ؟ صاف کہہ دو کہ تم مجھے عمرہ نہیں کرانا چاہتے۔‘ میں نے چھٹی کا بہانہ کیا لیکن امی کا اصرار تھا کہ میں نے تمہارے ساتھ ہی عمرے پر جانا ہے۔ ان دنوں میرے مالی حالات بھی کوئی اتنے اچھے نہیں تھے لیکن میں نے عمرے کی تیاری شروع کر دی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب میں 1996 کی برطرفی کے بعد اے پی پی میں نیا نیا بحال ہوا تھا ۔ اور وسیب ٹی وی پر ٹاک شو بھی کرتا تھا۔ جبار مفتی صاحب کے بیٹے فہد مفتی نے ان دنوں ٹریول ایجنسی قائم کی تھی۔ پاسپورٹ آفس میں ایک سفارش ڈھونڈی اور چندروز میں پاسپورٹ بھی مل گیا۔
ان دنوں ابھی ڈیجیٹل زمانہ نہیں آیا تھا، اس لیے کام جلدی ہو جایا کرتے تھے۔ ہاں سرکاری ملازم کے لیے ایکس پاکستان لیو یعنی بیرون ملک سفر کی اجازت لینا بہر حال ایک مشکل کام تھا جو اے پی پی کے سٹیشن مینیجر اقبال مفکر صاحب نے آسان بنا دیا۔ مبارک سلامت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ 12اپریل کی شب میں رات گئے تک راشد نثار جعفری ، ارشد عباس ذکی اور دیگر دوستوں کے ساتھ پریس کلب میں بیٹھا رہا کہ اگلی صبح مجھے کراچی اور پھر وہاں سے جدہ روانہ ہونا تھا۔ اریٹیرین ایئر لائینز سے سفر کا مشورہ بھی فہد مفتی نے دیا تھا کہ اس کا روٹ تو لمبا تھا لیکن اس سے ہمیں بچت کافی ہو گئی۔
13 اپریل کو میں امی اور شبانہ کے ہمراہ ملتان سے کراچی روانہ ہوا کہ 16اپریل کو وہاں سے جدہ کے لیے ہماری پرواز تھی ۔ کراچی ایئرپورٹ پر ہماری دوست ناہید نانو قریشی پھولوں کے ہار لیے ہماری منتظر تھیں۔ ملیر کینٹ کے آرمی ریسٹ ہاؤس میں ہماری رہائش کا انتظام تھا۔ ان کے شوہر میجر جمال اور بچوں سے ملاقات ہوئی۔ ان کا بیٹا یوسف جمال ابھی میٹرک کر رہا تھا۔ بعد میں وہ پاک فوج کا حصہ بنا اور اب لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز ہے۔ کراچی سے روانہ ہوئے تو طیارہ براستہ دبئی ٹرانزٹ کے لیے اریٹیریا کی جانب روانہ ہو گیا۔۔
اریٹیریا بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع شمال مشرقی افریقا کا ایک ملک ہے جس کی ْآبادی گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 35 لاکھ تھی۔ اس کی سرحدیں جبوتی ، ایتھوپیا اور سوڈان سے ملتی ہیں۔ اریٹیریا کا نام سچ پوچھیں تو ہم نے ان دنوں پہلی بار سنا تھا۔ اور اس کے بعد بھی یہ نام کبھی خبروں یا کسی اور حوالے سے سننے میں نہیں آیا۔ ہاں البتہ سوڈان اور ایتھوپیا قحط سالی اور خانہ جنگی کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔ اسمارا ا نٹر نیشنل ائیر پورٹ پر ٹرانزٹ کے لیے پرواز اتری اور وہیں سے ہم نے پھر احرام باندھے ۔
امی ان دنوں چھڑی کے سہاے کچھ دور تک چل تو لیتی تھیں لیکن ان کے لیے زیادہ نقل و حرکت ممکن نہیں تھی۔ انہیں وہیل چیئر کے ذریعے جہاز تک لے جانا تھا۔ اس موقع پر پی آئی اے اہلکاروں نے جو رویہ اپنایا وہ بہت افسوس ناک تھا۔ وہیل چیئر کو ایک لفٹ کے ذریعے جہاز کے دروازے تک لے جانا ہوتا تھا۔ پھر امی اس سے اترنے کے بعد آہستہ آہستہ اپنی سیٹ تک آتی تھیں۔ اس دوران عملہ ’جلدی کریں۔ لیٹ ہو گئے ۔۔ آ بھی جائیں ‘ جیسی تکرار کرتا۔ سب مسافر ہماری طرف متوجہ ہوتے اور ہم خود کو مجرم محسوس کرنے لگتے۔ اسمارا ائیر پورٹ پر اترتے ہی ماحول تبدیل ہو گیا۔ ائیر پورٹ پر دو خواتین نے امی کو بہت عزت اور احترام کے ساتھ وہیل چیئر سمیت جہاز سے اتارا۔ وہاں ہمارا قیام دو گھنٹے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب آ پ انہیں ہمارے سپرد کر دیں۔ وہ انہیں واش روم بھی لے گئیں، انہیں چائے پلائی، کچھ کھانے کو بھی دیا اور بہت محبت کے ساتھ ان کی دیکھ بھال کرتی رہیں۔
اس کے بعد دوبارہ ہم جہاز میں بیٹھے اور اب ہم نے سیدھا جدہ پہنچنا تھا۔ جدہ ایئرپورٹ پر جب ہم اترے تو سعودی عرب کا عملہ اپنے درشت اور غیر انسانی روئیے کے ساتھ ہمارا منتظر تھا۔ سعودیوں نے بہت سخت لہجے میں باز پرس کی۔ وہیل چئیر کو قطار میں لگا دیا ، جب کہ اریٹیریا میں بورڈنگ سمیت ہر مرحلے پر وہیل چیئر کو قطار سے استثنی حاصل رہا۔ سعودیوں کا رویہ دیکھ کر امی کو اسمارا ائیرپورٹ کی میزبانوں کی یاد آ گئی۔ کہنے لگیں ’’ اریٹیریا والیاں کڑیاں تے بڑی چنگیاں سن۔۔ ایہہ تے گل ای نئیں سنڑدے ‘‘ ( اریٹیریا والی لڑکیاں تو بہت اچھی تھیں ، یہ تو بات ہی نہیں سنتے )۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ امی وہاں آ پ کے ساتھ جو انسانی رویہ اختیار کیا گی،ا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ غیر مسلم ملک تھا ۔ اب ہم مسلمان ملک میں آ گئے ہیں، لہذا اب ہمیں یہ سخت رویہ ہی برداشت کرنا پڑے گا۔
خیر یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ جدہ سے مکہ پہنچ کر ہمیں سب سے عمرہ ادا کرنا تھا۔ امی کو وہیل چیئر پر بٹھا کر میں مسجد الحرام میں داخل ہوا۔ جیسےہی مجھے خدا کا گھر نظر آ یا میں نے وہیل چئیر روک کر کہا ’امی جان وہ دیکھیں خانہ کعبہ ۔۔ میں آپ کو یہاں لے آیا ہوں ۔۔‘ انہوں نے مجھے بہت پیار کے ساتھ دیکھا، آنسو صاف کیے اور بولیں ’ جیوندا رہو بچیاں دیاں خوشیاں ویکھیں‘ (جیتے رہو بچوں کی خوشیاں دیکھو )۔ ان کی یہ دعا آخر وقت تک میرے حصے میں آئی اور اسی دعا کے طفیل میں بچوں کی خوشیاں بھی دیکھ رہا ہوں پھر ہم حرم شریف میں داخل ہو گئے۔ پھر سارا وقت میں نے انہیں وہیل چیئر پر ہی عمرہ کرایا ۔۔۔۔
ہم نے انہیں وہیل چیئر پر طواف بھی کرائے ۔ انہیں صفا اور مروا پر سعی بھی کرائی ۔ عمرے کے مراحل طے کرنے کے بعد ہم دو مئی کو ملتان واپس آ گئے۔ ملتان واپس آ نے کے بعد میری والدہ نے مبارک باد دینے والوں سے کہا تھا کہ میں اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ ہی عمرے پر جانا چاہتی تھی۔ آج سوچتا ہوں کہ2012 میں جب میں نے امی کو عمرہ کروایا تھا تو اس وقت وہ زیادہ ضعیف نہیں ہوئی تھیں ۔ وہاں انہوں نے نوافل بھی پڑھے ، نمازیں بھی پڑھیں ۔ حجر اسود کا بوسہ بھی لیا ۔ مسجد نبوی میں روضے کی جالی کو ہاتھ بھی لگایا ۔۔۔ ممکن ہے بعد کے برسوں میں ان کے لیے یہ سفر کرنا ممکن ہی نہ ہوتا اور مجھے یہ اطمینان ہے کہ میں نے اپنی والدہ کی دیرینہ خواہش پوری کی۔ انہیں خدا کا گھر دکھانے کا اعزاز میرے حصے میں آیا ۔
کہنے کو تو انہیں میں نے عمرہ کرایا لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ عمرہ مجھے میری ماں نے کرایا تھا۔ میں نے انہیں خانہ کعبہ دکھاتے ہوئے کہا تھا ’امی دیکھیں میں آ پ کو خدا کے گھر لے آ یا ہوں‘ ۔ اب تو وہ خود خدا کے حضور پیش ہو چکی ہیں۔۔ انہوں نے وہاں پہنچ کر لبیک اللھم لبیک کہنے کے بعد یہ بھی نہیں پوچھا ہو گا کہ اللہ میاں آپ نے میری قسمت ایسی کیوں بنائی تھی؟ وہ تو ہمیشہ اس کی رضا پر راضی رہنے والی تھیں۔ ہاں میرے والد صاحب انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے ہوں گے ۔۔۔ 57 برس کی جدائی ختم ہوئی۔ امی کی آنکھوں میں اب خوشی کے آنسو ہوں گے۔ یہی اطمینان کی بات ہے ۔
(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)