9 مئی کا بھوت

تحریک انصاف کے چار لیڈروں کو 9 مئی سے متعلق ایک  اور مقدمے میں دس دس سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ ماضی کے فیصلوں کے مطابق اس بار بھی شاہ محمود قریشی الزامات سے بری قرار پائے ہیں۔   یوں لگتا ہے کہ  سانحہ9 مئی کسی بھوت کی طرح ملک کو چمٹ گیا ہے  اور کوئی عمل یا طریقہ اس سے نجات پانے میں کامیاب نہیں ہورہا۔  تصادم کی کے اس ماحول نے ملکی  نظام کو پوری طرح جکڑ رکھا ہے۔

بدقسمتی سے جس حکومت کو اس مشکل مرحلے میں قوم کی قیادت کرکے  رہنمائی کا فریضہ ادا کرنا چاہئے تھا، وہ خود خاموش تماشائی بنی ہوئی  ہے یا ایسے مقدمات میں سزائیں دلانے میں فریق  ہے۔ ایسی  ایک سزا کا اعلان ہونے کے بعد وزرا قطا ر اندر قطار ایک ہی راگ الاپنا شروع کردیتے ہیں۔ ’ایکس‘ پر تبصرے ہوں یا  ٹاک شوز میں گفتگو  ، یہ ثابت کرنے کے لیے پورا زور لگایا جاتا ہے کہ عدالتی فیصلہ کو  ان کے سیاسی مؤقف کی تائد مانا جائے ۔ البتہ  ایسے کسی نابغہ کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہوتا کہ  اگر یہ سارے عدالتی فیصلے درست بھی ہوں تو بھی آخر محض  ایک دن رونما ہونے والے واقعات پر گرفتاریوں اور سزائیں دینے کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ کیا اس کام کے لیے کوئی ٹائم  فریم مقرر کیاجاسکتا  ہے؟

لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے نو مئی کے ایک اور  مقدمے میں تحریک انصاف کے رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ملزمان کے خلاف نو مئی کو سرکاری افسران کی رہائش گاہ جی او آر کے گیٹ پر توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج ہے۔ شاہ محمود قریشی کو اس مقدمے سے بری کر دیا گیا ہے۔  یہ فیصلہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج منظر علی گل نے سنایا۔ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ،  محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو پانچویں بار سانحہ 9 مئی سے متعلق کسی معاملہ میں سزا  سنائی گئی ہے۔ اس سے پہلے ان پانچوں کو شادمان پولیس اسٹیشن پر حملے، شیرپاؤ پل پر تشدد، راحت بیکری کے نزدیک پولیس گاڑی  نذر آتش کرنے اور سپریم کورٹ کے ایک جج کے اسکاڈ کی ایک گاڑی جلانے کے الزامات میں علیحدہ علیحدہ سزائیں دی جاچکی ہیں۔   

جیل میں ہونے والی عدالتی کارراوئی کے بارے میں زیادہ معلومات سامنے نہیں آتیں لیکن عام طور سے یہ سوال ضرور ذہن میں آتا ہے کہ کیالاہور میں تحریک انصاف کے تمام نمایاں لیڈر 9 مئی والے دن صرف اسی مقصد سے گھروں سے نکلے تھے کہ انہوں نے ایک کے بعد دوسری جگہ دنگا فساد کرنا ہے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر ان ’ شرپسند عناصر‘ کو ان کی تخریب کاری پر سزا دینا ضروری ہے تو کسی عدالت کو  شہر میں تعینات پولیس افسروں اور انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں  سے بھی جواب طلب کرنا چاہئے  کہ اس توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے دوران  پولیس کہاں تھی۔ کیا  لاہور پولیس نے  تخریبی کارروائی کی کسی کوشش کو ناکام بنانے کی کوشش بھی کی؟

یہ دلیل دینا درست نہیں ہوگا کہ کسی سیاسی لیڈر یا پارٹی کی عوامی مقبولیت یا ووٹوں کی تعداد کی وجہ سے  ان کے گناہوں کو نظر انداز کردیا جائے اور سب معمول کے مطابق ہے کہہ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے۔ بلکہ اصول تو یہ ہونا چاہئے کہ جو لیڈر جتنا زیادہ مقبول اور طاقت ور ہے، قانون کے سامنے اس سے اتنی ہی سختی سے باز پرس کی جائے تاکہ کسی شخص کو قانون شکنی کا حوصلہ نہ ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ جب ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی ہو جنہیں معاشرے میں سیاسی اہمیت حاصل ہے تو ان کے خلاف  عدالتی کارروائی شفاف ہو، الزامات  کے ثبوت ٹھوس  اور کسی شک و شبہ سے  بالا ہوں اور عدالت کی خود مختاری اور غیر جانبداری کے بارے میں کوئی سوال نہ اٹھا سکے۔ جب حکومت ایسے حالات پیدا کرنے میں ناکام رہے اور ایسے مقدمات میں ملزموں کو سزائیں دلائی جائیں جن کے بارے میں عام تاثر ہو کہ یہ سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے تو اسے عدالتی نظام اور حکومت وقت  کی ناکامی ہی سمجھا جائے گا۔

9 مئی  2023 کو ہونے والے واقعات کے بارے میں الزامات اور درج ہونے والے مقدمات  کے حوالے سے یہ شبہات قوی ہوتے ہیں۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ ایک روز جوبھی تشدد یا لاقانونیت  ہوئی، اس  کا مکمل جائزہ لے کر ان میں ملوث افرد  پر الزامات عائد ہوں اور ایک ہی عدالت میں ان تمام الزامات کے بارے میں شواہد پیش کرکے  فیصلے لیے  جائیں۔ اس طرح ملزموں کو بھی ناانصافی کی دہائی دینے کا موقع نہیں ملے گا اور حکومت بھی یہ یقینی بنا سکے گی کہ اس نے  قانونی کارروائی کو سادہ اور شفاف بنانے  کی   دیانت دارانہ کوشش کی ہے۔ لیکن جب ایک ہی دن رونما ہونے والے چھوٹے چھوٹے واقعات کے بارے میں درجنوں مقدمے درج کیے جائیں گے اور ہر   مقدمے  میں  طویل المدت سزائیں دلانے کا اہتمام کیا جائے گا تو اس سے بدگمانی و شبہات پیدا ہونا یقینی ہے۔ بادی النظر میں ایسا طریقہ مخالفین  کو قانونی طور سے الجھائے رکھنے اور زیادہ سے زیادہ  مدت  تک قید رکھنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ جیسے شاہ محمود قریشی متعدد مقدمات میں بری ہوچکے ہیں اور ان کے خلاف  ایک کے بعد دوسرا سرکاری دعویٰ ’غلط و بے بنیاد‘ ثابت ہورہا ہے لیکن اس کے باوجود کوئی عدالت انہیں ضمانت پر رہا کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ ملکی نظام انصاف کی یہ ناکامی آخر کیا تاثر قائم کرے گی؟

9 مئی کے روز ہونے والے واقعات کی تفصیلات  اب لوگوں کو ازبر ہوچکی ہیں۔ عسکری قیادت اس بارے میں اپنا مؤقف بہت صراحت سے پیش کرچکی ہے کہ اس روز تشدد اور توڑ پھوڑ میں ملوث لوگوں کو معاف نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ ان لوگوں نے امن و امان کے علاوہ قومی سلامتی کا مسئلہ پیدا کیا تھا۔ دوسری طرف تحریک انصاف نے اسے فالس فلیگ آپریشن قرار دے کر ایسے کسی احتجاج سے مکمل بریت کا اعلان کررکھا ہے۔ بلکہ درحقیقت اس کا دعویٰ ہے کہ فوج نے اس روز یہ حملے خود ہی منظم  کیے تھے  تاکہ تحریک انصاف کو سزا دی جاسکے۔ البتہ عمران خان سمیت تحریک انصاف کی قیادت یہ واضح کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی کہ آخر  فوج  عمران خان یا تحریک انصاف  کے لیڈروں کو کس ’جرم‘ کی سزا دینا چاہتی تھی کہ اسے خود اپنی ہی تنصیبات پر جعلی حملے کرانے کا اہتمام کرنا پڑا۔ ظاہر ہے کہ یہ الزام لغو اور بے بنیاد ہے جس کی وجہ سے سیاسی تناؤ میں اضافہ ہؤا ہے۔ اسی  لیے تحریک انصاف ، اسٹبلشمنٹ سے سلسلہ  جنبانی کرنے  میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

ان حالات میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے پاس ’غیر جانبدار‘ ریفری کا کردار ادا کرنے کا موقع موجود تھا۔  سیاسی بیان بازی اور الزام تراشی کی مہم شروع کرنے کی بجائے تحریک انصاف پر واضح کیا جاتا کہ یہ ایک سنگین قومی سانحہ تھا جس  میں ملوث لوگوں کو معاف نہیں کیا جا سکتا تاکہ مستقبل کے لیے ایک عمدہ مثال قائم ہوجائے اور تشدد کو ملکی سیاست سے باہر نکالنے کا اہتمام ہو۔ لیکن ا لزامات کی سنگینی اور ان میں ملوث لیڈروں کی عوامی حیثیت کی وجہ سے یہ ضروری تھا کہ اس مقصد کے لیے ہائی کورٹ کی سطح کی خصوصی عدالت قائم کی جاتی۔ کوئی اعلیٰ سطحی کمیشن  اس روز رونما ہونے والے واقعات کا مکمل جائزہ لے کر اور تمام شواہد کی روشنی میں  طے کرتا کہ کن لوگوں کو  اس لاقانونیت کا ذمہ دار  قرار دیا جائے۔ اس کمیشن  کی تحقیقات عام کی جاتیں اور اس کی رپورٹ کے مطابق خصوصی عدالت میں ایک مقررہ مدت کے اندر مقدمات کے فیصلے کرکے معاملہ نمٹا دیا جاتا۔

اس کے برعکس حکومت نے 9 مئی کے تشدد میں ملوث  کچھ لوگوں کے معاملات فوجی عدالتوں کے حوالے کیے اور متعدد دیگر لوگوں کے معاملات ملکی پولیس نظام کے تحت تحقیق و تفتیش کے مراحل سے گزرتے ہوئے ابھی تک زیریں عدالتوں میں زیر غور ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ میں اپیلوں اور حتمی فیصلوں کے بارے میں کوئی امید نہیں کی جاتی۔    ایک سنگین قومی سانحہ کے بارے میں  لاپرواہی کایہ رویہ اختیار کرنے والی حکومت درحقیقت خود ہی معاملہ کی سنگینی اور اس کے  سیاسی ، عدالتی و انتظامی اثرات کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ اس معاملہ میں جتنی تاخیر ہورہی ہے اور فیصلوں میں  سامنے آنے والی کمزوریوں کی وجہ سے حکومت کا مقدمہ  کمزور ہوتا ہے۔ اس  سے ایک طرف عوام بے چین و پریشان ہوتے ہیں تو دوسری طرف فوج  عدم اطمینان کا شکار ہوگی  جو 9  مئی کے دن  ہونے والے تشدد کو  براہ راست قومی سلامتی پر حملہ سمجھتی ہے۔  حکومت کی یہ  ناکامی ، ملک میں فیصلے کرنے والے لوگوں کی اہلیت کے بارے میں سوالات پیدا کرتی۔ ایسے میں حیرت ہوتی ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر متمکن لوگ  کیسے اس قسم کے کسی بھی فیصلہ کے بعد ’حکومتی رٹ‘ یا عدالتی خود مختاری کے دعوے کرنے لگتے ہیں۔

یہ تماشہ اب قوم کےاعصاب پر سوار ہوچکا ہے۔ حکومت کو اس سے باہر نکلنے کا کوئی قابل قبول اور آسان راستہ تلاش کرنا چاہئے۔ ورنہ 9 مئی تحریک انصاف کے لیے  ’سرخروئی کا موجب‘ اور شہباز شریف کے لیے سیاسی  بوجھ بنتا رہے گا۔