بھارتی مسلم دشمنی: مضبوط پاکستان اور بے کس عوام
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 20 / دسمبر / 2025
نتیش کمار جنتا دل (یونائیٹڈ پارٹی) کے قومی صدر ہیں۔ نومبر 2025 کے صوبائی انتخابات میں 243میں 202نشستیں جیت کر صوبہ بہار کے دسویں بار وزیراعلیٰ بنے وہ اس پوزیشن پر 2005 سے براجمان چلے آ رہے ہیں۔ 2014 میں ایک مختصر وقفے کے سوا وہ گزرے 20 سالوں سے صوبہ بہار کی سیاست اور حکومت پر فائز رہے ہیں۔
جنتا دل پارٹی اپنے قیام سے لے کر ہنوز بہار کی سیاست میں نمایاں پوزیشن کی حامل ہے۔ یہ پارٹی دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحادبنا کر ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔ نومبر 2025کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ نیشنل ڈیمو کریٹک الائنس بنا کر فتح حاصل کی۔ ان کی اپنے صوبے میں شہرت اپنی جگہ لیکن اپنے ہی صوبے کی ایک رہائشی ڈاکٹر نصرت پروین کے حجاب نوچنے کی حرکت سے انہیں جو بدنامی ملی ہے ،وہ بھی تاریخی ہے۔ وزیراعلیٰ کی عمر 71سال ہے اس اعتبار سے بھی وہ ڈاکٹر کے باپ ہی نہیں بلکہ نانا دادا لگتے ہیں۔بہار کے وزیراعلیٰ کے طور پر ان کا مقام باپ کے برابر بنتا ہے لیکن انہوں نے جو حرکت فرمائی ہے وہ ہر لحاظ سے گری ہوئی اور قابل مذمت ہے۔ معلوم نہیں کہ وہ اس بات پر شرمند بھی ہیں یا نہیں۔ویسے ہندوستان میں جس طرح ہندو ازم کے فروغ کے ساتھ ساتھ مسلم دشمنی کا دور دورہ ہے اور مودی سرکار جس طرح ہندو مذہبی جنونیت کو فروغ دے رہی ہے، اس سے تو لگتا ہے نتیش کمار کوذرا سی بھی شرمندگی نہیں ہوگی۔
راشٹریہ سیوک سنگھ کے افکار و نظریات کے فروغ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہندوستان کے سیاسی منظرپر ابھرنے اور چھا جانے کے باعث بھارت کا سیکولر چہرہ گہنا گیا ہے۔ مودی وزارت عظمیٰ تک پہنچنے سے پہلے بھی تیرہ سال (2001-14) تک گجرات کے وزیراعلیٰ رہے اور انہوں نے وہاں غیر ہندو مذہب دشمنی بالعموم اور مسلم دشمنی بالخصوص کا سکہ جمایا۔ متعصب ہندوؤں کو اپنی حمایت پر آمادہ کیا اور پھر پورے ہندوستان کے اقتدار پر قابض ہوگئے اس کے بعد انہوں نے بھارتی آئین میں درج بنیادی نقاط کے برعکس ہندوستان کے سیکولر چہرے پر کالک ملنا شروع کر رکھی ہے۔
پوری دنیا میں بھارت کی بدنامی ہو رہی ہے۔ ہندوتوا کے فروغ نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست کو تنگ نظر اور متشدد ہندو ریاست کے طور پر ظاہر کرنا شروع کر رکھا ہے۔ ویسے بھارت ہمیشہ ہی متعصب ہندو رہا ہے۔ اس نے کسی بھی دوسرے مذہب کو قبول نہیں کیا ہے لیکن اسلام نے یہاں جذب ہونا قبول نہیں کیا اپنی جوہری فکری اور عملی حقیقت کے باعث یہاں غلبہ حاصل کیا۔ فکری غلبہ ہی نہیں بلکہ سیاسی غلبہ بھی حاصل کیا اور نتیجے کے طور پر خطے میں ایک برتر مذہب و تہذیب کے طو رپر اپنا آپ منوایا۔آج اگر بھارت میں 300ملین یا اس سے بھی زائد مسلمان بستے ہیں تو یہ اسی خطے کے باسی ہیں ان کے اجداد نے اسلام قبول کیا تھا ۔وگرنہ ہندوؤں کے یدھمن،وکیش، گھشتری اور شودر کلاسوں میں ہے معاشرتی نظام نے یہاں رہنے والوں کی اکثریت کا جینا دوبھر کر رکھا تھا۔ اسلام نے مساوات اور بھائی چارے کا سبق دیا اور اس طرح ایک پروگریسو اور روشن معاشرہ تشکیل پایا۔ یہ بات ہندو کبھی نہیں بھولا۔ ہندو کے خمیر میں اسلام دشمنی رچی بسی ہوئی ہے۔
مسلمانوں کے غلبے کے دور میں ہندو کی یہ خصلت دبی ہوئی تھی۔1857 کی جنگ آزادی کے بعد جب انگریزوں کا دور حکمرانی شروع ہوا تو ہندو اپنے نئے حاکم کا ایجنٹ بن گیا اور1947میں ایک ہندوبھارت اور مسلم پاکستان معرض وجود میں آ گیا۔ ہندو قیادت بھارت کی تقسیم کے خلاف تھی وہ بھارت کو اپنی ماں سمجھتے تھے ،اس لئے تقسیم ہند کے پلان کو بھارت ماتا کی تقسیم قرار دیتے تھے لیکن جاری حالات اور واقعات کے تناظر میں تقسیم ہند ناگزیر تھی اور وہ ہو گئی۔ ہندو نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور وہ روزِ اول سے بھی پاکستان کو مٹانے اور نقصان پہنچانے کے لئے تگ و دو کرتا رہا ہے۔ پاکستان سے اس کی نفرت ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ مئی 2025کی جنگ میں فتح کے بعد یہ نفرت اور بھی عیاں ہو گئی ہے۔
دوسری طرف ہم ہیں۔ ہم نے بھارت کے ساتھ یہ دشمنی خوب نبھائی ہے اور نبھا رہے ہیں۔ اسی دشمنی نے ہمیں ایک پائیدار ایٹمی ریاست بننے پر مجبور کیا ہے۔ آج پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک اہم اور مضبوط عسکری قوت کے طورپر موجود ہے ۔ اس کی یہ حیثیت جانی اور مانی ہوئی ہے ۔ہماری دفاعی قوت کسی قسم کے شک و شبے سے بالاتر ہے ۔ہم ایک ذمہ دار ایٹمی مملکت کے طور پر اقوام عالم کے درمیان کھڑے ہیں۔ چین کے ساتھ مل کر ہم نے معرکہ مئی 2025 میں نہ صرف ہندوستان پر اپنی عسکری بالادستی قائم کر دکھائی ہے بلکہ جدید ترین طرز جنگ میں لیڈر کے طو رپر سامنے آئے ہیں۔ ناقابل شکست رافیل کو مار گرانا چھوٹی بات نہیں ہے۔ الیکٹرانک اور سائبر وار فیئر کا تجربہ، کامیاب تجربہ ہماری فتح کی شکل میں دنیا کے سامنے ہے۔ہم معاشی و معاشرتی طور پر جس بدحالی کا شکار ہیں، یہ اسی دشمنی کا مقابلہ کرتے رہنے کا نتیجہ ہے۔ ہم نے بھارت دشمنی نبھاتے نبھاتے اپنے آپ کو، اپنے دفاع کو تو ناقابل تسخیر بنا ڈالا ہے لیکن ہم خود مل جل کر رہنے کا کوئی معقول بندوبست نہیں کر سکے۔
ہماری آبادی 260ملین ہو چکی ہے جس میں 67فیصد جوان آبادی شامل ہے جس کے سامنے نہ تو ان کا حال ہے اور نہ ہی ان کے پاس اپنے مستقبل کا کوئی نقشہ ہے۔ عالمی ساہوکارہم پر مسلط ہے اس کا ایک ہی نظریہ ہے، ایک ہی منزل ہے کہ اس کا قرض محفوظ رہے اور اسے سود کی قسطیں ملتی رہیں۔ وہ حکمرانوں کو زیادہ سے زیادہ وصولیوں کے ٹارگٹ پر فوکس رکھتا ہے۔ معیشت میں کھلے پن کی عدم موجودگی کے باعث عام آدمی پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ عام شہری اپنی آمدنی کا 40فیصد سے زائد ٹیکسوں کی بھینٹ چڑھانے پر مجبور ہے۔ زندگی گزارنا مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)