سوہنی کا بینڈ اور ہمارا سیاسی شعور

بٹوارے سے پہلے ہندوستان کے کچھ شہروں نے رنگ و رامش میں نام پایا تھا۔ انگریز حکومت کا صدر مقام کلکتہ صحافت کا پہلا مرکز تھا۔ ہندوستان کا پہلا ریڈیو سٹیشن یہیں قائم ہوا۔ واجد علی شاہ اور گوہر جان نے یہاں راگ راگنی اور رقص کی چمن آرائی کی۔ پارسی سیٹھوں کے طفیل بنارس تھیٹر کا مرکز بنا۔

 1911 میں دہلی کے گلی کوچے پھر سے اوراق مصور بنے۔ چاندنی چوک، جامع مسجد، چاوڑی بازار اور دہلی ریڈیو سے شاہد دہلوی کے ’ساقی‘ تک، خواجہ حسن نظامی، بیرسٹر آصف علی اور ملا واحدی سے جامعہ ملیہ تک، دہلی نے نئے روپ کی سبھا سجائی۔ بولتی تصویروں کا زمانہ آیا تو بمبئی میں جدن بائی اور سیٹھ اردشیر ایرانی کے طفیل فلمستان اور بمبئے ٹاکیز نمودار ہوئے۔ ستلج کے اس پار لاہور کی اپنی شان تھی۔ علم و ادب، موسیقی، مصوری اور سیاست کے صد رنگ گلدستے لاہور کی بندش قصباتی تھی مگر یہ بستی درت میں تہذیب کے چوتھے سپتک کو چھوتی تھی۔

اقبال سے تاجور نجیب آبادی اور امرتا شیر گل سے راجندر بیدی تک، پطرس سے اختر شیرانی تک، بڑے غلام علی خاں سے عبدالرحمن چغتائی تک، یہ نگر مانی اور بہزاد کا مرقع تھا۔ سیاست میں فضل حسین اور سکندر حیات کا طوطی بولتا تھا۔ لاہور کی گلیوں میں کچھ تو ایسا تھا کہ 26 جنوری 1930 کو کانگرس نے دریائے راوی کے کنارے کامل آزادی کا مطالبہ کیا اور 23 مارچ 1940 کو مسلم لیگ نے منٹو پارک میں پاکستان کا مطالبہ کیا۔ اسی لاہور میں قلعے اور شاہی مسجد کے پہلو میں ایک گلزار کوچہ تھا جہاں میری نوجوانی تک ایک خستہ عمارت پر سوہنی بینڈ کا تختہ آویزاں تھا۔ شادی بیاہ میں سریلی دھنیں بکھیرنے میں سوہنی بینڈ اور بابو بینڈ میں مقابلے کی فضا تھی۔

استاد توکل حسین کے شاگرد ماسٹر سوہنی نے 1939 میں سوہنی بینڈ کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کے فرزند بابو نذیر سوہنی نے استاد عاشق حسین سے تربیت پائی۔ کلارنٹ کی تان پر درجنوں سازندوں کے ہمراہ سوہنی بینڈ بارات لے کر نکلتا تو لاہور میں خوشیوں کے سُر بکھر جاتے۔ نامعلوم سوہنی بینڈ کی سرمست دھن پر بیاہے جانے والوں میں سے کس کی رفاقت کامیاب رہی اور کون سا بندھن وقت کے منجدھار کی نذر ہوا۔ شادیوں کی ثقافت بدل گئی ہے۔ اب ہم ایک اور طرح کی موسیقی کا ذوق رکھتے ہیں۔

اجازت دیجئے کہ میں یارِ عزیز یاسر پیرزادہ کا ذکر کر لوں۔ یاسر بھائی اکثر آپ کے نیاز مند کی قنوطیت پر نشتر آزمائی کرتے ہیں۔ یاسر زندگی کا روشن پہلو دیکھتے ہیں اور کیوں نہ ہو، زندگی ان پر مہربان رہی ہے اور اگر مقابل میں ہم ایسے درماندہ اور سوختہ نصیب درد مندوں سے واسطہ ہو تو صاحب بہادر کے قلم کی کاٹ کچھ بڑھ جاتی ہے۔ فلسفہ، ریاضی اور تصوف کے گہرے پانیوں سے کچھ موتی نکال کر ہمیں مرعوب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم شپرہ چشم لوگ سدا سے تاریکی کے فرزند ہو۔ تمہیں خود خوشی راس آتی ہے اور نہ تمہاری آنکھیں روشنی دیکھنے کی تاب رکھتی ہیں۔ آج میں بھی یاسر بھائی کو گزشتہ ایک ہفتے کے حوالے سے ہمارے سیاسی شعور کی ایک جھلک عرض کروں گا۔

 11 دسمبر کو فیض حمید کو سزا سنائے جانے کے بعد سے صحافت کے دریچے سے آتی صداؤں پر غور فرمائیے۔ کوئی اپنی ذات پر فیض حمید کے عتاب کی کہانی سنا رہا ہے تو کوئی قسط وار ’فیض حمید کے کارنامے‘ بیان کر رہا ہے۔ کوئی فیض حمید کی فرعونیت کا نوحہ پڑھ رہا ہے تو کوئی فیض حمید کے مذموم عزائم دریافت کر رہا ہے۔ بیچ بیچ میں گریز یہ کہ اب قوم صحیح سمت میں بلند پروازی کے لیے اڑان بھر رہی ہے۔

ہم نے اندر سبھا کا یہ ناٹک بہت مرتبہ دیکھ رکھا ہے۔ پاکستان بنا تو مطالبہ پاکستان کے سب مخالف دوڑ کر نئے ملک کے تانگے پر سوار ہو گئے اور ’مملکت خداداد‘ کے لیے اپنی قربانیوں کی داستاں رقم کرنے لگے۔ محسن بھوپالی نے کہا تھا۔ ’منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے‘ ۔ دس برس بعد ایوب خاں نے ملک پر قبضہ کیا تو اسی اخبار کے ادارتی صفحے پر 2 جنوری 1959کو شوکت تھانوی نے اپنے کالم میں مارشل لا کا قصیدہ لکھا۔ 27 اکتوبر 1958 کو سکندر مرزا رخصت ہوئے تو کسی نے دو آنسو بہانے کی زحمت نہیں کی۔ ٹھیک اسی طرح جیسے 7 اگست 1955 کو ملک غلام محمد کو ’محسن ملت‘ قرار دینے والے سرمہ سلیمانی کے طفیل غائب ہو گئے تھے۔

 فیلڈ مارشل ایوب خان کے قصیدے پڑھتے ایک نسل جوان ہوئی۔ کسی نے اشارہ تک نہیں کیا کہ بانیان پاکستان کی پوری فصل کاٹ کر پھینک دی گئی ہے۔ مارچ 69 میں یحییٰ خان کو ’اسلام کا سچا مجاہد‘ کہنے والے ایک دوسرے پر گرے پڑ رہے تھے۔ 10 اگست 1980 کو یحییٰ خان گمنامی میں موت کا شکار ہوئے تو ان کی سازشوں کا شکار ہونے والے ایوب خان کی 19 اپریل 1974 کو وفات کی طرح کسی کو ’عشرہ ترقی‘ اور یحییٰ خان کا ’اسلامی آئین‘ یاد نہیں آئے۔ ہم تو قائد عوام بھٹو صاحب کی عوامی حکومت کے ترانے لکھنے پر مامور تھے۔ ضیا الحق کے گیارہ برس ختم ہوئے تو اچانک مزاحمتی ادب کے دفتر کھل گئے۔ نواز شریف کو ’ایٹمی وزیراعظم‘ کہنے والوں نے اسی ’خلوص‘ سے پرویز مشرف کے دست روشن خیال پر بیعت کی۔ بینظیر بھٹو کا خون ناحق تو رزق خاک ہوا۔

ابھی اسلام آباد کے کھمبوں پر آویزاں وہ اشتہارات بھی گرد آلود نہیں ہوئے جن پر ’اب آ بھی جاؤ‘ اور ’ابھی نہ جاؤ‘ کی التجائیں کندہ تھیں۔ اب ایک نئے دور کا آغاز ہے جو گزشتہ سے پیوستہ ہے۔ صاحب کہاں کا سیاسی شعور، کہاں کی معیشت اور کیسی جمہوریت شناسی۔ ہم تو سوہنی کے بینڈ کا بھونپو گلے میں آویزاں کیے صاحب جلوس کے پیادے ہیں۔ جس قوم کا حافظہ ایسا کمزور ہو اور جہاں بے آب و گیاہ میدانوں میں ہریالی دیکھنے کی روایت ایسی مضبوط ہو، وہاں ترقی اور خوشحالی کی فصل نہیں اگ سکتی۔

 سوہنی کا بینڈ بج رہا ہے۔ دو دلوں کے ملن کا انجام کاتب تقدیر کے سپرد ہے۔ قوم تو نئے بندوبست کی رونمائی پر تاشے اور نفیریاں بجا رہی ہے اور وقت کی گردش میں آنے والوں پر نفرین بھیجنے کی رسم نبھا رہی ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)