توشہ خانہ-2 میں سزا کے خلاف علیمہ خان اور تحریک انصاف کا سخت ردعمل

  • اتوار 21 / دسمبر / 2025

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کے فیصلے پرکہا ہے کہ عمران خان کے اہلِ خانہ کو جیل کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جہاں ’کینگرو کورٹ نے توشہ خانہ-2 کیس کا فیصلہ سنایا۔

پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ کہا کہ ’بند کمرہ جیل ٹرائل نہ آزاد ہے اور نہ ہی منصفانہ۔ درحقیقت یہ ایک فوجی ٹرائل ہے۔ پارٹی نے عمران خان کی بہن علیمہ خان کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں وہ گاڑی کے اندر بیٹھے یہ سوال کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ انہیں آگے جانے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی۔

ویڈیو میں علیمہ خان نے کہا کہ یہ ہمیں نہیں روک سکتے۔ آج جیل ٹرائل ہے۔ اہلِ خانہ کو روکنا غیر قانونی ہے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے فیصلے پر تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ عمران خان کے خلاف فیصلے پہلے سے لکھے گئے اسکرپٹ کے تحت سنائے جا رہے ہیں۔ مجھے تو رات ہی یہ محسوس ہو رہا تھا کہ دھند کا فائدہ اٹھا کر فیصلہ جلدی سنانا چاہتے ہیں اور فیصلے کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے اس کی منطق پر بھی اعتراض کیا۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ان مقدمات کے پیچھے موجود لوگ ’ذہین نہیں‘ اور وہ ان کی اسکرپٹس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ انہیں دس سال سزا دیتے ہیں یا چودہ سال؟ اس سے پہلے بھی آپ انہیں 14 سال کی سزا دے چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا لہ ’ہماری اور عوام کی برداشت ختم ہوچکی ہے‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبہ یہ ہے کہ ہر چھ ماہ بعد ایک نیا فیصلہ سنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے عوام اب یہ سب مزید برداشت نہیں کریں گے۔ علیمہ خان کے مطابق عمران خان کے اہلِ خانہ گزشتہ دو ماہ سے ایسے فیصلے کی توقع کر رہے تھے۔ انہوں نے بشریٰ بی بی کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ انہیں مبینہ طور پر غیر قانونی تنہائی میں کیوں رکھا گیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا کہ یہ کیس محض وعدہ ناموں کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے اور اس میں کوئی قابلِ اعتبار ثبوت موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کوئی گواہ نہیں، سوائے اس شخص کے جسے خود پی ٹی آئی کے بانی سامنے لائے تھے۔

سلمان اکرم راجا نے کیس کو مضحکہ خیز اور انتہائی کمزور گواہی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ایک شخص کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ اس پر دباؤ ڈالا گیا اور آپ اسے ثبوت مان لیتے ہیں‘۔ یہ تبصرہ بظاہر کیس میں دیے گئے ایک گواہ کے بیان کی جانب اشارہ تھا۔

دریں اثنا سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کا فیصلہ کیا ہے۔ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ فیصلے کے خلاف تمام قانونی راستے اختیار کیے جائیں۔

سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ ون اور سائفر کیس کی طرح اس مقدمے کے سماعت میں بھی کئی سقم موجود ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان اور اُن کی اہلیہ کے توسط سے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورت میں اپیل دائر کریں گے۔