ملتان بدل رہا ہے

گرد و گرما، گدا و گورستان کی شناخت بنتا ملتان اب قدیم سے جدید حسن میں ڈھلتا جا رہا ہے، جہاں اس تاریخی شہر کی قدامت میں ایک حسن جھلکتا ہے وہاں اس کے جدید حسن میں بھی نکھار آ تا جا رہا ہے۔

لگتا ہے کہ پنجاب حکومت کی نظر عنایت بھی جنوبی پنجاب کے اس خطے پر پڑ گئی ہے، اس لئے ملتان بدلا بدلا نظر آ نے لگا ہے اور اس تبدیلی میں ملتان ڈویژن کے کمشنر جناب عامر کریم خان کا بھی خاصا عمل دخل ہے۔ ملتان کو درپیش مسائل اگرچہ بہت سے ہیں اور ان کے حل کے لئے حکومت کی طرف سے خطیر فنڈز کا فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ مگر کمشنر ملتان نے اپنی فہم و فراست مستعدی اور عمل پہیم سے بہت سے مسائل صنعت کاروں تاجروں اور مخیر حضرات کے تعاون سے بھی حل کر لئے ہیں۔

سردیوں میں غریب لوگوں کو گرم لباس کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انہوں نے من و سلوی پروگرام کے تحت مستحقین کو مفت کھانے کی فراہمی یقینی بنائی ہے۔ دانشوروں اور اہل قلم کی پذیرائی کے لئے ان کے گھروں پر لوح اعزاز لگانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ملتان سے وہاڑی تک ڈسٹ فری سٹرک کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ ملتان ایونیو کی تعمیر کے افتتاح کے بعد اب وہ مسلسل اس منصوبے کی نگرانی اور وقت پر اس کی تکمیل کےلئے کوشاں ہیں اور مختلف اوقات میں دورہ بھی کر رہے ہیں۔

چوک کہچری پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کےلئے پارکنگ پلازہ کو فعال کیا گیا ہے۔ رجسٹری برانچ کے معاملات کو قانونی اور بہتر بنانے کے ساتھ غیر متعلقہ افراد اور قبضہ گروپوں سے پاک کرنے کے لئے بھی دلیرانہ اور قابل تحسین اقدامات کئے گئے ہیں۔ ملتان کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی بہتری اور رش کنٹرول کرنے کے لئے اشاروں کی تنصیب کا خوش کن فیصلہ بھی ان کی فہم و فراست کا بین ثبوت ہے۔ سیداں والا بائی پاس چوک جہاں شہر میں آ نے اور جانے والی ٹریفک کا خاصا رش ہوتا ہے، وہاں جدید ڈیجیٹل اشارے نصب کر دئیے ہیں۔ نو نمبر چونگی عید گاہ اور چوک نواں شہر پر بھی اشارے نصب کر دئیے گئے ہیں۔ امید ہے اب ڈیرہ اڈا گھنٹہ گھر اور دیگر اہم شاہراہوں اور چوکوں ہر بھی اشاروں کی تنصیب سے شہر میں ٹریفک کے معاملات بہتر بنانے جا سکتے ہیں۔

عوام بھی اس سلسلے میں تعاون کرے ٹریفک قوانین سے آگاہی اور شعور حاصل کریں۔ ادھر ادھر کے اشاروں میں دلچسپی کی بجائے ٹریفک کے اشاروں کی بھی پاپندی کریں۔ حال ہی میں کمشنر ملتان نے میونسپل کارپوریشن کی حدود میں شکستہ اور خستہ حال سڑکوں کا سروے کرانے کا ٹاسک دیا ہے تاکہ شہر کے اس اہم اور دیرینہ مسئلے کو حل کر کے ملتان کے حسن اور دلکشی میں مزید اضافہ کیا جا ئے۔

کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں نے ملتان میونسپل کارپوریشن کو ہدایت کی ہے کہ شہر بھر کی سڑکوں کا جامع اور مکمل سروے کیا جائے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کن علاقوں اور کن اہم سڑکوں کی فوری تعمیر اور بحالی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ سروے اس مقصد کے تحت کیا جائے کہ ملتان کے تمام علاقوں میں یکساں بنیادوں پر ترقیاتی کام ممکن بنائے جا سکیں اور کسی ایک علاقے کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

کمشنر عامر کریم خاں نے واضح کیا کہ کسی بھی سڑک کی تعمیر یا بحالی سے قبل تمام متعلقہ سروس ڈیپارٹمنٹس سے تحریری سرٹیفکیٹس حاصل کرنا لازم ہوگا، جن میں واسا، میپکو، پی ٹی سی ایل اور دیگر یوٹیلیٹی ادارے شامل ہیں۔ ان سرٹیفکیٹس کے ذریعے اس امر کی تصدیق کی جائے گی کہ متعلقہ سڑک کے نیچے تمام سروسز مکمل ہو چکی ہیں اور مستقبل میں کسی قسم کی کھدائی یا شفٹنگ درکار نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی غلط روایت بن چکی ہے کہ ایک محکمہ سڑک تعمیر کرتا ہے اور بعد ازاں کوئی دوسرا محکمہ آ کر اسی سڑک کو دوبارہ کھود دیتا ہے، جس سے نہ صرف شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ سرکاری وسائل کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری بارہا اس طرزِ عمل پر شکایات کر چکے ہیں اور یہ صورتحال کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔

کمشنر عامر کریم خاں نے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ اگر کسی محکمے نے سرٹیفکیٹ دینے کے باوجود سڑک کو دوبارہ کھودا تو متعلقہ افسر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہر سروس ڈیپارٹمنٹ اپنے پی سی ون میں اس امر کی واضح شق شامل کرے کہ اگر کھدائی کی جائے گی تو سڑک کو اسی اصل حالت میں بحال کرنا محکمہ کی ذمہ داری ہوگی۔ اور بحالی کا بوجھ کسی دوسرے ادارے پر نہیں ڈالا جائے گا۔ کمشنر ملتان نے زور دیا ہے کہ ایسی سروسز جن کے نتیجے میں شہری اذیت کا شکار ہوں، ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ کھدائی کے فوراً بعد سڑک کی بحالی یقینی بنائی جائے اور ماضی میں جن سڑکوں پر بحالی کے کام مکمل نہیں کیے گئے، ان کا بھی جائزہ لے کر ذمہ داروں کے خلاف انکوائری کی جائے۔

کمشنر عامر کریم خاں نے اس حوالے سے کہا ہے کہ حکومت شہریوں کی سہولت کے لیے اربوں روپے خرچ کرتی ہے اور یہ رقم ناقص منصوبہ بندی یا محکموں کی باہمی عدم ہم آہنگی کی نذر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بلا وجہ پریشان کرنے والے عناصر کے خلاف مثال قائم کی جائے گی تاکہ آئندہ اس طرزِ عمل کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ جناب عامر کریم صاحب کی یہ خوبی ہے کہ وہ زبانی جمع خرچ اور دعوؤں کی بجائے عملی کام پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ اس مقولے پر پورا اترتے ہیں کہ وہ آ یا اس نے دیکھا اور فتح کر لیا۔

عامر کریم خان صاحب اپنی ٹیم پر اعتماد اور بھروسہ کرتے ہیں۔ کام کا فالو اپ لیتے ہیں اور صحافیوں اور سول سوسائٹی کو بھی اپنے کاموں سے آ گاہ رکھتے ہیں۔ ان کی محبت ہے کہ راقم سمیت بہت سے دوستوں کو مختلف تقاریب میں خصوصی طور پر شریکِ ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ سول سوسائٹی اور ہم سب کو ان کے اچھے کاموں کی پذیرائی کرنی چاہیے تاکہ ہمارا ملتان بدلتا نظر آ ئے اور اس کا شمار بھی کراچی اسلام آ باد لاہور اور فیصل آ باد جیسے ترقی یافتہ شہروں میں ہو سکے۔