تحریک انصاف کی قومی کانفرنس میں نئے احتجاج کا اعلان

تحریک انصاف کی طرف سے متفقہ آئین کی بحالی اور وسیع تر سیاسی اتفاق رائے کے لیے بلائی گئی نام نہاد آل پارٹیز کانفرنس  اپوزیشن  اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے لیڈروں کی دھؤاں دار تقریروں اور 8  فروری  2026 کو ملک گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرنے کے بعد ختم ہوگئی۔ اس سے پہلے عمران خان کے  ’ایکس‘ کاؤنٹ پر ایک پیغام میں خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی  کو احتجاج کی تیاری پکڑنے کی ہدایت کی گئی  تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کے  لیڈروں نے دو ہفتے قبل آئی ایس پی آر کی طرف سے  عمران خان اور تحریک انصاف پر سنگین الزامات کے تناظر میں تمام سیاسی پارٹیوں کو  غور و فکر کرنے اور  متفقہ آئین کی بحالی کا لائحہ عمل بنانے کی دعوت دینے کا اعلان کیا تھا۔ یہ کانفرنس 20 اور21 اگست کو منعقد ہونا تھی تاکہ تمام سیاسی قوتیں الزام تراشی کے موجودہ ماحول کو ختم کرنے اور آئین پر اتفاق رائے کے لیے مل جل کر کام کرسکیں۔ البتہ یہ اجتماع یک طرفہ ، اشتعال انگیزیز  اور  اپوزیشن کی الزام تراشی کے پرانے نعروں سے معمور رہا۔  

تحریک انصاف  نے صرف ان جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی جو ’ہم خیال‘ ہیں یعنی اپوزیشن اتحاد  ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ میں شامل ہیں  یاعمران خان اور تحریک انصاف کی غیر مشروط  حمایت کرتی ہیں۔ درحقیقت یہ سارا تماشہ تحریک انصاف  ہی نے رچایاتھا لیکن اسے سیاسی اتحاد کا نام دیا گیا ہے۔   نہ فیصلوں کا اختیار کسی خود مختار فورم کو حاصل ہے اور نہ ہی  اس اجتماع میں شامل ہونے والے لیڈر عمران خان یا تحریک انصاف کی کسی لغزش کو ماننے پر آمادہ ہیں۔ درحقیقت  یہ چھوٹے چھوٹے سیاسی گروہ خاندانی قیادت کے   زیر نگرانی قائم   ہیں جنہیں اپنی سیاسی اہمیت جتانے کے لیے کسی بڑی پارٹی کے سایے میں شور مچانے اور احتجاج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تمام گروہ نہ تو کسی ایک نکتہ پر متفق ہیں اور نہ ہی ان کے پاس سیاسی مسائل حل کرنے کا کوئی وسیع اور قابل عمل لائحہ عمل موجود ہے۔ اسی لیے چند چھوٹی سیاسی پارٹیوں کے علاوہ ایسے سیاسی  لیڈر اس کانفرنس میں مدعو تھے جن کا کوئی سیاسی  اثر تو موجود نہیں ہے  لیکن   ماضی میں ان کے سیاسی کردار کی وجہ سے اہمیت حاصل ہے۔ ان میں خاص طور سے جاوید ہاشمی، مصطفی نواز کھوکھر  اور جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد جیسے لوگ شامل ہیں۔

’متفقہ آئین کی حفاظت: وقت کی ضرورت اور اجتماعی دانش سے مل کر راستہ تلاش کرنے کی ضرورت‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں اتفاق رائے پیدا کرنے اور ملک میں سیاسی تناؤ ختم کرانے کے لیے کسی  تجویز  پر غور نہیں ہؤا۔ ساری تقریریں فرسودہ  اور غیر متعلقہ بیانات پر مشتمل  تھیں جن کا اس کانفرنس کے موضوع سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر نے اس کانفرنس کا اعلان کرتے ہوئے سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس سے قیاس کیاجارہا تھا کہ اسٹبلشمنٹ کی طرف سے  الزامات کے بعد تحریک انصاف سیاسی جماعتوں کی طرف رجوع کرنے کا راست اقدام کرنا چاہتی ہے تاکہ مل جل کر ایسا ماحول پیدا کیا جاسکے کہ ملک میں آئینی انتظام کو یقینی بنایا جاسکے اوراس بارے میں پیدا ہونے والی مشکلات سے مل کر نبرد آزما ہونے کی کوشش کی جائے۔ اس مقصد کے لیے تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم پر بیٹھنا اور معاملہ پر غور کرنا ضروری ہے۔ اگر صرف حکومت کی تبدیل  کے لیے نعرہ زن سیاسی جماعتیں مل کر حکومت یا فوج کو حرف تنقید کا نشانہ بنائیں گی اور انتخابات میں دھاندلی کے علاوہ  مروجہ طریقہ کے مطابق طے پانے والے  اقدامات کو فوج  کی مداخلت کا نام دے کر محض احتجاج و اشتعال کا ماحول پیدا کرنے  کی کوشش  کریں گی تو ایسی  کانفرنس کو بمشکل   اجتماعی دانش  سے مسائل حل  کرنے کی خواہش و کوشش کہا جاسکتا ہے۔

تحریک انصاف اس کانفرنس میں سیاسی اتفاق رائے کی کوشش کے لیے موجودہ حکومتی انتظام کا حصہ بننے والی جماعتوں کو مکالمہ کی دعوت  دے کر حجت پوری کرسکتی تھی۔ اس کے برعکس  ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کے سربراہ اور پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے چئیرمین محمود خان اچکزئی نے  اپنی تقریر میں یہ سوال اٹھایا کہ کون سی حکومت سے کس موضوع پر بات  کی جائے۔ یہ طرز بیان درحقیقت  اسی مزاج کی نمائیندگی کرتا ہے کہ بات چیت سے مسائل حل نہیں ہوں گے ، اب قوت آزمائی کا موقع ہے۔  تحریک انصاف  2022 میں اقتدار سے  محرومی کے بعد  اسی ایک نکاتی ایجنڈے پر عمل کررہی  ہے اور  ناکام  ہے۔ اب محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو نام نہاد لیڈر قرار دے کر  ایک بار پھر احتجاج  منظم کرنے کی  کوشش کی گئی ہے۔ کانفرنس کے اعلامیہ میں 8 فروری کو ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی کال دے کر درحقیقت عمران خان اور تحریک انصاف کے اسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر وہ خود حکومت کا حصہ نہیں ہیں تو ملک کا انتظام بھی نہیں چلنا چاہئے۔ تحریک انصاف خود ایسا کوئی احتجاج کامیاب نہیں کرا سکی۔ اب اس کی خواہش ہے کہ اچکزئی اور دیگر لوگوں کو آگے کرکے شاید وہ اس مقصد میں کامیاب ہوجائے۔

انتشار پیدا کرنے کی خواہش میں البتہ تحریک انصاف   نے اپنی طرف سے مسائل کے سیاسی حل کی خواہش کے اظہار کا ایک قیمتی موقع  ضائع کیا ہے۔  اگر منتخب کردہ موضوع یعنی متفقہ آئین کا مقصد حاصل کرنے کے لیے اجتماعی دانش کے ساتھ کام  کرنے کا عزم موجود تھا تو  نہ جانے یہ غلط فہمی کیوں پال لی گئی کہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم میں شامل تحریک انصاف اور ان کی ہم خیال دیگر جماعتوں کے علاوہ کسی دوسری پارٹی  یا لیڈر   کااجتماعی دانش میں کوئی حصہ نہیں ہے۔  حالانکہ اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو بھی شمولیت کی دعوت دی جاتی تو شاید مکالمہ ،  افہام وتفہیم کی کوئی صورت  نکالی جاسکتی۔ لیکن اس اجتماع میں   تو جمیعت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کو بھی مدعو نہیں کیا گیا  حالانکہ یہ دونوں   پارٹیاں بھی موجودہ حکومتی نظام کے خلاف ہیں اور حالیہ آئینی ترامیم کو بھی مسترد کرتی ہیں۔ تاہم تحریک انصاف کسی ایسی جماعت کے ساتھ اشتراک عمل کے لیے آمادہ دکھائی نہیں دیتی جو اپنی علیحدہ رائے رکھتی ہو اور پی ٹی آئی کے  انتشار، بدامنی اور توڑ پھوڑ کے ایک نکاتی ایجنڈے پر لبیک کہنے پر آمادہ نہ ہو۔

یہ وقوعہ محض اتفاقیہ نہیں ہوسکتا کہ ایک طرف  تحریک انصاف کی  طرف سے ’متفقہ آئین کی حفاظت‘ کے لئے منعقد ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں  ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا فیصلہ کیا جارہا تھا تواس سے چند گھنٹے پہلے عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی  کے لیے یہ پیغام جاری کیا گیا کہ  ’سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا۔ جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں‘۔ آئینی حفاظت کے لیے اکٹھے ہونے والے لیڈر  احتجاج کی اس کال پر لبیک کہنے کے سوا کچھ کرنے پر قادر نہیں تھے۔  کیوں کہ چند روز پہلے کوہاٹ میں منعقد ہونے والے ایک جلسے میں سہیل  آفریدی اس ایجنڈے کا دو ٹوک الفاظ میں اعلان کرچکے تھے۔ اس وقت ان کا پیغام تھا کہ ’جیل سے عمران خان کا پیغام آچکا ہے: آزادی یا موت۔ ہم حقیقی آزادی لے کر رہیں گے۔ عمران خان نے مذاکرات اور احتجاج کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو دی ہے۔  ان رہنماؤں سے ملاقات کے بعد مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے‘۔

دیکھا جاسکتا  ہے کہ ان بیانات میں مذاکرات کا عنوان محض تفنن طبع کے لیے شامل کیا جاتا ہے۔ دو روزہ کانفرنس میں جمع ہونے والے لیڈروں کے لیے مذاکرات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیوں کہ ان کے حتمی لیڈر عمران خان کو موجودہ  حکومتی لیڈروں سے بات چیت مقصود نہیں ہے۔   اس صورت حال میں ’حقیقی آزادی‘ حاصل کرنے  یا موت کو گلے  لگانے کا پیغام درحقیقت انتشار  اور ایک ایسا بحران پیدا کرنے کے ارادوں کا اظہار ہے جس میں یہ احتجاج منظم کرنے والوں کو کچھ لاشیں میسر آجائیں تاکہ ان کی  سیاسی تحریک’ کامیاب‘ ہوسکے۔  جیل میں بند  عمران خان جب ’شہادت‘ جیسا لفظ استعمال کرکے اپنے وزیر اعلیٰ کو احتجاج پر اکسائے گا تو اس کا مقصد سمجھنے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔

عمران خان کے ساتھ ہونے  والی تمام تر زیادتیوں کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود رہے گی کہ  سیاسی مواصلت سے انکار ہی درحقیقت تحریک انصاف کی سب سے بڑی کمزوری  و ناکامی رہی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ عوامی مقبولیت کی وجہ سے اسے موجودہ حکمران جماعتوں سے مذاکرات کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہم اپنی عوامی طاقت کے زور پر حکمرانوں کو گھٹنوں کے بل لاسکتے ہیں۔  اوّل تو تحریک انصاف ایسے حالات پیدا کرنے کے اہل نہیں ہے۔ بالفرض  اگر تشدد کا ماحول پیدا کرکے چند معصوم لوگوں کی قربانی کے بعد حکومت کے لیے کام کرنا مشکل بنا دیا گیا تو  یہ تصور شدید غلط فہمی پرمبنی ہوگا کہ اسٹبلشمنٹ وزارت عظمی پلیٹ میں رکھ کر عمران خان کو پیش کردے گی۔  اس موقع پر احتجاج کا راستہ عمران خان کے علاوہ اس ملک کے عوام کی مشکلات میں اضافہ کا سبب بنے گا۔  عمران خان ضد و ہٹ دھرمی کے ہاتھوں پریشان رہیں گے اور عوام ملک میں عدم استحکام کی وجہ سے مشکلوں میں گھرے رہیں گے۔

ایسے میں  اپنے حامیوں   کو ’مصالحت کی پیش کشوں‘ کے جتنے مرضی قصے  ازبر کرا لیے جائیں اور  غلط سیاسی اندازوں اور فیصلوں کو جیسے مرضی شجاعت و بہادری کا نام دے لیا جائے۔ یہ سارے طریقے   تحریک انصاف کی سیاسی پوزیشن اور عمران خان کی  بارگیننگ حیثیت کو کمزور کریں گے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کو احتجاج کی بجائے کسی متبادل حل پر بھی غور کرنا چاہئے۔