مرے کی سوغاتیں
- تحریر نسیم شاہد
- سوموار 22 / دسمبر / 2025
عمرے سے واپس آنے والوں کو صرف دو چیزوں کی فکر سب سے زیادہ ہوتی ہے۔کھجوریں اور آبِ زم زم۔یوں تو مکے اور مدینے میں مسجد الحرام اور مسجد ِ نبویؐ میں آبِ زم زم پینے کے لئے وافر مل جاتا ہے۔
وہاں ڈسپوزایبل گلاس رکھے ہوتے ہیں جہاں سے زائرین آبِ زم زم پینے ہیں تاہم لوگ اپنی بڑی بوتلیں بھی بھر لیتے ہیں،جس پر کوئی پابندی نہیں۔ البتہ دونوں جگہوں پر پانی کا ہر مرکز آبِ زم زم کا نہیں ہوتا۔جہاں یہ دستیاب ہوتا ہے، وہاں لکھا ہوتا ہے کہ یہ آبِ زم زم ہے۔ہم نے مکہ میں وہ جگہ بھی دیکھی جہاں آبِ زم زم کا ذخیرہ پلانٹ موجود ہے۔خانہ کعبہ سے آبِ زم زم پائپوں کے ذریعے پہاڑ پر واقع اُس مرکز تک پہنچایا جاتا ہے،جہاں سے مسجد الحرام اور مسجد ِ نبویؐ میں فراہم کیا جاتا ہے۔یہ بذاتِ خود ایک بہت بڑی ٹیکنالوجی کے استعمال سے ممکن ہوا ہے۔مکہ سے مدینہ کا فاصلہ 410 کلو میٹر ہے۔ چار سو دس کلو میٹر کی پائپ لائن بچھا کر آبِ زم زم کی ترسیل مدینہ میں کی گئی ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ عمرہ یا حج پر جانے والے گیلن کے گیلن بھر کر لے آتے تھے۔ ایئر لائنز والے پوچھتے تھے، نہ سعودی امیگریشن والے،مگر اب معاملہ مختلف ہے۔ آپ کو جدہ یا مدینہ کے ایئر پورٹوں سے پانچ لٹر کی ایک بوتل پاسپورٹ دیکھ کر ساڑھے بارہ ریال میں دی جاتی ہے یہ بوتل ایئر لائن مفت پہنچاتی ہیں اور یہ وزن میں شمار نہیں ہوتی۔آپ کوئی دوسرا آبِ زم زم کا ٹینک یا بوتل بُک نہیں کرا سکتے۔ لوگ اس کا حل یہ نکالتے ہیں کہ بوتلیں بھر کے اپنے بیگ کے اندر کپڑوں میں چھپا دیتے ہیں اس کا نقصان یہ ہے کہ بیگ کا وزن بڑھ جاتا ہے۔یاد رہے کہ منظور شدہ وزن سے زیادہ سامان ہو تو62ریال فی کلو کے حساب سے ایئر لائن چارج کرتی ہے جو تقریباً پانچ ہزار روپے پاکستانی بنتے ہیں۔اب چونکہ آبِ زم زم لامحدود مقدار میں لانا ممکن نہیں رہا تو یارانِ نکتہ دان نے یہ حل نکالا ہے کہ پانچ لٹر کی بوتل میں پانچ لٹر پاکستان آ کر پانی ملا دیتے ہیں۔ یوں آبِ زم زم کی فرمائش تو پوری ہو جاتی ہے، مگر وہ آدھا خالص ہوتا ہے۔بعض لوگ ایسا نہیں کرتے اور ایک بہت چھوٹی بوتل لے کر اُس میں گھونٹ دو گھونٹ خالص آبِ زم زم ڈال دیتے ہیں تاکہ سب تک پہنچ سکے۔پاکستان میں کچھ لوگ آبِ زم زم بیچتے بھی ہیں۔ دعویٰ یہی کرتے ہیں کہ خالص ہےلیکن وہ کیسے لاتے ہیں اِس بارے میں کوئی مستند ثبوت موجود نہیں۔
دوسری سوغات کھجوریں ہیں،کھجوروں میں سب سے مقبول کھجور عجوا ہے۔ یہ کالے رنگ کی ہوتی ہے اور مٹھاس کے معاملے میں اس کا پوری دنیا میں کوئی ثانی نہیں۔ اس کاروبار سے زیادہ تر پاکستانی وابستہ ہیں۔مکہ اور مدینہ میں حرم کے آس پاس اور مسجد ِ نبویؐ سے ملحقہ شاپنگ مالز میں اس کی دکانیں موجود ہیں۔ آپ جونہی باہر نکلتے ہیں جگہ جگہ پاکستانی کھڑے عجواعجوا کی آوازیں لگا رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں دوستوں نے مشورہ یہی دیا تھا کہ کھجوریں مدینہ سے خریدنا، وہاں اچھی بھی ملتی ہیں اور سستی بھی۔لیکن ایک بات یاد رکھیں اس کاروبار کی نفسیات بھی یہی ہے کہ آپ بھاؤ کے لئے جوڑ توڑ کریں،پھر یہ بات بھی سیکھی کہ عجوا کھجور کوئی ایک قسم کی نہیں ہوتی ، نہ ہی اُس کا نرخ ایک ہوتا ہے۔ یہ آپ پر ہے کہ کیسے انتخاب کرتے ہیں۔عجوا کھجور دکھانے والے آپ کو پہلے مہنگی ترین دکھائیں گے،جو30سے35ریال فی کلو تک ہو گی۔اس کا مقصد آپ کو ذہنی طور پر تیار کرنا ہوتا ہے۔عجوا میں فرق صرف سائز کا ہوتا ہے جو بڑی ہوتی ہے اس کا ریٹ زیادہ ہوتا ہے،جو درجہ بدرجہ چھوٹی ہوتی جائے قیمت بھی کم ہوتی جاتی ہے۔
سائز میں بھی کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا بس وہ آپ کو مختلف ڈبوں میں رکھی ہوئی کھجوریں دکھا کر اُلجھا دیتے ہیں۔اچھی عجواکھجور بھاؤ تاؤ کے بعد 12سے13ریال فی کلو میں مل جاتی ہےمگر اس کے لئے آپ کو تھوڑا مارکیٹ پھرنی پڑتی ہے۔عجوا کھجور اگر کوئی بہت سستی دے رہا ہے تو پھر سمجھ جائیں کہ وہ باسی ہے اور کئی ہفتوں کی رکھی ہوئی ہے۔ اسے آپ کھائیں گے تو تھوڑی سی کھٹاس محسوس کریں گے، پھر اُس میں باسی پن کی بو بھی آ رہی ہو گی۔فریش عجوا کھجور لیں کیونکہ آپ نے مدینہ سے خرید کر مکہ واپس جانا ہے، وہاں بھی قیام کرنا ہے،اُس کے بعد پاکستان آئیں گے اور اُس کی تقسیم میں بھی کچھ دن لگیں گے۔ عام طور پر ایک کلو میں سو سوا سو عجوا۔کھجور آ جاتی ہیں۔ اس حساب سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کو کتنی کھجور درکار ہو گی۔
پاکستانیوں کی خریداری کا ایک اور مرحلہ تسبیح، ٹوپی اور جائے نماز کی خریداری ہوتا ہے۔اس کی خریداری مکہ سے کرنی چاہئے۔وہاں اس کی ایک دو ریال والی دکانیں بھی ہیں تاہم جو عورتیں اور مرد ابراہیم خلیل روڈ پر زمین کو دکان بنا کے بیچتے ہیں وہ بہت بہتر ہیں ۔اچھی تسبیح، ٹوپی اور جائے نماز ایک دو ریال میں مل جاتے ہیں۔ اصل چیز تو یہ ہے کہ آپ وہاں سے کچھ خرید کر اپنے دوستوں یا عزیزوں کے لئے لائے ہیں، وگرنہ بڑھیا سے بڑھیا چیز تو پاکستان میں بھی مل جاتی ہے۔وہاں ہاتھ کی گھڑیاں بھی سستے داموں مل جاتی ہیں،چین کی بنی ہوئی گھڑی تو دو ر یال میں مل جاتی ہے تاہم جاپانی ساختہ گھڑیاں دس بیس ریال میں ملتی ہیں جو بہت پائیدار اور خوبصورت ہوتی ہیں۔
آج کے کالم میں یہ معلومات اِس لئے لکھی ہیں کہ اکثر دوست اس بارے میں سوال کرتے ہیں۔وہاں یہ سوچ کر جائیں کہ عبادت اپنی جگہ،مگر کاروبار اپنی جگہ ہوتا ہے۔آنکھیں اور دماغ کھلا رکھیں وگرنہ بنارسی ٹھگ وہاں بھی موجود ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)