ہماری فوج، تمہاری فوج، کس کی فوج
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 22 / دسمبر / 2025
گزشتہ چند روز کے دوران اہم اپوزیشن لیڈروں کی طرف سے پاک فوج کے بارے میں ایسے بیانات سننے میں آئے ہیں، جن کی روشنی میں بعض دلچسپ سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔ ایک بیان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کا ہے جو اتوار کوان کے ایکس اکاؤنٹ پر شائع ہؤا ۔اس بیان میں انہوں نے فوج کے بارے میں دعویٰ کیا کہ یہ تو میری فوج ہے۔
اسی نوعیت کا دوسرا بیان عمران خان کی حراست کے دوران احتجاجی مہم کی سربراہی کے لئے نامزد کیے گئے محمود خان اچکزئی کا ہے۔ اچکزئی اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کے صدر اور پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔ چند سال پہلے تک محمود خان اچکزئی مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں قائم اپوزیشن اتحاد پاکستان جمہوری تحریک کے روح رواں تھے ۔ اس دور میں عمران خان نے ان کے انداز بیان کی جیسے نقل اتار کر دکھائی تھی اور ان کے خیالات کے بارے میں جو کچھ ارشاد کیا تھا ، وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ اسے حالات کی ستم ظریفی ہی کہنا چاہئے کہ وہی اچکزئی اب عمران خان کی آنکھ کا تارا ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر کے طور پر نامزد کیے جاچکے ہیں اور تحریک انصاف کی نگرانی میں قائم ہونے والے اتحاد ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کی قیادت بھی انہیں سونپی گئی ہے۔ خیبر پختو نخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی بات سنی جائے تو جانا جاسکتا ہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کے خلاف احتجاج کا فیصلہ و انتظام کرنے کا اختیار محمود خان اچکزئی ہی کو سونپا ہؤا ہے۔
محمود خان اچکزئی نے ویک اینڈ پر تحریک انصاف کے زیر اہتمام آئین کی حفاظت کے مقصد سے منعقد ہونے والی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کئی حوالوں سے فوج کا ذکر کیا تھا۔ ان میں سب سے اہم ان کا یہ فرمان تھا کہ ’کوئی فوج قوم کی مددد و تعاون کے بغیر دہشت گردوں سے کامیاب مقابلہ نہیں کرسکتی‘۔ سیاسی تقاریر میں چونکہ کوئی منطقی نتیجہ اخذ کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا ، شاید اسی لیے محمود خان اچکزئی نے بھی اس مؤقف کی زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ البتہ اگر اس بیان پر غور کیاجائے تو بادی النظر میں سمجھا جاسکتا ہے کہ انہوں نے فوج کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے خواہ کیسے ہی دعوے کرے اور اس مقصد کے لیے جتنی بھی کوششیں کرلے ، وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ کیوں کہ اسے عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ عمران خان کے اس نئے ممدوح کے خیال میں قوم چونکہ تحریک انصاف کے بانی کو ’مرشد‘ مانتی ہے اور انہی کے ’احکامات‘ پر چلے گی۔ اس لیے جس فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف بیان دیا ہو، یہ قوم اس کی حمایت نہیں کرے گی۔
محمود خان اچکزئی بزرگ اور معتبر سیاست دان ہیں۔ ان کی کسی بات کو بدنیتی پر محمول نہیں کرنا چاہئے لیکن اس بیان کو مزید کریدا جائے تو یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ عمران خان کو ملک میں مسائل کی وجہ قرار دینے والی فوج پر قوم اعتبار نہیں کرتی۔ گویا اچکزئی کا مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ اگر آپ دہشت گردوں یا دشمنوں کو ہرانا چاہتے ہیں تو ہم سے رجوع کریں، عمران خان کے ہاتھ پر ’بیعت‘ کریں تب ہی آپ کو قوم کی حمایت حاصل ہوگی اور تب ہی آپ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت سکیں گے۔ ملکی سیاسی و سکیورٹی مسائل کے تناظر میں یہ سوچنے کا ایک دلچسپ زاویہ ہے۔ لیکن اس میں صرف یہ قباحت ہے کہ مقبول پارٹی کے سامنے سر تسلیم خم کرکے قوم کو ساتھ ملانے کے طریقہ سے یہ بری روایت قائم ہوسکتی ہے کہ ہر زمانے میں اپوزیشن میں آنے والی سیاسی پارٹیاں یہی دعویٰ کریں گی کہ فوج کو اگر کامیابی حاصل کرنی ہے تو قوم کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ان سے رجوع کیا جائے ورنہ وہ کامیاب نہیں ہوگی۔ ایسے میں کیا فوج کو ہر بار اپوزیشن کی بات مان کر ہر سیاسی حکومت کو پیغام دینا پڑے گا کہ اب آپ کو گھر جانا پڑے گا کیوں کہ ہمیں قوم کی حمایت چاہئے؟ محمود خان اچکزئی کا تو کوئی نقصان نہیں ہوگا کیوں کہ وہ کل پی ڈی ایم کے لیڈر تھے ، آج پی ٹی کے اپوزیشن اتحاد کے سربراہ ہیں اور مستقبل میں بھی کسی اپوزیشن اتحاد کا حصہ ہوں گے۔ ان کے تو پو بارہ ہی ہوں گے لیکن عمران خان یا شہباز شریف جیسے لیڈروں کا کیا بنے گا جنہیں اقتدار کی خواہش ستاتی رہتی ہے۔
اچکزئی کے بیان کا یہ پہلو بھی غور و خوض کا تقاضہ کرتا ہے کہ اگر جنگی حالات میں فوج کو قومی حمایت درکار ہوتی ہے تو کسی جنگ میں جب اچکزئی کے بقول قوم اس کے ساتھ نہ ہو ، کیا فوج کو ملک کے دشمنوں کے سامنے خاموشی سے تباہ ہونے کا تماشہ دیکھنا چاہئے؟ کیا دہشت گرد فوج میں شامل افسروں و جوانوں کے ذاتی دشمن ہیں یا وہ اس ملک میں انتشار و بدامنی پیدا کرکے مخصوص سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جو دہشت گرد اس قوم کے جوانوں، بچوں و بوڑھوں کو نشانہ بناتے ہیں ، کیا ان کا مقابلہ کرنے والی فوج قوم کی تائید و حمایت کی حقدار ہوگی یا وہ عناصر جو ہتھیار اٹھاکر پاکستان اور اس کے عوام کے خلاف برسر پیکار ہیں؟ کیا بھارت یا افغانستان سے ہونے والی جھڑپوں میں دشمن کے حملہ کا جواب دینے سے پہلے فوج کو ملک میں عوامی ریفرنڈم کراناچاہئے تاکہ یقین ہوجائے کہ اسے عوامی حمایت حاصل ہے اور جنگ میں بھی کامیابی ہی ملے گی۔
اس معاملہ کو سادہ الفاظ میں یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ فوج اگر قوم کی حمایت سے طاقت ور ہوتی ہے تو عوام کی حفاظت بھی تو فوج کی اعلیٰ استعداد ہی وجہ سے ممکن ہوپاتی ہے۔ ورنہ مئی کے دوران پاک فوج کیسے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے پاتی؟ ایسے میں کیا اچکزئی اور فوج کے بارے میں متعدد دیگر دعوے کرنے والوں سے پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا کوئی محب الوطن جنگی حالات میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کا مقابلہ کرنے والی فوج کے علاوہ بھی کسی کی حمایت کر سکتا ہے؟ محمود خان اچکزئی بھلے اپنے بیان سے رجوع نہ کریں لیکن ملک کے سب سیاست دانوں کو یہ ضرور سمجھنا اور سیکھنا چاہئے کہ فوج پر تنازعہ پیدا کرکے ملک کے دفاع اور عوام کی حفاظت کرنے والی فورس کے بارے میں شبہات پیدا نہ کیے جائیں ۔ اس موضوع پر سیاست کو ملک دشمنی کے علاوہ قوم کے ساتھ بے وفائی بھی سمجھا جائے گا۔ یہ وہی عوام ہیں جن کے آئینی حقوق کے لیے اچکزئی کی قیادت میں ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ ملک میں ’حقیقی آزادی‘ کی مہم چلارہے ہیں۔
عمران خان کا ’ایکس ‘ پرجاری بیان بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔ گزشتہ تین سال کے دوران فوج اور اس کی قیادت کے بارے میں عمران خان کے بیانات کو جمع کیاجائے تو وہ تضادات کا مجموعہ ثابت ہوں گے۔ تاہم وہ اب سیاسی لیڈر کی بجائے چونکہ ’مرشد‘ کے رتبے پر فائز ہوچکے ہیں، اس لیے انہیں کسی تضاد کی وضاحت کرنے یا مؤقف تبدیل کرنے کا کوئی عذر دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ انہوں نے قوم میں سیاسی شعور پیدا کرنے کی بجائے درحقیقت جذباتی وابستگی کا ایسا افسوسناک ماحول پیدا کیا ہے جس میں دلیل یا حجت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ تو اس مجبوری سے بھی بدتر غلامی ہے جو ملک میں عائد نت نئی پابندیوں یا انتخابی دھاندلی کے نتیجے میں پیدا ہورہی ہے۔ ’حقیقی آزادی‘ کا نعرہ دیتے ہوئے عمران خان کو اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہئے کہ وہ اپنی بات غیر مشروط طور سے ماننے کی شرط عائد کرتے ہوئے درحقیقت اس قوم کو آزادی کی بجائے ’شخصی غلامی‘ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ایک مرحلے میں یہ نعرے بھلے محسوس ہوسکتے ہیں لیکن تصادم کا بخار اترنے کے بعد جب حالات نارمل ہوں گے تو قوم اس کے ثمرات سمیٹنے کے قابل بھی نہیں رہے گی۔ اسے جمہوری نظام میں فعال رہنے کی بنیادی صلاحیت سے محروم کیا جاچکا ہوگا۔
عمران خان کے بیان کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو محسوس کیا جاسکتا ہے کہ وہ فوج کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے ’فوج تو میری فوج ہے‘ کا اعلان کرکے در حقیقت فوج کے ساتھ تعلق و رابطہ استوار رکھنے کی خواہش کا اظہار رکرہے ہیں۔ نوٹ کرنا چاہئے کہ یہ وہی فوج ہے جس کے بارے میں ان کے نامزد کردہ لیڈر یہ تاثر دیتے ہیں کہ اسے عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے خواہ وہ اپنی جانیں ہی ملک و قوم پر کیوں نچھاور نہ کررہی ہو۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بیان میں وضاحت کی ہے کہ کسی ایک شخص پر تنقید فوج پر تنقید نہیں ہوتی۔ یہ تو ماضی میں بھی ہوتا چلا آیا ہے۔ ایک شخص کا ذکر کرکے درحقیقت عمران خان، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حوالہ دے رہے ہیں۔ تحریک انصاف نے پہلے ان کی تقرری میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی اور اس کے بعد سے مسلسل ان کے خلاف ذاتی نوعیت کی نفرت انگیز مہم چلائی گئی ہے۔ اب عمران خان اسے سیاسی طریقہ قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں۔
کوئی بھی فوج اپنے کمانڈر کی وفادار ہوتی ہے اور عسکری ڈسپلن کے تحت اس کا حکم ماننے اور اس پر عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ ورنہ د نیا کی کوئی فوج کسی جنگی محاذ پر کبھی کامیاب نہ ہو۔ عمران خان نے سیاسی ضرورتوں کے تحت پاک فوج کے سربراہ بلکہ اب چیف آف ڈیفنس فورسز کے خلاف مہم جوئی کے ذریعے فوج اور اس کے کمانڈر کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ’فوج تو میری ہے ۔ ہماری تنقید تو ایک فرد کے خلاف ہے‘ والے بیان پر آسانی سے یہ اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ یہ فوج میں انتشار اور بدنظمی پیدا کرنے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔ یہ بیان درحقیقت دو ہفتے پہلے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات کی براہ راست تصدیق کا سبب بن رہا ہے۔ ایسے بیانات دے کر کوئی سیاسی لیڈر کیوں کر حب الوطنی اور فوج سے وابستگی کا اعلان کرسکتا ہے؟
عمران خان ملکی سیاسی پارٹیوں کی بجائے فوج کو اپنا حریف قرار دیتے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا مقابلہ سیاسی پارٹیوں کے ساتھ نہیں کیوں کہ وہ تو ان کے نزدیک کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں۔ ان کا اصل مقابلہ فوج کے ساتھ ہے جو اسی صورت میں ختم ہوسکتا ہے جب فوج ان کی خواہشات کے سامنے سر جھکا دے گی۔ ملکی فوج سے ایسے ’سرنڈر‘ کی خواہش رکھنے والے لیڈر ایک خاص حد تک ضرور لوگوں کو گمراہ کرسکتے ہیں لیکن تادیر یہ تاثر قائم نہیں رہ سکتا۔ ایسے بیانات اگر کسی خاص ایجنڈے کا حصہ نہیں ہیں تو عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو ان سے گریز کرنا چاہئے۔
ملک میں میری فوج، تمہاری فوج کی بحث ختم کی جائے۔ اگر فوج نے سیاسی معاملات میں مداخلت کے ذریعے حالات خراب کیے ہیں تو سیاسی لیڈر فوجی معاملات میں مداخلت کو اپنا حق سمجھ کر ایسے حالات پیدا نہ کریں جہاں سے واپسی کا راستہ ہی باقی نہ رہے۔