کرک میں پولیس وین پر دہشتگردوں کا حملہ، پانچ پولیس اہلکارشہید

  • منگل 23 / دسمبر / 2025

خیبرپختونخوا کے ضلع کرک کے علاقے گُرگُری میں پولیس موبائل پر حملے کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔ ضلع پولیس کے ترجمان شوکت خان نے واقعے اور جانی نقصان کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تمام شہید ہونے والے اہلکار کانسٹیبل تھے۔

ترجمان کے مطابق شہید پولیس اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل شاہد اقبال، سمیع اللہ، عارف، صفدر اور محمد ابرار کے نام سے ہوئی، جو پولیس موبائل کے ڈرائیور بھی تھے۔ جائے وقوع پر ضلع پولیس افسر سمیت پولیس کی بھاری نفری موجود ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

واقعے کی نوعیت تاحال واضح نہیں ہو سکی، تاہم پولیس ترجمان کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر میں حملے کا نشانہ بننے والی گاڑی کے جلے ہوئے ملبے کو دیکھا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور شہید اہلکاروں کے لیے دعائیں کیں۔ وزیراعظم نے شہدا کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا اور اس مشکل وقت میں حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے پولیس فورس کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیشہ صفِ اول کا کردار ادا کیا اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں۔ پوری قوم اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو سلام پیش کرتی ہے۔ اور ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔

یہ واقعہ صوبے میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے حملوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ گزشتہ ہفتے خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک پولیس اہلکار اور اس کا بھائی شہید ہو گئے تھے۔

اس سے قبل رواں ماہ لکی مروت میں پولیس موبائل کو نشانہ بنانے والے خودکش حملے میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ پانچ زخمی ہو گئے تھے۔ نومبر میں ہنگو میں ایک چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے کے جواب میں کارروائی کے دوران تین پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے۔