دو پاکستان کیوں؟

موجودہ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ قانون سب کے لیے برابر اور قانون کی عملداری کے بغیر نہیں چل سکتا۔ اس وقت آپ دنیا پر ایک نظر دوڑا کر دیکھ لیں آپ کو جتنے معاشرے یا ممالک کامیاب اور ترقی کرتے نظر آئیں گے، ان میں ایک مشترک چیز یہی نظر آئے گی کہ وہاں قانون کی عملداری ہے اور قانون کی بالادستی قائم ہے۔

ان ممالک میں انسانی حقوق کو بھی مقدم رکھا جاتا ہے۔ دوسری طرف جن ممالک میں قانون کی عملداری نہیں، عوام کو قانون پر اعتبار نہیں یا قانون کی دو شکلیں نظر آتی ہیں، وہاں آپ کو بدحالی، بھوک، افراتفری اور انسانی حقوق کی پامالی ہوتی نظر آئے گی۔ اس میں مذہب یا رنگ و نسل کی بھی کوئی تمیز نہیں ہے۔ کئی عیسائی اکثریت پر مشتمل ممالک ہیں جہاں قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور انسانی حقوق کی سرعام پامالی ہو رہی ہے۔ کہیں ہندو اور بدھ مت کی اکثریت والے ممالک ہیں جہاں بھوک و افلاس کے ڈیرے اس وجہ سے ہیں کہ وہاں قانون سب کے لیے برابر نہیں یا قانون پر عملدرآمد میں کوتاہی برتی جاتی ہے۔

جبکہ مسلم اور غیر مسلم تمام وہ ممالک جہاں قانون کی حکمرانی ہے وہاں لوگ خوشحال ہیں اور انسانی حقوق کی قدر کی جاتی ہے۔ ہمارے قریب اور سامنے متحدہ عرب امارات ایک چھوٹا سا خطہ ہے جن کے پاس کوئی بہت زیادہ قدرتی وسائل بھی نہ تھے بلکہ ایک صحرا میں کچھ لوگ خانہ بدوشوں کی طرح آباد تھے۔ جب انہوں نے اپنے ہاں قانون کی بالادستی قائم کی اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی تو پھر بر دوبئی سے ایک جدید دوبئی بن گیا، جن لوگوں نے دوبئی کی سیر کی ہے انہوں نے دیکھا ہوگا کہ آج بھی اصل دوبئی کو محفوظ رکھا گیا ہے جسے بر دوبئی کہا جاتا ہے۔ جو ایک ورثے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ وہ دوبئی پاکستان کے کسی گاؤں کی طرح ہے۔ یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں کہ دوبئی ایک ریت کا صحرا تھا۔ لوگوں کا روزگار اونٹوں اور بکریوں تک محدود تھا۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ دوبئی میں پہلی پختہ سڑک 1969 میں بنی تھی جبکہ پاکستان میں گرینڈ ٹرنک روڈ عرف عام میں جی ٹی روڈ 12 ویں صدی عیسوی میں شیر شاہ سوری دور کی بنی ہوئی ہے۔

کیونکہ برصغیر قدرتی وسائل سے مالامال خطہ تھا اور ہے۔ اب آپ موازنہ کریں کہ ایک ملک میں ترقی کی بنیاد 12ویں صدی میں رکھی جا چکی تھی جبکہ ایک صحرا میں پہلی پختہ سڑک 1969 میں بنائی جاتی ہے۔ اور آج دوبئی کہاں پہنچ چکا ہے اور پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ دوبئی کی ترقی میں سب سے زیادہ محنت پاکستانی، بھارتی اور بنگلہ دیشی افراد کی شامل ہے۔ کیا یہی لوگ اپنی محنت سے اپنے ممالک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں کر سکتے تھے؟ یہ فرق تھا اور ہے قانون کی حکمرانی کا، ہمارے ہاں اکثر یہ بات کی جاتی ہے کہ ہمارے عوام بہت بگڑ چکے ہیں یہ کسی بھی صورت میں قانون پر عمل کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ کہیں یہ بات ہوتی ہے کہ جب تک تعلیم عام نہیں ہوتی، اس وقت تک کچھ نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہی عوام، یہی ناخواندہ مزدور طبقہ دوبئی، سعودی عرب، کویت، قطر اور یورپ کے کسی ایئرپورٹ پر قدم رکھتے ہی قانون پر عملدرآمد کرنے لگتے ہیں کیوں؟ کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ اس ملک میں قانون سب کے لیے برابر ہے اور قانون کی مکمل عملداری ہے۔

پاکستان میں یہ کہا جاتا ہے کہ ہر بندہ خود کو ٹھیک کر لے تو معاشرہ ٹھیک ہو سکتا ہے، یہ سوچ غلط سوچ ہے کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں ہو سکتا کہ ہر بندہ خود کو ٹھیک کر لے۔ کیونکہ خالق کائنات نے انسان کو ایسے تخلیق کر رکھا ہے کہ وہ پیدائشی لالچی، متجسس اور نت نئے کا خواہاں ہے۔ مالک کائنات کو انسانوں کو آزمانا تھا، پھر ان کے لیے ایسے نظام بنوانے تھے جن میں انسان کو اللہ کی منشا کے مطابق چلنے پر مجبور کیا جا سکے۔ یہ وہی نظام تھے جو مختلف اوقات میں اللہ نے اپنے انبیا کرام کے ذریعے بھیجے اور انہیں حکم دیا کہ لوگوں کو اس شریعت پر چلنے کا پابند بناؤ۔ جو قومیں اللہ کے نظام پر چلیں وہ کامیاب ہوئیں اور جنہوں نے وہ راستہ چھوڑ دیا وہ برباد ہوتی رہیں۔

آج بھی جن ممالک نے ایسے نظام بنا رکھے ہیں جس میں انسانوں کی بہتری ہے، انسانوں کے لیے آسانیاں پیدا کی گئی ہیں وہ ممالک کامیاب ہو رہے ہیں، وہاں ترقی ہے اور ہر فرد خوشحالی کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ یہ سب قانون کی برابری اور عملداری کا نتیجہ ہے۔ برصغیر اور افریقہ کے وہ ممالک جو کئی دہائیوں تک غیر ملکی تسلط میں رہے، وہاں آقا و غلام کی رسم پڑ گئی جسے آزادی کے بعد بھی ختم نہ کیا گیا۔ اور غیر ملکی قوتوں کے چیلے جن کو جاگیریں اور عہدے عنایت کیے گئے تھے، وہ بدستور اپنے اپنے ملکوں پر قابض رہے اور ان ممالک میں قانون کی عملداری اور برابری قائم نہ ہو سکی۔ ان ممالک کے وسائل تلاش کرنے میں بھی تساہل برتا گیا اور وسائل کی تقسیم میں بھی ڈنڈی ماری گئی۔

آج پاکستان ان ممالک کی صف میں کھڑا ہے جہاں قانون کی عملداری اس لیے کمزور ہے کہ قانون کسی طاقتور پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ اور کمزور، بے گناہ بھی ہو تو گرفت میں لے لیتا ہے۔ اس طرح لوگوں کا قانون سے اعتبار اٹھ چکا ہے۔ اس کی حالیہ دو مثالیں یہ ہیں کہ پچھلے کئی ماہ سے پاکستان کے ایئرپورٹس پر عام پاکستانیوں کو ظلم کی چکی میں پیسا جا رہا ہے۔ سفری دستاویزات درست ہونے کے باوجود آف لوڈ کیا جاتا ہے۔ سوال پوچھنے پر دھکے مارے جاتے ہیں، کسی کا پاسپورٹ پھاڑ کر ٹکڑے کر دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف سپریم کورٹ کے ایک جج صاحب اسلام آباد ایئرپورٹ پر مناسب پروٹوکول نہ ملنے پر برس پڑتے ہیں اور ایک نجی ایئر لائن کے مینجر کے خلاف فوری کارروائی کا حکم صادر کر دیتے ہیں۔ کیونکہ جج تو معزز ہیں ناں۔

اسی طرح پنجاب میں ٹریفک کو درست کرنے کے بہترین کام کا آغاز ہوتا ہے مگر یہ مشق نہایت غریب اور مزدور طبقے سے شروع کی جاتی ہے۔ جبکہ اشرافیہ سرکاری پروٹوکول کے ساتھ حرکت کرتی ہے۔ اگر ترقی کرنی ہے تو محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا وہ فرمان یاد کر لو کہ اگر اس چور خاتون کی جگہ میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو یہی حکم صادر کیا جاتا۔