2025 کے پچھتاوے
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- منگل 23 / دسمبر / 2025
دن کتنی تیزی سے گزرتے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ سال بھی اپنے اختتامی مراحل میں ہے۔ ویسے بھی ایک عرصے سے نا تو نئے سال کے آ نے کا پتہ چلتا ہے اور نہ ہی اس کے جانے کا۔ ہر آ نے والے نئے سال سے بہت سی امیدیں باندھی جاتی ہیں اور بر نہ آ نے پر پچھتاوے اور خسارے یاد آ نے لگتے ہیں۔
سو یہ سال بھی اپنے ساتھ بہت سے خساروں اور پچھتاوں کی گھٹری باندھ کر رخصت ہورہا ہے۔ اور نئے سال سیے ایک بار پھر نئی امیدیں اور توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔ کہتے ہیں کہ سال میں کچھ نیا نہیں ہوتا، بس روز کیلنڈر پر تاریخ بدل جاتی ہے۔ حالانکہ ہر آ نے والا نیا دن ہمارے لئے نئی چیزیں نئے منظر اور نئے تجربات لے کر آ تا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عیسوی سال کا آخری مہینہ دسمبر آ تا ہے،۔ سال کے سارے زخم ہرے ہونے لگتے ہیں شاعروں کی درد بھری شاعری کا سوز و گداز بھی بڑھنے لگتا ہے۔ گویا سب کا درد دسمبر ہے والی صورت حال نظر آ تی ہے۔
یوں بھی دسمبر کو وچھوڑے کا موسم کہا جاتا ہے۔ سال جاتے جاتے کئی پیاروں کو چیھن کر لے جاتا ہے۔ پاکستانی تاریخ میں 16 دسمبر سانحہ مشرقی پاکستان اور سانحہ اے پی ایس کی وجہ سے خاصا دلگیر ہے۔ یہ دن اور اس کی یاد بہت سے دل پر کچوکے لگاتی ہے۔ ماہ دسمبر دھند کی شدت کا بھی مہینہ ہے۔ دبستان ملتان کے ایک اہم افسانہ نگار اور شاعر ڈاکٹر عرش صدیقی کی مشہور نظم اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے، سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوتی ہے۔
سرکاری ملازمین کی سالانہ ترقیوں کا دارومدار بھی اسی دسمبر پر ہوتا ہے جس میں بہت سوں کے سر کڑاہی اور انگلیاں گھی میں ہوتی ہیں اور کچھ لوگوں کے لئے ہم رہے پیاسے کے پیاسے، لاکھ ساون آ گئے، والی صورت حال ہوتی ہے۔ نئے سال سے بہت سوں کی امیدیں بندھی ہوتی ہیں۔ کسی کی پوری ہوتی ہیں اور بہت سوں کی امیدوں پر پانی پھرتا نظر آ تا ہے۔ سال کا اختتام بہت سی شادیوں کی تقاریب پر ہوتا ہے اور کئی منچلے نئے سال میں اپنے چہرے پر سہرا سجانے کا خواب دیکھتے اور اس کی تعبیر کے لئے دعائیں مانگتے ہیں۔
اسی نئے عیسوی سال کے آخری ماہ میں کرسمس کا تہوار منایا جاتا ہے۔ اور بانی پاکستان حضرت قائد اعظم رح کے یوم پیدائش پر ان کے فرمودات کو یاد کرتے ہوئے ان ہر عمل پیرا ہونے کے دعوی کئے جاتے ہیں۔ سو ہر بدلتے ہوئے سال کی طرح اس سال کو پچھتاووں اور خساروں کا سال قرار دیتے ہوئے آ نے والے نئے سال سے توقعات باندھی اور امیدیں لگائی جا رہی ہیں۔
سال 2025 میں بھی حکومتی اہداف پورے نہیں کئے جا سکے۔ پی آئی اے سمیت کئی اداروں کی نج کاری ممکن نہیں ہو پائی۔ اسٹیل مل کی بدحالی اور ریلوے کی چال بے ڈھنگی کو بھی تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ تعلیمی معیار کی بہتری کے دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ صحت کے مسائل اور معاملات بھی جوں کے توں ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے جن کو کو بھی بوتل میں واپس نہیں ڈالا جا سکا۔ نوجوان ملک سے باہر جانے اور ڈنکیاں لگانے سے نہیں رک پائے۔
بدامنی اور دیشت گردی کے واقعات کو نہیں روکا جا سکا۔ حکومت اور اپوزیشن کے بہتر تعلقات اور نظام کو صحیح پٹری پر چلانے کے کئے مثبت اقدامات میں کامیابی حاصل نہیں ہو پائے۔ حکومت کو پچھتاوا ہے کہ ناجائز تجاوزات کے خلاف آ پریشن کے باوجود تجاوزات قائم و دائم ہیں۔ مہنگائی موجود ہے ،جرائم کا خاتمہ نہیں ہو پایا، کرہشن کی کہانیاں عروج پر ہیں۔ دوسری طرف پٹرول اور بجلی کی قیمتیں کم نہ ہونے پر بیچارے عوام حیران و پریشاں ہیں، مہنگائی اور بے روزگاری سے نبرد آ زما ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالی اور شخصی آ زادی کے نہ ہونے کا رونا رو رہے ہیں، خواتین کے حقوقِ کی تحفظ کی آ وازیں آ رہی ہیں۔
عوام کے شانوں پر بھاری بوجھ ڈالنے اور کڑی شرائط ماننے کے باوجود آ ئی ایم ایف کا کشکول ٹوٹتا نظر نہیں آتا بلکہ ائی ایم ایف نے کئی ارب کی کرہشن کی نشان دہی کر دی ہے۔ بجٹ کے اہداف بھی پورے نہیں ہو پائے ایسے میں یہی شعر حس حال لگتا ہے کہ:
کتاب عمر کا اتنا سا گوشوارہ ہے
تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارہ ہے
سو خساروں کے اس سال کے ساتھ ہم آ نے والے نئے سال سے پھر بہت سی توقعات باندھیں گے کہ ایک عرصے سے ہم یہی کررہے ہیں۔ ہم نے نہ تو رستہ بدلا ہے اور نہ ہی رہنما اور نہ ہی ہم نے اپنی منزل کا تعین کیا ہے۔ سو سال 2025 کے ان باقی ماندہ دنوں کو غنیمت سمجھتے ہوئے ہم نئے سال کی خوش گمانیوں اور خوش خبریوں کا کھلے دل سے انتظار کریں اور دھند موسم سے میسر ہوتے دھوپ لمحوں سے خوشیاں کشید کریں:
کسی کو دیکھوں تو ماتھے پہ ماہ و سال ملیں
کہیں بکھرتی ہوئی دھول میں سوال ملیں
آؤ کچھ دیر دسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں
یہ فرصتیں ہمیں شاید نہ اگلے سال ملیں