دھمکیوں کی زبان میں مذاکرات کی ’ پیش کش‘
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 23 / دسمبر / 2025
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک ایسے ماحول میں ایک بار پھر اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی ہے جب تحریک انصاف کی سرکردگی میں قائم ’ تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ 8 فروری کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اور وفاقی حکومت کے نمائیندوں نے اعلان کیا ہے کہ حکومت 8 فروری تک کسی کو عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں دے گی۔ حالانکہ تحریک انصاف واضح کرچکی ہے عمران خان سے ملاقات کے بغیر کوئی سیاسی پیش رفت ممکن نہیں ہے۔
حکومت اب عمران خان سے ملاقات پر پابندی کو ایک ایسے انتظامی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کررہی ہے جس کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ عمران خان کا کوئی سیاسی بیان سامنے نہ آسکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ایک سزا یافتہ مجرم کو جیل میں سیاسی گفتگو کرنے اور سیاسی احتجاج کے لیے پیغام رسانی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ حکومت کا یہ مؤقف درحقیقت ملک میں سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ ویک اینڈ پر تحریک انصاف کی قومی کانفرنس میں اسی پس منظر میں غم و غصہ کا اظہار سننے میں آیا۔ حکومت عمران خان کی سیاسی حیثیت کو نیوٹرلائز کرنے کی خواہاں ہے اور دوسری طرف ان کی بہنیں ، بیٹے اور تحریک انصاف کے لیڈر مسلسل یہ پروپگنڈا کررہے ہیں کہ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہےاور انہیں بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں۔ عمران خان کے بیٹوں نے تو برطانیہ میں دیے گئے ٹی وی انٹرویوز میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ انہیں سزائے موت کا انتظار کرنے والے قیدیوں کی چھوٹی سی کوٹھری میں بند کیا گیا ہے۔ اور پینے کے لیے کثیف پانی دیا جاتا ہے۔
تناؤ کے اس ماحول میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ کے اجلاس میں ایک بار پھر اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کی پیش کش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن سیاسی ڈائیلاگ کی آڑ میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کسی مذموم کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔حکومت پاکستان ملکی ترقی و خوشحالی اور سیاسی ہم آہنگی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے پرامن ڈائیلاگ کے اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو متعدد بار ڈائیلاگ کی پیشکش کی جا چکی ہے۔ سیاسی ڈائیلاگ کو بلیک میلنگ اور امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔
اسی دوران علیمہ خان نے اپنی بہنوں اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ایک بار پھر عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل کی طرف جانے کی کوشش کی لیکن انہیں روک دیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے حسب سابق اڈا چوک پر دھرنا دیا لیکن پولیس نے اس بار بھی علیمہ خان اور ان کے ساتھیوں کا دھرنا ختم کرادیا ۔ حکومت اپنے اس اقدام کا کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کرسکی لیکن سیاسی بیانات میں یہی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ عمران خان کو ایک قیدی کے طور پر سیاسی سرگرمیوں اور احتجاج کے لیے منصوبہ بندی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ معاملہ ابھی تک اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر غور نہیں آیا تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ عدالت، قید کاٹنے والے ایک سیاسی لیڈر کے ساتھ ملاقاتوں پر اس یک طرفہ پابندی کو کیسے دیکھتی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سال کے شروع میں ہفتہ میں دو دن اہل خاندان اور وکلا کو عمران خان سے ملنے کی اجازت دی تھی۔ تحریک انصاف اس حکم کی وجہ سے حکومتی اقدام کو توہین عدالت بھی قرار دیتی ہے تاہم عدلیہ نے ابھی تک اس صورت حال کا جائزہ نہیں لیا ۔ عدلیہ نے عمران خان کو ملنے والی سزاؤں یا ان سے ملاقاتوں میں پیش آنے والی مشکلات کی درخواستوں پر کوئی خاص سرگرمی بھی نہیں دکھائی۔ اس تاخیر کی وجہ سے بھی تحریک انصاف یہ دعویٰ کرتی ہے کہ 26 اور 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتوں کو بے اختیار اور ناقابل اعتبار بنا دیا گیا ہے جہاں سے انصاف نہیں مل سکتا۔
ان حالات میں یہ کہنا نامناسب نہیں ہوگا کہ ملک کے متعدد معتبر سیاسی لیڈر اگرچہ سے سیاسی مکالمہ کو موجودہ بحران سے نکلنے کا واحداور مناسب راستہ قرار دیتے ہیں لیکن حکومت اور تحریک انصاف کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان مذاکرات کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوپاتی۔ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے لاہور میں ’خواجہ رفیق شہید کانفرنس‘ میں بھی دلائل دیے گئے ۔ مذاکرات کی ضرورت پر زور دینے والوں میں مسلم لیگ (ن) کے متعدد لیڈر بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ دو روز پہلے تحریک انصاف کے زیر انتظام سیاسی پارٹیوں کی قومی کانفرنس میں بھی نئے میثاق جمہوریت اور مذاکرات کی گونج سنائی دی تھی۔ حتی کہ احتجاج یا مذاکرات کے لیے عمران خان کے مقرر شدہ نمائندے محمود خان اچکزئی نے بھی اگرچہ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے شعلہ بار تقریر کی لیکن انہوں نے بھی مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ البتہ اس کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیہ میں مذاکرات یامیثاق جمہوریت کے لیے کوششیں جاری رکھنے کی بجائے، شٹر ڈاؤن وپہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا اور تمام شرکا سے کہا گیا کہ وہ اس مقصد کے لیے ابھی سے تیاری شروع کردیں۔ اس دوران ’ایکس‘ پر عمران خان نےایک پیغام میں خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو ہدایت دی کہ عوامی احتجاج کی تیاری کی جائے۔ بیان میں عمران خان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’حقیقی آزادی کی جد و جہد میں وہ شہادت قبول کے لیے بھی تیار ہیں‘۔ شہادت کا حوالہ دے کر عمران خان نے اشتعال پیدا کرنے اور اپنے حامیوں کو جوش دلا کر حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
کابینہ کے اجلاس میں مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کی وارننگ کا اصل مقصد بھی شاید عمران خان کے سخت بیان اور ’ تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کی طرف سے 8 فروری کو ملک گیر احتجاج منظم کرنے کے اعلان کا جواب دینا ہو۔ اس طرح دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کو ایک دوسرے کو مطعون کرنے اور سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ دونوں طرف سے بات چیت کو واحد راستہ قرار دینے کے باوجود کوئی ایسی سنجیدہ کوشش دکھائی نہیں دیتی جو مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کی راہ ہموار کرسکے۔ حکومت کوئی شرط مانے بغیر باچت چیت کے نام پر تحریک انصاف کو انگیج کرنا چاہتی ہے تاکہ فوری طور سے ملکی سیاست میں تصادم و اشتعال کا ماحول کم ہوسکے۔ دوسری طرف تحریک انصاف تفصیلی سیاسی مکالمہ کی بجائے قبل از وقت کچھ مطالبے منوانا چاہتی ہے۔ گزشتہ سال قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی کوششوں سے شروع ہونے والے مذاکرات تحریک انصاف کے اس مطالبے پر ختم ہوگئے تھے کہ سانحہ 9 مئی اور 26 نومبر کے مظاہروں کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنائے جائیں۔ اب یہ عذر تراشا جارہا ہے کہ عمران خان سے ملاقاتیں شروع ہونے سے پہلے بات چیت ہونا محال ہے۔
علیمہ خان نے وزیر اعظم کی پیش کش پر تبصرہ کرتے ہوئے یہی دلیل پیش کی ہے کہ عمران خان سے ملاقاتیں بند کرکے اور جیل میں ان کی سہولتیں محدود کرکے مذاکرات کی بات ناقابل قبول ہے۔ ان کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ حکومت صرف اس وقت مذاکرات کا راگ الاپتی ہے جب عمران خان احتجاج کی کال دیتے ہیں۔ بعض صحافی یہ دعویٰ بھی کررہے ہیں کہ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان سے مذاکرات ہی کرنے ہیں تو فیلڈ مارشل کو معلوم ہے کہ عمران خان کہاں ہیں۔ گویا وہ تجویز کررہی ہیں کہ حکومت یا وزیر اعظم غیر متعلقہ ہیں ۔ اگر بات چیت ہونا ہے تو براہ راست فوج اور تحریک انصاف کے درمیان ہی ہوسکتی ہے۔ یہی مؤقف عمران خان بھی اختیار کرتے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک موجودہ حکومت ’مینڈیٹ چور، کرپٹ اور بے اختیار‘ ہے۔ اس لیے اس سے بات چیت نہیں ہوسکتی۔ جبکہ فوج نے واضح کردیا ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ براہ راست بات چیت میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ کسی بھی سیاسی جماعت کو حکومت سے رابطہ قائم کرنا چاہئے۔ دو ہفتے پہلے آئی ایس پی آر کی طرف سے عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف جاری ہونے والی چارج شیٹ کے بعد اسٹبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان بات چیت کی رہی سہی امید بھی ختم ہوچکی ہے۔ ان حالات میں علیمہ خان کی طرف سے فیلڈ مارشل کو عمران خان سے ملاقات کا پیغام ، اپنی سیاسی پوزیشن کے بارے میں مبالغہ آمیز گمان پر مشتمل ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے لیے دو شرائط پوری ہونا ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ فریقین ایک دوسرے کے لیے احترام کا رویہ اختیار کریں جو فی الوقت ناپید ہے۔ دوسرے اس بات چیت کے لیے ان امور کا تعین ہوسکے جن پر مل بیٹھ کر غور کیا جائے گا اور سیاسی لین دین ہوگا۔ تحریک انصاف کی قومی کانفرنس میں کی گئی تقریروں یا وزیر اعظم کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش میں یہ دونوں عنصر موجود نہیں ہیں۔ تحریک انصاف اور اس کی حامی جماعتیں شاید ایک بار پھر احتجاج و ہڑتال کے ذریعے اپنی سیاسی طاقت کا جائزہ لینا چاہتی ہیں اور حکومت اس طاقت کا زور توڑے بغیر کوئی رعایت دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ حالانکہ وزیر اعظم کو سیاسی مذاکرات کے لیے ’چال بازی‘ سے کام لینے یا امن و امان کے حوالے سے وارننگ دینے کی بجائے کچھ رعایت دے کر مذاکرات کی پیش کش کرنی چاہئے تھی تاکہ غیر جانبدار مبصرین حکومت کی سنجیدگی اور نیک نیتی مشاہدہ کرسکتے۔ اگر فریقین ایک دوسرے کو تولنے کے علاوہ بات چیت کا نام لیتے ہوئے دھمکیوں کی زبان استعمال کرتے رہے تو میثاق جمہوریت کے امکانات ناپید رہیں گے۔
وزیر اعظم کو ریاستی طاقت پر غیر ضروری بھروسہ کرنے کی بجائے مکالمہ کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کرنا چاہئے تاکہ یہ مانا جاسکے کہ حکومت واقعی تصادم کی بجائے مصالحت پر یقین رکھتی ہے۔ جب تک مذاکرات کے ایجنڈے میں عمران خان کے حوالے سے رعایات اور مڈ ٹرم انتخابات کے بارے میں کوئی اشارہ شامل نہیں ہوگا، مذاکرات کے دعوؤں اور بات چیت سے معاملات طے کرنے کے دعوے کھوکھلے اور بے بنیاد سمجھے جائیں گے۔