وقت کی آواز سنیں
- تحریر نسیم شاہد
- بدھ 24 / دسمبر / 2025
سوال تو جناب مجیب الرحمن شامی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خوب اٹھایا ہے کہ آپ کب تک نظام کو اِسی طرح چلاتے رہیں گے،سزاؤں پر سزائیں دیں گے اور یہ توقع رکھیں گے کہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔
انہوں نے جنگوں کی مثال دی۔دو ممالک بھاری نقصان کے باوجود بالآخر مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں اور اختلافات کا حل نکالتے ہیں۔ خود پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگوں کے بعد مذاکرات کے ذریعے معاہدے ہو چکے ہیں۔ ایسی باتیں بہت اہمیت رکھتی ہیں،ان پر توجہ دی جانی چاہئےلیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسا ماحول بنا دیا جاتا ہے کہ حل کی طرف کوئی نہیں جاتا،طاقت اور محاذ آرائی کے ذریعے وقت گزارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔پاکستان کو آگے بڑھنا چاہئے۔ ہر ایک کی خواہش یہی ہے،مگر اس کے لئے جو کشادہ نظری چاہئے،وہ کہیں نظر نہیں آ رہی۔ اس وقت دو چیزیں بالکل واضح ہیں۔ایک طرف طاقت اور دوسری طرف مزاحمت۔
شامی صاحب کی اس بات میں بہت وزن ہے کہ آپ دس سال سزا دے کر پھر دس سال سزا دیتے ہیں،اس سے کیا حاصل ہو سکتا ہے۔ اس سے تو میرے نزدیک دِلی تشفی ہو سکتی ہے کہ سزا پر سزا دی جا رہی ہے اور ہمیں کامیابی پر کامیابی مل رہی ہے۔ ہر طرف سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ ملک میں انتشار بڑھ رہا ہے۔ مذہبی حلقے بھی یہی کہہ رہے ہیں، سیاسی حلقے بھی اِسی بات پر متفق ہیں،وکلا تنظیموں کی طرف سے بھی کہا جا رہا ہے ملک کو آئین اور قانون کے مطابق چلایا جائے۔اُس کے بغیر کمزور ہو رہا ہے۔حیران کن امر یہ ہے کہ وہ سیاسی قوتیں جو حکومت میں ہیں یا مقتدر حلقوں کے ساتھ ہیں، اِس حوالے سے کوئی دباؤ محسوس نہیں کررہیں۔
سیاسی جماعتوں کے بارے میں تو کہا جاتا ہے اُن کا ہاتھ حالات کی نبض پر ہوتا ہے۔ پھر یہ سیاسی جماعتیں کیوں یہ محسوس نہیں کر رہیں کہ حالات کو نارمل کرنا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ مسلم لیگی رہنما سعد رفیق نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی حالات کو نارمل کرنے کے لئے نواز شریف پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا کردارا دا کریں گے۔ مگر کیا نواز شریف اِس صورتحال میں کوئی آزادانہ کردار ادا کر سکتے ہیں جب اُن کی حکومت اقتدار میں ہے اور مرکز و پنجاب کی حکومتیں چلا رہی ہے۔ووٹ کو عزت دو ، والے نعرے کو اس طرح تو زندہ نہیں کیا جا سکتا کہ حالات بھی جوں کے توں رہیں اور وقت کی رفتار بھی تبدیل ہو جائے۔
یہ بات تو اب مان لینی چاہئے کہ طاقت کے استعمال سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکے۔ سزائیں، گرفتاریاں اور نااہلیاں جلتی پر تیل کا کام تو کرتی رہی ہیں، آگ کو بجھا نہیں سکیں۔جب اتنا طویل دورانیہ گزر جائے اور نتائج توقع کے مطابق نہ نکل سکیں تو حکمت عملی تبدیل کرنی پڑتی ہے۔اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔بس ایک ہی راستہ اپنا لیا گیا ہے کہ سختی کریں گے تو حالات بدل جائیں گے،بدلنے ہوتے تو اتنا لمبا عرصہ کافی ہوتا ہے۔ نہیں بدلے تو سوچنا چاہئے کہ کب تک یہ صورتحال جاری رہے گی۔میرا ذاتی خیال یہ ہے ابھی تک عمران خان سے اسٹیبلشمنٹ یا کسی اور نے سنجیدہ رابطہ کیا ہی نہیں۔ سب کی حکمت عملی یہی ہے کہ عدالتیں سزائیں دیتی رہیں گی تو یہ ’بَلا‘ خودبخود ختم ہو جائے گی۔تاریخ کو اگر پڑھ لیا جائے تو بہت سے سوالوں کا جواب مل جاتا ہے۔تاریخ یہ کہتی ہے کہ جب کوئی سیاسی رہنما جیل کی زندگی پر قناعت کرے، اس کا عادی ہو جائے،اُس سے بچنے کے لئے کوئی خواہش نہ کرے تو اُس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
نیلسن منڈیلا کی مثال سامنے ہے۔ اب یہ اُن طاقتوروں پر منحصر ہوتا ہے وہ صورتحال کو کتنا طول دینا چاہتے ہیں۔طول دینے سے وقت تو مل جاتا ہے لیکن حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ایک چیز ہوتی ہے سیاسی استحکام، اسے ہر ملک بہت اہمیت دیتا ہے۔ کیونکہ سیاسی استحکام کی بدولت ہی ملک میں سرمایہ کاری آتی ہے،بے یقینی ختم ہوتی ہے اور ملک ترقی کرتا ہے۔ سیاسی استحکام کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی قوتیں تقسیم نہ ہوں۔ اختلافات کا ہونا ممکن ہے مگر اس پر تمام سیاسی قوتوں کا یقین ہونا چاہئے کہ ملک میں محاذ آرائی کا خاتمہ ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی ہم آہنگی پیدا ہو۔ موجودہ حالات میں جو چیز سب سے زیادہ ناپید ہے وہ ہم آہنگی ہے۔اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی قسم کا رابطہ ہی نہیں ہے۔اپوزیشن تحریک تحفظ پاکستان کے نام سے اپنی پریس کانفرنسیں اور اجتماعات کر رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن علیحدہ اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے،اس سے بات تک کرنا خارج ازامکان ہو چکا ہے۔اب ان حالات میں بے یقینی تو بڑھے گی، ملک کا استحکام تو متاثر ہو گا اور معاشی حالات بھی مستحکم نہیں ہو سکیں گے۔
یہ مان لیتے ہیں کہ موجودہ حالات میں موجودہ رجیم کو کوئی بہت بڑا چیلنج درپیش نہیں۔ بظاہر گرفت مضبوط نظر آ رہی ہےلیکن ایک عام آدمی بھی سمجھتا ہے کہ صورتِ حال آئیڈیل نہیں۔ایک دباؤ ہے جو فضاؤں میں محسوس ہوتا ہے۔جہاں آپ کو ابنارمل حالات رکھنے پڑتے ہوں، ایک قیدی سے ملنے پر بڑا ایشو کھڑا ہو جائے اور پھر ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے رات گئے واٹر کینن کا استعمال کرنا پڑے۔ عدالتیں سزائیں سناتے ہوئے عدالتی روایات کا خیال بھی نہ رکھیں اور فیصلوں کے عمل کو شفاف بھی نہ رکھیں بلکہ مزید اُلجھا دیں تو یہ سب ابنارمل حالات کا عکس ہے۔
پاکستان کو بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے، حالات اِس بات کے متقاضی ہیں کہ قوم اور پارلیمنٹ متحد ہو کر یکساں لائحہ عمل تیار کریں۔تاریخ کا کوئی ایک غلط فیصلہ ہمارے لئے بڑے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔مذاکرات اور دِلوں کے دروازے کھولنے ہوں گے۔ پاکستان 25کروڑ لوگوں کا ملک ہے فیصلے اُن کی منشا کے مطاق ہونا چاہئیں۔ وہ آواز سننی چاہئے، جو جناب مجیب الرحمن شامی نے اٹھائی ہے،جس کا لب ِ لباب یہی ہے کہ مذاکرات کے دروازے کھولے جائیں اور قوم کے مسائل کا حل نکالا جائے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)