فوج کا بیان حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے!
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 24 / دسمبر / 2025
پاک فوج نے ملک کے سیاسی و غیر سیاسی عناصر کو یکساں طور سے متنبہ کیا ہے کہ انہیں قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے اور فوج و عوام کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 273ویں کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد آئی ایس پی آر نے ملک میں امن و امان اور قومی سلامتی و یک جہتی کے بارے میں اپنی دو ٹوک رائے پیش کی ہے۔
فوج کی اعلیٰ ترین قیادت کی جانب سے یہ انتباہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک کی اپوزیشن اور حکومت ایک طرف ایک دوسرے کو چیلنج کررہی ہیں تو دوسری طرف سے مذاکرات اور افہام و تفہیم کی باتیں بھی سننے میں آ رہی ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کو مذاکرات کی مشروط پیش کش کی تھی۔ بد قسمتی سے اپوزیشن اس وقت کسی ایک لیڈر کی قیادت میں یک آواز اور متحد دکھائی نہیں دیتی لیکن ویک اینڈ پر تحریک انصاف اور ’ تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی قومی کانفرنس میں بھی مقررین نے اس بات پر زور دیا تھا کہ بات چیت کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہئے اور ملک میں نئے میثاق جمہوریت کے لیے کام ہونا چاہئے۔ اسی طرح لاہور میں ’خواجہ رفیق شہید کانفرنس‘ میں حکومت کے حامی مقررین نے بھی اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
تاہم مذاکرات کی خواہش موجود ہونے کے باوجود اس پر عمل درآمد میں متعدد مشکلات حائل ہیں۔ ملک کے عام لوگوں کے لیے تو یہی سوال سب سے اہم ہے کہ اگر تحریک انصاف اور حکومت یکساں طور سے مذاکرات کے ذریعے کوئی راستہ نکالنے کو ہی مسائل اور سیاسی تصادم کا واحد حل سمجھتی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ فریقین مل بیٹھ غور و فکر کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ تو یہی ہے کہ مذاکرات کی بات کرنے کے باوجود دھمکیاں دینے اور ماحول خراب کرنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جیسے وزیر اعظم نے اگرچہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی لیکن ساتھ ہی متنبہ کیا کہ کسی کو ملکی امن و امان کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حالانکہ اگر اس بیان میں وہ اس وارننگ کو نہ بھی شامل کرتےتو اس سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ جب سیاسی فریق بات چیت کے لیے مل بیٹھنے پر آمادہ ہوجائیں گے تو سڑکوں پر احتجاج یا انتشار کے ہتھکنڈے ازخود اپنی موت آپ مرجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب ملک میں فعال نظام حکومت موجود ہے تو اسی سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ سیاسی احتجاج کے نام پر شر پسندی اور انتشار پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بعینہ یہی رویہ اپوزیشن لیڈروں نے بھی اختیار کیا ہؤا ہے۔ ایک طرف نئے میثاق جمہوریت یا مذاکرات کے ذریعے سیاسی استحکام کی بات کی جاتی ہے تو دوسری طرف 8 فروری کو ملک گیر ہڑتال کی تیاریوں کا اعلان سامنے آتا ہے۔ اڈیالہ میں قید عمران خان خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ کو سڑکوں پر احتجاج کرنے کی تیاری کا حکم جاری کرتے ہیں اور اسے پر اثر بنانے کے لیے یہ فقرہ شامل کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے کہ ’میں حقیقی آزادی کے لیے شہادت قبول کرنے کو بھی تیار ہوں‘۔ اسی ماحول میں ملک کے وزیر دفاع مذاکرات کی باتوں کو خوش آئیند قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم کے علاوہ اپوزیشن کی طرف سے مذاکرات کے اشاروں کو خوش آئیند کہتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ تبصرہ بھی شامل کرتے ہیں کہ ’تحریک انصاف کے ڈی این اے میں سیاسی مفاہمت کا عنصر موجود نہیں ہے‘۔ اس قسم کے بیان درحقیقت اشتعال دلانے اور سیاسی بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی اسے ناکام کرنے کی کوششوں کا حصہ سمجھے جاسکتے ہیں۔
ایک طرف فوج کا اعلان ہے جس میں دہشت گردی، جرائم اور مفاد پرست سیاسی عناصر کے گٹھ جوڑ کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا گیاہے۔ آئی ایس پی آر کے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاک فوج پرعزم ہے اور قومی اتحاد، سلامتی اور استحکام کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا خواہ یہ کوشش سیاسی عناصر کی طرف سے ہو یا غیر سیاسی عناصر ا س میں ملوث ہوں۔’ افواجِ پاکستان اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔ پیچیدہ اور مشکل سیاسی ماحول میں فوج کا یہ بیان دو پہلوؤں سے قابل غور ہے۔ ایک تو فوج کی طرف سے تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف چند ہفتے پہلے ایک سخت پریس کانفرنس میں متعدد الزامات عائد کیے گئے تھے اور اب اس کی طرف سے سڑکوں پر احتجاج کی تیاری کا اعلان سامنے آچکا ہے۔ گویا کور کمانڈر کانفرنس اس صورت حال کو نوٹ کرتے ہوئے ملک کی سیاسی اپوزیشن کو متنبہ کررہی ہے کہ اس کی طرف سے کوئی بے اعتدالی برداشت نہیں ہوگی۔ اس کا دوسرا پہلو بیان میں ’ دہشت گردی، جرائم اور مفاد پرست سیاسی عناصر کے گٹھ جوڑ‘ کے ذکر سے واضح ہوتا ہے۔ فوج اس وقت خاص طور سے خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کا مقابلہ کررہی ہے اور اسی صوبے کی حکومت فوجی اس کارروائی کو ناجائز اور عوامی ضرورتوں کے برعکس قرار دیتی ہے۔ اس کے جواب میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے متنبہ کیا تھا کہ سیاسی عناصر اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروہ دہشت گردوں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ یہ براہ راست تحریک انصاف اور اس کی صوبائی حکومت کے خلاف چارج شیٹ تھی۔ اب کور کمانڈر کانفرنس نے آئی ایس پی آر کے اس بیان کی تائید کی ہے جس پر سنجیدہ غور و خوض کی ضرورت ہے۔
فوج روائیتی طور پر ملکی سیاست میں ’مڈل مین‘ کا کردار ادا کرتی رہی ہے اور متعدد مواقع پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تصادم ختم کرانے میں کردار ادا کرچکی ہے ۔ گو کہ یہ کوششیں درپردہ ہوتی رہی ہیں لیکن ایک ایسا فورم موجود رہا ہے جس پر دونوں فریق اعتماد کرتے رہے ہیں اور اس طرح عسکری قیادت حالات کو تصادم کی بجائے مصالحت سے حل کرانے میں دخیل رہی ہے۔ اب عمران خان کی قیادت میں سیاسی گروہ فوج پر صرف اسی صورت اعتبار کرنے کا اعلان کرتا ہے اگر وہ موجودہ حکمران ٹولے کے خلاف تحریک انصاف سے معاملات طے کرلے۔ بصورت دیگر فوج کو بھی حکومت کا معاون و مددگار قرار دے کر اس پر حرف زنی کو سیاسی طریقہ قرار دیا گیا ہے۔ کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیہ سے واضح ہوتا ہے کہ فوج بھی اب اپنے سابقہ رول کی طرف واپس جانے پر تیار نہیں ہے بلکہ ملکی سیاسی معاملات اور سکیورٹی اقدامات کے بارے میں اپنے مؤقف کو ریڈ لائن قرار دے کر انتباہ دیا جارہا ہے کہ اسے عبور کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔
یہ بیان ملک میں سیاسی پیش رفت کے لیے سنگین رکاوٹ کا سبب بنے گا۔ تحریک انصاف اسے فوج کا اعلان جنگ قرار دے کر اپنی مہم جوئی تیز کرسکتی ہے اور حکمران جماعت فوج کے اس دو ٹوک اعلان یک جہتی کے بعد معاملات صرف طاقت کے زور پر حل کرنے پر اصرار کرے گی۔ حالانکہ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی قیادت کو بخوبی معلوم ہونا چاہئے کہ کسی سیاسی احتجاج اور رائے کے اختلاف کوطاقت اوردھونس یا دھمکیوں کی بجائے مناسب حکمت عملی اور سیاسی لین دین سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ البتہ فوج کی مکمل اعانت کے ماحول میں کوئی بھی سیاسی پارٹی حقیقی سیاسی رویہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ چار پانچ سال پہلے عمران خان نےیہی غلطی کی تھی اور اب شہباز شریف اسی غلطی کا ارتکاب کررہے ہیں۔
یوں لگتا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف ملکی معاملات کو زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھنے کی بجائے ان کا فضائی نظارہ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ضد پر قائم رہ کر سارے مسئلے حل ہوجائیں گے اور اپوزیشن زچ ہوکر خاموش ہوجائے گی۔ سیاست سےا سی لاتعلقی کا نتیجہ ہے کہ وزیر اعظم یا تو غیر ملکی دورے پر ہوتے ہیں یا کسی اجتماع میں ایسی باتیں کرتے ہیں جنہیں سن کر لگتا ہے کہ شاید شہباز شریف کبھی ’بالغ‘ نہیں ہوں گے۔ ایک طرف کور کمانڈر کانفرنس کا انتباہ ہے اور اپوزیشن تصادم پر آمادہ ہے تو دوسری طرف وزیر اعظم نے مظفر آباد کی ایک تقریب میں فرمایا ہے کہ ’افواج پاکستان نے بھارت کو وہ سبق سکھایا ہے جو کہ وہ کبھی نہیں بھولے گا‘۔ یا یہ کہ ’وہ وقت جلد آجائے گا جب کشمیر بنے گا پاکستان اور مقبوضہ کشمیر آزاد ہو گا‘۔ منجھے ہوئے سیاست دان کے طور پر شہباز شریف کو علم ہونا چاہئے تھا کہ ایسے نعروں سے ملکی مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ بھارت کی شکست غریب کے گھر کا چولہا نہیں جلا پائی ۔ اسی طرح ایک علان سے مقبوضہ کشمیر پاکستان نہیں بنے گا۔ ایسا ناقص چورن بیچتے ہوئے، وہ قومی لیڈر کی بجائے کسی گلی محلے کے کونسلر کی سطح کا نو آموز دکھائی دیتے ہیں۔
حکمران جماعت اور اس کے حامیوں کو سمجھنا چاہئے کہ ملکی فوج جب سیاسی اپوزیشن کو متنبہ کرنے پر آمادہ ہوجائے تو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ سیاسی حکومت کی اہلیت و کارکردگی سے مایوس ہورہی ہے۔ اسے اپنئ کامیابی سمجھنے کی بجائے یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہئے کہ اگر آج یہ پیغام اپوزیشن کے لیے ہے تو کل کلاں ایسا ہی کوئی انتباہ اس وقت اقتدار کا مزا لینے والی سیاسی پارٹیوں کو بھی موصول ہوسکتا ہے۔