کرسمس اور نیو ایئر پراعتراضات کیوں

آج بشمول پاکستان پوری دنیا میں کرسمس یعنی عید میلادِ مسیحؑ جوش و خروش اور عقیدت و محبت کے ساتھ منائی جارہی ہے۔ کرسمس یعنی کرائسٹ کی پیدائش کا دن بنیادی طور پر سیدنا مسیحؑ کے ماننے والوں یا دنیا بھر کی مسیحی برادری کا تہوار گردانا جاتا ہے۔

درویش کو اکثر دوست احباب کرسمس اور نیوایئر کے حوالے سے یہ پوچھتے ہیں کہ کیا ہمیں یہ تہوار منانے چاہیں؟ ناچیز کا جواب ہوتا ہے کہ آج کی دنیا میں اقوامِ عالم کے بیشتر تہوار مذہبی سے زیادہ ثقافتی و تہذیبی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ جس طرح آج کے گلوبل ویلیج میں قدیمی روایتی تعصبات ٹوٹ رہے ہیں اور عالمگیر انسانی برادری کا فہم و شعور یا تصور نکھر کر سامنے آرہا ہے، اس میں تہواروں کے حوالے سے بھی ماضی کی گھٹن دم توڑ رہی ہے۔ آج اگر ہم اپنی ماضی کی فقہی کتب کا مطالعہ کریں تو جو بحثیں وہاں چھائی ہوئی تھیں، بڑی حد تک وہ موجودہ قومیتی و عالمی تصورات میں غیر متعلقہ  ہوکر رہ گئی ہیں طہارت کے مسائل سے لے کر کہ کتنے روڑے استعمال ہونے چاہیں، دارالسلام اور دارلحرب کے مباحث تک یہ سارا ذخیرہ ماضی کی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ جدید قومی ریاستوں میں سابقہ قومیتی تعصبات تک بڑی وسعت کے ساتھ بدل چکے ہیں۔ آج ذمیوں سے جزیہ وصول کرنے کی بحثیں بھی غیر متعلقہ یا بےمعنی محسوس ہوتی ہیں۔ اس لیے کہ آج کی جمہوری قومی ریاستوں میں چاہئے کوئی میجارٹی ہو یا مینارٹی حقوق سب کے ایک جیسے مساوی و برابر ہوں گے۔

 یو این ہیومن رائٹس چارٹر نے اپنی تمام دستخط کرنے والی ممبر ریاستوں پر یہ ذمہ داری عائد کررکھی ہے کہ وہ اپنے شہریوں میں امتیازی رویوں کا خاتمہ کریں۔ چاہے وہ امتیازی رویے نسلی و مذہبی ہوں یا جنسی و صنفی۔ آج کی ہر مہذب جمہوری قومی ریاست کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ دیگر تمام امور و معاملات کی طرح قومی تہواروں میں بھی امتیازی رویوں کا خاتمہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ یکسانیت و ہم آہنگی کی کاوش کرے تاکہ ملکی قومیتی افتراق کو اشتراک میں بدلا جاسکے۔ اسی قربت سے قومی یکجہتی قومی طاقت و قوت میں بدلے گی۔
بلاشبہ کسی بھی قوم میں مختلف مذہبی و نسلی فرقوں یا گروہ کو اپنے اپنے عقائد کی مطابقت میں اپنی اپنی خوشیاں یا غمیاں منانے کے حقوق حاصل ہیں۔ لیکن ذمہ دار قومی قیادتوں کی اولین ترجیح قوم کو توڑنے کی بجائے جوڑنا ہونی چاہیے۔ جہاں تک عالمگیر انسانی برادری کا تصور ہے وہ تو قومیتی تعصبات سے بھی اوپر اٹھنے کا تقاضا کرتا ہے جس کے تحت اقوامِ عالم ایک دوسرے کے تہواروں کو مل جل کر مناتے ہوئے انسانی خوشیوں اور غمیوں میں سانجھ پیدا کریں۔

اسی اپروچ کے تحت پاکستان کے تین مرتبہ منتخب ہونے والے پرائم منسٹر نوازشریف نے کئی مرتبہ اپنی ہندو برادری کے بھائیوں اور بہنوں سے یہ کہا تھا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ آپ لوگ مجھے بھی اپنی دیوالی و ہولی کے تہواروں پر اپنے ساتھ شامل کیا کریں۔ یہ امر خوش گوار ہے کہ اب وقت کے ساتھ تدریجاً کرسمس کی خوشیاں پاکستان بھر میں تقریباً مل جل کر منائی جارہی ہیں جن میں ہمارے مذہبی لوگ بھی شامل ہوتے ہیں، کیک کاٹتے ہوئے سیدنا مسیحؑ کی عظیم الشان پیدائش اور ان کی پرعزم جدوجہد پر گفتگو کرتے پائے جاتے ہیں۔ اس مرتبہ تو ایک بہت اچھی روایت قائم ہوئی ہے۔ ہماری پنجاب کی خاتون چیف منسٹر محترمہ مریم نواز سب پر بازی لے گئی ہیں۔ انہوں نے لاہور میں لبرٹی چوک جیسے پررونق اور اہم علاقے میں طویل قدآور کرسمس ٹری لگا کر سیدنا مسیح سے عقیدت و محبت کی درخشاں مثال قائم کر دی ہے، جس کے ساتھ کھڑے ہو کر مولوی لوگ بھی فیملی کے ساتھ تصاویر بنوا رہے تھے۔

ہماری تمنا ہے کہ اس رواداری و محبت سے ہمارے ملک کا سافٹ امیج پوری دنیا میں ابھرے اور یہ درخشاں روایت پیہم ہمیشہ چلتی رہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری مقدس ترین کتاب میں سیدنا مسیحؑ کی پرعظمت پیدائش کے واقعہ کو جس محبت اور صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، وہ انیق و یونیق اور بے مثال ہے اس کتاب میں پروردگار عالم کی طرف سے سیدنامسیحؑ کے لیے کہا جارہا ہے کہ ”سلام ہے اس دن پر جس دن مسیحؑ پیدا ہوئے“۔ اگر ہم اس عظیم المرتبت ہستی کی پیدائش کے حوالے سے کتاب مقدس میں بیان کردہ الفاظ پر غور کریں تو سب سے بڑھ کر خودمسلمان حق بجانب ہیں کہ وہ عیدمیلاد مسیحؑ پورے جوش و جذبے اور عقیدت و تقدس کے ساتھ منائیں۔ اگر ماضی میں اس نوع کی تماثیل نہیں ہیں تو کیا ہوا اگر اس کسوٹی پر جائزہ لیں گے پھر تو ماضی میں ہمارے آقاؐ کی پیدائش یعنی عیدمیلادالنبیؐ کی بھی کہیں کوئی روایت موجود نہیں ہے۔ دورِ خلافت راشدہ میں یا خیرالقرون قرنی میں اس حوالے سے کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔ قرآن و حدیث بھی اس حوالے سے خاموش ہیں۔

 ابھی کل کی بات ہے ہمارے بہت سے راسخ العقیدہ مسلمان عیدمیلادالنبیؐ منانے پر نہ صرف ناک بھوں چڑھاتے تھے بلکہ بعض تو اس پر شرعی حوالے سے اعتراضات اٹھاتے ہوئے سخت نوعیت کے فتاویٰ جاری فرماتے تھے مگر اب وقت کے ساتھ اس نئی چیز کو قریباً سبھی نے بڑی حد تک قبول فرمالیا ہے۔ اس لیے امید کی جاسکتی ہے کہ سیکنڈ لاسٹ پرافٹ کی پیدائش کے قرآنی واقعہ پر خوشیاں منانے کو بھی اسی طرح قبول کرلیا جائے گا۔

جہاں تک اس اعترض کا تعلق ہے کہ مسیحی سیدنا مسیحؑ کو خدا کا بیٹا قراردیتے ہیں لہٰذا اس ہستی کے دن کو سرے سے منایا ہی نہیں جانا چاہیے، یہ سوچ بھی درست نہیں ہے۔ خود مسیحیوں کے اندر بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو سیدنا مسیحؑ کو خدا کا بیٹا نہیں مانتے، ایسے بھی ہیں جو قدیمی تواریخ کے حوالوں سے ثابت کرتے ہیں کہ تب بندگان خدا کو خدا کے بچے قراردیاجاتا تھا۔ اور خدا کو مقدس باپ یعنی پیدا کرنے والا بولا جاتا تھا۔ جن لوگوں نے قدیمی آسمانی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے، وہ ان حقائق کی معونیت سے بہتر آگہی رکھتے ہیں۔ مختلف افراد یا گروہ اپنی اپنی پسندیدہ ہستیوں کے بارے میں اپنی اپنی سوچ کے مطابق تصورات رکھ سکتے ہیں۔ عظیم بدھا اور جیزز کے ماننے والے مختلف فرقے مختلف سوچوں کے حاملین ہوسکتے ہیں۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ بطور مسلمان آپ کے اپنے خیالات کیا ہیں؟مجب آپ اپنے چھوٹے موٹے پیروں فقیروں کے دن دیہاڑ یا عرس وغیرہ مناسکتے ہیں تو ان عظیم الشان شخصیات کے ایام اپنی ڈھب میں منانے پر کیا ایشو ہے؟ وہ عظیم شخصیات جو کروڑوں نہیں، اربوں انسانوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوئیں اور ان کی عقیدتوں کی مراکز ومحور ٹھہریں۔ ایشو صرف اتنا ہے کہ آپ اپنے اندر سے اپنی ”میں“ اور ”منافرت“ کو ختم کرتے ہوئے انسانیت اور مذاہبِ عالم سے محبت کرنا سیکھ لیں اور ہر عقیدے کی بزرگ شخصیت کا احترام کریں۔

رہ گئیں سالِ نو کی خوشیاں، ان پر بھلا کسی بھی باشعور انسان کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ اگر یہ عیسوی کیلنڈر ہے تو کیا ہوا؟ اوپر یہی تو بحث کی ہے کہ عیسیؑ بھی کوئی غیر نہیں ہمارے اپنے ہیں۔ اگر پھر بھی ہم بضد ہیں کہ نہیں ہم نے تو اسلامی کیلنڈر کے مطابق ہجری نئے سال کو منانا ہے تو ٹھیک ہے ضرور منائیے۔ مگر ایشو یہ ہے کہ ان اسلامی مہینوں اور تاریخوں کی مطابقت میں حساب کتاب کرتا کون ہے؟ کیا ہمارے مذہبی و دینی لوگ ان تواریخ کے مطابق اپنے کھاتے لکھتے ہیں؟ خود یہ لوگ اپنے بچوں کی شادیوں کے دن یا کارڈز وغیرہ تک عیسوی مہینوں کے مطابق بناتے ہیں۔، اور اب تو سعودی عرب نے بھی جہاں سے اسلامی مہینے سال یا کیلنڈر شروع ہوئے تھے، انہیں ترک کرتے ہوئے باضابطہ طور پر عیسوی کیلنڈر کو اپنالیا ہے ۔ ہمارے اخبارات والے اپنی پیشانی پر اول تاریخ اسلامی مہینوں کی لکھتے ہیں تو یہ محض نمائشی ہوتی ہے۔ سچائی یہ ہے کہ کوئی بھی اس کی مطابقت میں حساب کتاب نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی نئے اسلامی سال کو جوش و خروش یا خوشیوں کے ساتھ مناسکتا ہے۔ کیونکہ اسلامی ہجری کیلنڈر محرم سے شروع ہوتا ہے جو سیدنا حسینؑ کے دکھوں پر مبنی دس دن گردانے جاتے ہیں۔ اب تو اہل سنت نے سیدنا عمرکے لیے بھی یکم محرم کو یومِ شہادت و سوگ قراردے دیا ہے۔

لہٰذا اسلامی و عیسوی کیلنڈر کی بحث میں پڑنے کی بجائے آپ انہیں قمری و شمسی کیلنڈر گرادنتے ہوئے یہ کہیں کہ جس طرح چاند کو خدا نے تخلیق کیا ہے، اسی خدا نے سورج کو بھی بنایا ہے۔ بلکہ چاند سے زیادہ توانائی سورج میں ہے۔ تو کوئی ایشو نہیں ہونا چاہیے۔ شمسی کیلنڈر کی مطابقت میں ہیپی نیو ایئر کی خوشیاں منانے میں۔